کیا سردی اور سموگ کا 100 سالہ ریکارڈ ٹوٹے گا؟

ان دنوں ملک شدید سردی اور سموگ کی لپیٹ میں ہے۔ لوگوں میں یہ بحث بھی چل رہی ہے کہ کیا سردی اور سموگ کا 100 سالہ ریکارڈ ٹوٹے گا؟ محمکہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹرمحمد عرفان ورک کے مطابق بالعموم اکتوبر اور نومبر میں دھند اور دھوئیں سے مل کرسموگ بنتی ہے جو فضاء میں چھائی رہتی ہے۔ دسمبر میں جب بارشیں ہوتی ہیں تو سموگ ختم ہو جاتی ہے۔ اس دفعہ اس مہینے میں بارشیں نہیں ہوئیں لہٰذا فضاء میں اس کے ذرات موجود ہیں۔

بارشیں نہ ہونے سے شہری علاقوں میں بالعموم اور صنعتی علاقوں میں بالخصوص فضاء میں دھند کی ایک چادر سی تن گئی ہے۔ اس کے برعکس دیہات میں آپ کو سموگ نہیں ملے گی بلکہ وہاں صرف دھند ہو گی۔ اس کا سبب وہاںفضائی آلودگی نہ ہونا ہے۔

سموگ کے صحت پر اثرات

شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ماہر امراض سینہ ڈاکٹرمرتضیٰ کاظمی کا کہنا ہے کہ بعض اعضاء میں ایک جھلی ہوتی ہے جسے میوکس ممبرین کہتے ہیں۔ یہ ہماری آنکھوں، ناک، گلے اور سانس کے نظام سے متعلق دیگر جگہوں پر پائی جاتی ہے۔ سموگ کی وجہ سے یہ جھلی متاثر ہوتی ہے۔ اس سے آنکھوں میں جلن ہوتی ہے، ناک میں بھی جلن ہوتی ہے اور وہ بہتی بھی ہے۔ اس کے علاوہ گلے میں خراش ہوتی ہے جس سے درد بھی ہوتا ہے۔

جھلی کے متاثر ہونے سے سانس کے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔ جن لوگوں کو دمہ ہو وہ شدید ہو جاتا ہے۔ جن لوگوں کو دمہ نہ ہو، ان میں بھی دمے جیسا ردعمل دیکھنے میں آسکتا ہے۔ سانس کی نالیوں میں سوزش ہو جاتی ہے جس کا اظہار انفیکشن کی صورت میں ہوتا ہے۔ جن لوگوں کو دائمی دمے (COPD) کی شکایت ہو ان کا مسئلہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس کا سبب ناک کے گرد خالی جگہ یعنی سائی نس کا متاثر ہونا ہے۔

دھنددھواں کے بچوں پر اثرات

شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ماہر امراض بچگان ڈاکٹر منیراقبال ملک کا کہنا ہے کہ سموگ کی وجہ سے لاکھوں بچے متاثر ہو رہے ہیں۔ آپ کو یہ بات شاید عجیب لگے کہ بچوں پر اس کے اثرات ان کی پیدائش سے پہلے ہی مرتب ہونے لگتے ہیں۔ سموگ کے ماحول میں رہنے والی خواتین کے ہاں قبل از وقت یعنی پری میچور بچے پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے اعصاب ابھی پوری طرح سے تیار نہیں ہوئے ہوتے۔ وہ سانس بھی تیزی سے لیتے ہیں لہٰذا ان پر سموگ کا اثرزیادہ ہوتا ہے۔ انہیں سانس کے مسائل، دمہ، زکام، کان کے انفیکشن، گلے کے انفیکشن اور کھانسی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ انہیں بخار بھی ہو سکتا ہے جس کے سبب انہیں سکول سے چھٹیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔ یوں ان کی تعلیم کا بھی حرج ہوتا ہے۔

سردی کاریکارڈ ٹوٹنے کی خبریں

سوشل میڈیا میں ریکارڈ توڑ سردی کی افواہیں بھی پھیل رہی ہیں۔ کیا شدید سردی اور سموگ کا 100 سالہ ریکارڈ ٹوٹے گا؟ عرفان ورک کے مطابق اس میں کوئی صداقت نہیں اور محکمہ موسمیات نے اس کی باقاعدہ تردید جاری کی ہے۔

سوال یہ ہے کہ لوگوں میں یہ خیال کیوں پھیلا؟ اس پر یقین سے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ موسمیات کی سائنس میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کی اصطلاحات اکثر استعمال ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں کم سے کم درجہ حرارت نارمل زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے کم چل رہا ہے۔ اس کا سبب دھند کی پھیلی چادرکی وجہ سے سورج کا کم نکلنا ہے۔ اس وجہ سے دن کے اوقات میں سردی محسوس زیادہ ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں وہ زیادہ نہیں ہوتی۔

