انار، اخروٹ اور بعض بیریز کھانے کے بعد جسم میں بننے والا یورولیتھن اے دل کی کارکردگی بہتر بنانے میں مددگار ہوسکتا ہے۔ جانوروں پر تجربات میں اس مرکب سے دل کی کارکردگی کے بعض پیمانوں میں 80 فیصد تک بہتری دیکھی گئی۔
کنگز کالج لندن کے محققین کی تحقیق سائنس ایڈوانسز میں شائع ہوئی۔ تحقیق میں دل کی ایک ایسی کمزوری پر توجہ دی گئی، جس میں دھڑکن کے بعد دل کے پٹھے پوری طرح آرام کی حالت میں نہیں آتے اور دل میں مناسب مقدار میں خون نہیں بھر پاتا۔
نتائج کے مطابق یورولیتھن اے نے دل کے پٹھوں کو بہتر طور پر ڈھیلا ہونے میں مدد دی۔ اس سے دل کے ٹشوز میں داغ بننے اور پٹھوں کے خلیوں کے غیر معمولی بڑھنے میں بھی کمی آئی۔
محققین نے انسانی سٹیم سیلز سے تیار کردہ دل کے ٹشوز پر بھی اس مرکب کو آزمایا۔ ان ٹشوز کے سکڑنے اور ڈھیلا ہونے کی صلاحیت میں بہتری دیکھی گئی۔
تحقیق کے سینئر مصنف ڈاکٹر جوزف برگائن کے مطابق نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم ابھی انسانوں میں اس کے فوائد ثابت نہیں ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دل کی کمزوری کا باقاعدہ علاج ضروری ہے۔