پینک اٹیک (Panic attack) شدید خوف یا گھبراہٹ کا اچانک دورہ ہے، جو کسی واضح خطرے کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ایسے دورے بار بار آئیں اور دوبارہ ہونے کا خوف مسلسل رہے، تو یہ کیفیت پینک ڈس آرڈر (Panic disorder) کہلاتی ہے۔ اگرچہ پینک اٹیک جان لیوا نہیں ہوتے، لیکن یہ روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے اس کیفیت کو مؤثر طریقے سے قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
علامات
پینک اٹیک کی علامات اچانک شروع ہو سکتی ہیں اور چند منٹ میں شدت اختیار کر لیتی ہیں۔ اس کی علامات یہ ہو سکتی ہیں:
٭ شدید خوف یا کسی خطرے کا احساس
٭ خود پر قابو کھونے یا موت کا خوف
٭ دل کی دھڑکن تیز ہونا
٭ زیادہ پسینہ آنا اور جسم کا کانپنا یا لرزنا
٭ سانس لینے یا گلے میں جکڑن محسوس ہونا
٭ سردی لگنا یا جسم میں گرمی کی لہر دوڑنا
٭ متلی یا پیٹ میں مروڑ
٭ سریا سینے میں درد
٭ چکر آنا یا بے ہوشی محسوس ہونا
٭ جسم میں سن ہونا یا جھنجھناہٹ
٭ خود سے یا اردگرد کے ماحول سے الگ محسوس کرنا
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
اگر پینک اٹیک کی علامات ظاہر ہوں تو جلد ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اگر علامات کی وجہ واضح نہ ہو، کیونکہ یہ بعض اوقات ہارٹ اٹیک جیسی دیگر سنگین بیماریوں سے بھی ملتی جلتی ہو سکتی ہیں، تو فوری طبی معائنہ کروائیں۔
وجوہات
یہ عوامل اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں:
٭ جینیاتی عوامل
٭ بعض طبی بیماریاں، جیسے دمہ یا دل کی بیماریاں
٭ شدید ذہنی دباؤ
٭ پینک کی علامات پر خوف یا بے چینی کے ساتھ ردعمل ظاہر کرنا
٭ تناؤ کی جسمانی علامات کے لیے زیادہ حساس مزاج
٭ دماغ کے بعض حصوں کے کام کرنے کے انداز میں تبدیلیاں
خطرے کے عوامل
پینک ڈس آرڈر عموماً ابتدائی جوانی میں شروع ہوتا ہے اور خواتین میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہ عوامل اس کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں:
٭ پینک اٹیک یا پینک ڈس آرڈر کی فیملی ہسٹری ہونا
٭ شدید ذہنی دباؤ، جیسے کسی قریبی شخص کی وفات یا سنگین بیماری
٭ کوئی تکلیف دہ واقعہ، جیسے جنسی زیادتی یا سنگین حادثہ
٭ زندگی میں بڑی تبدیلیاں، جیسے طلاق یا بچے کی پیدائش
٭ سگریٹ نوشی یا کیفین کا زیادہ استعمال
٭ بچپن میں جسمانی یا جنسی زیادتی کا سامنا کرنا
پیچیدگیاں
اگر پینک اٹیک یا پینک ڈس آرڈر کا علاج نہ کیا جائے تو یہ پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں:
٭ مخصوص چیزوں یا جگہوں کا خوف (فوبیا)
٭ بار بار طبی معائنے یا علاج کی ضرورت پڑنا
٭ سماجی حالات سے بچنا
٭ کام یا تعلیم میں مشکلات
٭ ڈپریشن، بے چینی یا دیگر ذہنی مسائل
٭ خودکشی کے خیالات یا خطرہ بڑھ جانا
٭ الکحل یا دیگر نشہ آور اشیا کا استعمال
٭ مالی مسائل
٭ ایگورافوبیا، یعنی ایسی جگہوں یا حالات سے بچنا جہاں مدد نہ ملنے یا نکل نہ سکنے کا خوف ہو
تشخیص
پینک اٹیک کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر علامات، میڈیکل ہسٹری اور جسمانی معائنہ کرتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر بلڈ ٹیسٹ، ای سی جی وغیرہ بھی کیے جا سکتے ہیں.
پینک ڈس آرڈر کی تشخیص کے لیے بار بار اچانک پینک اٹیک آنا، ایک ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک اگلے اٹیک کا خوف یا رویّے میں تبدیلی، اور علامات کی کوئی دوسری وجہ نہ ہونا دیکھی جاتی ہے۔
علاج
علاج میں سائیکوتھیراپی، خاص طور پر کاگنیٹو بیہیویئرل تھیراپی، اور بعض ادویات جیسے SSRIs، SNRIs اور بینزودیازیپینز شامل ہو سکتی ہیں۔ علامات میں بہتری آنے میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں، جبکہ حمل کے دوران دوا ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔
بچاؤ کے تدابیر
اس سے مکمل بچاؤ ممکن نہیں، لیکن بروقت علاج، علاج کے منصوبے پر عمل اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی علامات کو بڑھنے یا بار بار ہونے سے کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
پینک اٹیک کیا ہوتا ہے؟
یہ شدید خوف یا گھبراہٹ کا اچانک دورہ ہوتا ہے جس کے ساتھ جسمانی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
کیا پینک اٹیک جان لیوا ہوتا ہے؟
نہیں، لیکن اس کی علامات شدید محسوس ہو سکتی ہیں اور طبی معائنہ ضروری ہوتا ہے۔
کیا ہر پینک اٹیک کا مطلب پینک ڈس آرڈر ہوتا ہے؟
نہیں، ہر شخص جسے پینک اٹیک ہو، ضروری نہیں کہ اسے پینک ڈس آرڈر بھی ہو۔
نوٹ یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ اگر آپ کو بار بار شدید گھبراہٹ، سینے میں درد، سانس لینے میں دشواری یا پینک اٹیک جیسی علامات محسوس ہوں تو مستند ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے ضرور مشورہ کریں۔