سموگ سے کیسے بچیں

ڈاکٹر مرتضیٰ کاظمی کے مطابق اگر محکمہ موسمیات نے زیادہ سموگ کی پیشگوئی کی ہے تو ان ہدایات پر عمل کریں:

  • کوشش کریں کہ آپ کو گھر سے باہر کم سے کم نکلنا پڑے۔
  • جب باہر جانا ہو تو ماسک، آئی پروٹیکٹرزاورگلاسز وغیرہ استعمال کریں۔
  • اگر ممکن ہو تو گھروں میں ائیر پیوریفائرز استعمال کریں۔
  • ہمیں معاشرے کے ایک ذمہ دار فرد کے طور پر بھی کچھ اقدامات کرنے چاہئیں۔ مثلاً ہمیں چاہئے کہ کھلی جگہوں پر کوڑا کم سے کم جلائیں۔ اس کے لئے حکومت کی منظوری سے کچھ جگہیں مخصوص کی جانی چاہئیں۔
  • گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کا استعمال بھی کم ہوناچاہئے ۔ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ دھواں اور خصوصاً خطرناک دھواں نہ چھوڑتی ہوں۔

سموگ سے کیسے بچیں- سردی اور سموگ-شفانیوز

بچوں کو سموگ سے بچائیں

اگر بچے کی پیدائش کو چار سے چھ ماہ کا عرصہ ہو گیا ہے تو اسے فلو کی ویکسین ضرور لگوائیں۔ اگر اسے پھیپھڑوں یا دل کا مسئلہ ہو تو ویکسین کو ہر گز نظرانداز نہ کریں۔ گھر سے باہر جاتے ہوئے ماسک استعمال کریں۔ زیادہ تر جراثیم ہاتھوں کے ذریعے پھیلتے ہیں لہٰذا صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھونے کی عادت اپنائیں۔ بند گھروں یا کمروں میں زیادہ دیر نہ رہیں، اس لئے کہ ایسی جگہوں پر جراثیم زیادہ ہوتے ہیں۔ سکولوں کے کلاس رومز میں بھی ہوا کی آمدورفت کا اچھا انتظام ہونا چاہئے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ان کی غذا کا خاص خیال رکھیں، اس لئے کہ اس کا قوت مدافعت کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ چھوٹے بچوں کو سردی سے بچائیں اور ان کا روم ٹمپریچر کم و بیش 26 ڈگری رکھیں۔ انہیں بہت زیادہ کپڑوں میں نہ لپیٹیں۔ بڑوں نے جتنے کپڑے پہن رکھے ہیں ان کے لئے اوسطاً ایک کا اضافہ کرلیں۔ ان کا سر ڈھانپ کر رکھیں اور انہیں پرہجوم جگہوں پر نہ لے کر جائیں۔

آلودہ دھند اور گھریلو ٹوٹکے

ڈاکٹرمرتضیٰ کاظمی کا کہنا ہے کہ سموگ کے برے اثرات سے بچنے کے لئے اپنا گلا صاف رکھیں۔ اس کے لئے نمک ملے نیم گرم پانی کے ساتھ غرارے کریں۔ جب باہر سے گھر آئیں تو آنکھیں اور ہاتھ اچھی طرح سے دھوئیں۔ اس طرح کی کچھ اور حفاظتی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔ اگر کچھ علامات ظاہر ہوں تو ٹوٹکے آزماتے رہنے کے بجائے ڈاکٹر کے پاس آئیں۔ اگر آپ  سانس کے مسائل کے شکار ہیں اور کچھ دوائیں لے رہے ہیں تو معالج ادویات یا ان کی ڈوزمیں کچھ ردوبدل کر دے گا۔

بارشیں کب ہوں گی

محکمہ موسمیات کے مطابق جنوری کے وسط تک تو بارشوں کی توقع نہیں۔ باقی مہینے میں بھی ہلکی پھلکی بارشیں ہی متوقع ہیں۔ جہاں تک مصنوعی بارشوں کا تعلق ہے تو اس کا فیصلہ حکومت کرتی ہے ۔ اس میں محکمہ موسمیات کا کردار محض پیشگوئی تک محدود ہے۔

تحریر: محمد زاہد ایوبی/ اقصیٰ نعیم

Vinkmag ad

Read Previous

بزرگوں کی یادداشت کو بہتر بنانے والی غذائیں

Read Next

Motion sickness

Leave a Reply

Most Popular