نگلنے کا عمل۔۔۔حیرت انگیز اور دلچسپ

181

انسانی جسم ایک الگ ہی دنیا ہے جس کے اندرونی اعضاءایک خاص نظام کے تحت اپنے افعال مخصوص وقت میں اور اتنی درستگی کے ساتھ انجام دیتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔اب لقمہ نگلنے ہی کو لیجئے جو بظاہر بہت ہی چھوٹااور معمولی کام معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے پیچھے قدرت نے جو نظام تشکیل دے رکھا ہے ‘ وہ بہت ہی زبردست ہے ۔ریٹائرڈ سرجن ڈاکٹر عبدالرحمٰن صاحبزادہ کی ایک دلچسپ اور معلوماتی تحریر

نگلنے کا عمل بظاہر معمولی لگتا ہے لیکن اگر اس کی جزئیات پر غور کیا جائے تو یہ اتنا غیرمعمولی ہے کہ معجزہ نما معلوم ہوتا ہے ۔مثلاًجب ہم نوالہ منہ میں ڈالتے ہیں تو اکثراوقات ہماری کسی خاص شعوری کوشش کے بغیر ہی اس کا سائز نپاتلا ہوتا ہے۔لقمے کے منہ میں داخل ہوتے ہی ذائقہ محسوس کرنے والی کونپلوں (taste buds) کی مدد سے دماغ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ جو نوالہ منہ میں ڈالاگیا ہے‘ وہ کھائے جانے کے قابل ہے یا نہیں۔اس کے ساتھ ساتھ وہ نوالے کے سائز کا بھی جائزہ لیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی غدود زیادہ مقدار میں لعاب دہن پیدا کرنے لگتے ہیں۔

دانت نوالے کو چباچباکرنرم اور چھوٹا کرتے ہیں اور لعاب دہن اس کا محلول سا بنا لیتا ہے۔لعاب میںموجود کیمیائی اجزاءکی مدد سے منہ میں ہی ہاضمے کا پہلا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔اگر آپ روٹی کا ایک نوالہ منہ میں ڈال کر اسے زیادہ دیر تک چباتے رہیں اورنہ نگلیں تو کچھ دیر بعد آپ کو اس میں مٹھاس محسوس ہونے لگے گی۔اس کا سبب یہ ہے کہ مخصوص خامرے(enzymes) آلو‘ چاول‘ گندم‘ مکئی‘ اناج اور پھلوں میں موجودپیچیدہ کاربوہائیڈریٹس کو چینی میں بدل دیتے ہےں۔

لقمہ جب پھسل کرزبان کے پچھلے حصے میں پہنچتا ہے تو وہاں موجود ڈھکن نما عضو (epiglottis)سانس کی نالی کے اوپر والے حصے(glottis)کو ڈھانپ لیتا ہے تاکہ نوالہ کہیں سانس کی نالی میں نہ چلا جائے ۔اگر یہ نظام ٹھیک طرح سے کام نہ کرے تو سانس کی نالی میں رکاوٹ کی وجہ سے فرد کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ نوالہ نگلتے وقت مختصر وقفے کے لئے ہماری سانس رک جاتی ہے جس کے دوران کھانے کو خوراک کی نالی میں داخل کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی منزل مقصود یعنی معدے تک پہنچ جائے ۔

نگلنے کے عمل میںایک اہم کام لقمے کو ناک میں داخل ہونے سے روکنابھی ہے جس میں تالو(palate) اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تالُو کا اگلا ٹھوس حصہ ہڈی سے بنا ہوتا ہے جبکہ پچھلا حصہ نرم اور لچکدارہوتا ہے۔ یہ دونوں حصے مل کر منہ کی چھت اور نتھنوں کا فرش بناتے ہیں۔لقمہ نگلے جانے کے دوران نرم تالو اوپر اٹھ جاتا ہے جس سے نتھنوں کا پچھلا حصہ بند ہوجاتا ہے۔ یوں لقمہ اپنے اصل راستے سے بھٹک کر نتھنوں کے پچھلے حصے میں داخل نہیں ہوپاتا اور سیدھا نیچے کی طرف یعنی خوراک کی نالی میں چلا جاتا ہے۔

