قبل از وقت پیدائش (Premature Birth) اس وقت ہوتی ہے جب بچہ حمل کے 37ویں ہفتے سے پہلے پیدا ہو جائے۔ جتنی جلدی پیدائش ہو، صحت کے مسائل بھی اتنے ہی ہوتے ہیں۔ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو پیدائش کے وقت کے مطابق مختلف درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے، تاہم زیادہ تر کیسز حمل کے 34 سے 36 ہفتوں کے درمیان ہوتے ہیں۔
علامات
قبل از وقت پیدائش کے بچوں میں یہ علامات دیکھی جا سکتی ہیں:
٭ جسم کے مقابلے میں سر کا بڑا ہونا
٭ جسم کا چھوٹا ہونا اور چہرے کے نمایاں خدوخال
٭ جسم پر باریک بال ہونا
٭ جسم کا درجہ حرارت کم ہونا
٭ سانس لینے میں دشواری
٭ دودھ پینے یا خوراک لینے میں مشکل
خطرے کے عوامل
بعض حالات میں قبل از وقت پیدائش کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، مثلاً:
٭ جڑواں یا ایک سے زیادہ بچوں کا حمل
٭ دو حمل کے دوران چھ ماہ سے کم وقفہ
٭ پہلے اسقاط حمل یا قبل از وقت پیدائش کی تاریخ
٭ بانجھ پن کے علاج یا آئی وی ایف کے ذریعے حمل
٭ رحم، سرویکس یا نال کے مسائل
٭ بعض انفیکشنز، ہائی بلڈ پریشر یا ذیابیطس
٭ حمل کے دوران سگریٹ، منشیات یا الکحل کا استعمال
٭ 17 سال سے کم یا 35 سال سے زیادہ عمر میں حمل
٭ شدید ذہنی دباؤ یا جسمانی چوٹ
پیچیدگیاں
ابتدائی ہفتوں میں یہ مسائل ہو سکتے ہیں:
٭ سانس لینے میں دشواری
٭ دل کے مسائل یا کم بلڈ پریشر
٭ دماغ میں خون بہنا
٭ جسمانی درجہ حرارت کم ہونا
٭ ہاضمے کے مسائل
٭ خون کی کمی یا یرقان
٭ شوگر کی کمی اور میٹابولزم کے مسائل
٭ انفیکشن اور سیپسس کا خطرہ
وقت گزرنے کے ساتھ دماغی فالج، سیکھنے، بینائی، سماعت اور رویے سے متعلق مسائل، نیز دمہ یا دیگر دیرپا بیماریاں وغیرہ پیدا ہو سکتی ہیں۔ اچانک شیر خوار بچے کی موت کا سنڈروم (SIDS) کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
تشخیص
قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں صحت کی نگرانی کے لیے یہ ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:
٭ سانس، دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کی نگرانی
٭ جسم میں داخل اور خارج ہونے والے سیال کی پیمائش
٭ بلڈ ٹیسٹ
٭ دل کا الٹراساؤنڈ (ایکوکارڈیوگرافی)
٭ دماغ، پیٹ، جگر یا گردوں کا الٹراساؤنڈ
٭ آنکھوں کا معائنہ
علاج
این آئی سی یو میں بچے کی حالت کے مطابق یہ نگہداشت اور علاج کیے جا سکتے ہیں:
٭ انکیوبیٹر میں رکھنا یا کینگرو کیئر
٭ سانس، دل کی دھڑکن اور درجہ حرارت کی نگرانی
٭ سانس میں مدد کے لیے وینٹی لیٹر یا سی پی اے پی
٭ رگ یا فیڈنگ ٹیوب کے ذریعے خوراک اور سیال دینا
٭ یرقان کے لیے فوٹو تھیراپی
٭ ضرورت پڑنے پر بلڈ ٹرانسفیوژن
٭ پھیپھڑوں، دل یا انفیکشن کے لیے ادویات
٭ بعض مسائل کے لیے سرجری
بچہ اس وقت گھر جا سکتا ہے جب اس کی حالت مستحکم ہو، وہ دودھ پی سکے، وزن بڑھ رہا ہو اور کوئی بڑی صحت کی مشکل نہ ہو۔ بعض صورتوں میں گھر پر دیکھ بھال کے منصوبے کے ساتھ اسے پہلے بھی گھر بھیجا جا سکتا ہے۔
بچاؤ
قبل از وقت پیدائش کے خطرے کو کم کرنے کے لیے یہ اقدامات مددگار ہو سکتے ہیں:
٭ پروجیسٹرون سپلیمنٹس کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں
٭ ضرورت پڑنے پر سرویکس کی ٹانکے والی سرجری کروائیں
٭ حمل کے دوران ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کریں
٭ بغیر مشورے کے مکمل بیڈ ریسٹ سے گریز کریں
بعض خواتین میں مختصر سرویکس یا سابقہ قبل از وقت پیدائش کی صورت میں اضافی احتیاط یا علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
قبل از وقت پیدائش کس ہفتے سے پہلے ہونے کو کہتے ہیں؟
حمل کے 37 ہفتے مکمل ہونے سے پہلے ہونے والی پیدائش کو قبل از وقت پیدائش کہا جاتا ہے۔
کیا قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں سانس کے مسائل عام ہوتے ہیں؟
جی ہاں، کیونکہ ان کے پھیپھڑے مکمل طور پر نشوونما نہیں پاتے۔
کیا قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے بعد میں نارمل زندگی گزار سکتے ہیں؟
بہت سے بچے مناسب نگہداشت اور علاج کے بعد صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ کسی بھی طبی مسئلے یا چوٹ کی صورت میں مستند معالج سے مشورہ کریں۔