یہاں پر دو اہم اضطراری افعال(reflexes) کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ ان میں سے ایک اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی چیز زبان کے پچھلے حصے کو چُھوجائے۔ اسے قے کا باعث بننے والا اضطراری فعل (gag reflex)کہاجاتا ہے۔ وہاں کسی چیز کے چھوجانے پر فوراً متلی ہوتی ہے اور اگریہ چیز تھوڑی دیر تک وہیں رہے تو اُلٹی آجاتی ہے۔ ڈینٹل کلینک میں ڈاکٹر یا اس کامعاون اگر حلق میں قدرے زیادہ پیچھے کی طرف کام کرنے لگے یااس حصے کو کسی آلے کی مددسے چُھولے تو ہمیںمتلی ہونے لگتی ہے۔ بعض لوگوں کو کھانے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے زیادہ یا کچھ غلط کھالیا ہے۔ ایسے میں وہ حلق میں انگلی یا کوئی اورچیز ڈال کراُلٹی کرلیتے ہیں۔

قدیم روم میں تھیٹر کا وہ راستہ جو نشست تک جاتا تھا ‘ وومٹوریم (Vomitorium) کہلاتا تھا۔اس لفظ کی ایک وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ رومی امراءدعوتوں میں خوب کھا تے اور شراب نوشی کرتے۔اس کے بعد وہ مین ہال کے ساتھ ملحق کمروں میں جا کر قے کر دیتے تاکہ ان کا معدہ خالی ہو جائے اوروہ پھر سے کھاپی سکیں ۔
دوسرا ضطراری فعل کھانسی (cough reflex)کا ہے جسے اُچھو آجانا بھی کہاجاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب لقمہ یا گھونٹ غلطی سے سانس کی نالی میں داخل ہوجائے۔ ایسے میں نالی کے پٹھے غیرارادی طور پر سکڑتے ہیں جس سے دم گھٹنے لگتا ہے اور گلے سے اضطراری طور پر عجیب سی آوازیں آنے لگتی ہیں۔آپریشن کے لئے بے ہوشی کے دوران سرجن کو یہی دھڑکا لگارہتا ہے کہ مریض کے معدے میں موجود کھانا یا تیزاب (جو قدرتی طور پر معدے میں بنتا ہے)کہیں سانس کی نالی کے راستے پھیپھڑوں میں نہ چلا جائے۔ اگر ایسا ہو جائے تو مریض کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔اس سے بچنے کے لئے مریض کو آپریشن سے قبل کئی گھنٹے خالی پیٹ رکھا جاتا ہے۔ آپریشن کے دوران اس کی سانس کی نالی میں ایک ٹیوب ڈال دی جاتی ہے جو آپریشن ختم ہونے پر مریض کے بیدار ہوتے وقت ہٹائی جاتی ہے۔ان احتیاطوں کے باوجود بعض اوقات پھیپھڑوں میں غذا یا پانی چلاجاتا ہے جس کے بہت ہی خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
اگرچہ ہمارا دماغ لاشعوری طور پر نوالے کے سائز کا بروقت اندازہ لگالیتا ہے لیکن بعض اوقات اور خاص طور پر بزرگ حضرات (جن کے اعصاب کمزور ہوتے ہیں اور مصنوعی دانتوں کی وجہ سے اُن کی چھونے کی حس بھی کمزور ہوچکی ہوتی ہے )غلطی سے گوشت کا بڑا ٹکڑا نگل لیتے ہیں جوگلے میں پھنس جاتا ہے ۔ ایسے میں وہ بے ہوش ہوسکتے ہیں اور اگر نوالے کو بروقت نہ نکالا جاسکے تو ان کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ ایسے واقعات چونکہ ریستورانوں میں زیادہ ہوتے ہیں‘ اس لئے اسے کیفے کورونری (cafe coronary)بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں یوں لگتا ہے جیسے مریض کو دل کا دورہ پڑگیا ہے لیکن گلابند ہونے کی وجہ سے وہ بات نہیں کرپا رہا۔
گلے میں پھنس جانے والے نوالے کو نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ مریض کے پیچھے کھڑے ہو کر ہاتھ کی مٹھی سے معدے پر اچانک کئی دفعہ دباﺅ ڈالا جائے۔ فرسٹ ایڈ کی کلاسوںمیں اکثر اوقات یہ طریقہ سکھایا جاتا ہے۔