خوف کا حملہ

0

خوف کا حملہ

خوف و ہراس کے حملے سے مراد شدید خوف یا بے چینی کا حملہ ہے۔ یہ اچانک ہوتا ہے اور اس کا دورانیہ بالعموم 30 سے60 منٹ تک ہوسکتا ہے۔ شروع شروع میں اس کا دورانیہ کم ہوتا ہے لیکن علاج نہ کروانے کی صورت میں مرض بڑھ سکتا ہے۔ پینک اٹیک کی صورت میں درج ذیل امور پر توجہ دیں

کرنے کے کام

٭ سب سے پہلے مریض کی حالت کو سمجھیں۔ اس کی حالت میں بہتری لانے کے لیے اس کی تکلیف کو محسوس کرناانتہائی ضروری ہے۔ مریض کو بتانا چاہئے کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ یہ حالت کسی حقیقی خطرے کی وجہ سے نہیں بلکہ جسم میں ہونے والے کیمیائی ری ایکشن کا نتیجہ ہے۔

٭ اگر وہ رونے یا چیخنے لگے تو اسے پرسکون رکھنے کی کوشش کریں۔ اس کے لئے مریض کا دھیان دوسری جانب مبذول کروانے کی کوشش کریں۔ اس کے جوتے اتروا کر اسے کسی اونچی جگہ مثلاً کرسی، صوفے یا سیڑھی وغیرہ پر کھڑے ہونے کی ہدایت کریں۔

٭اب اسے آہستہ آہستہ گہری سانس لینے کو کہیں۔ مریض کو یہ تصور کرناچاہئے کہ اس کا پورا جسم غبارے کی مانند آکسیجن سے بھر اور پھرخالی ہو رہا ہے۔ یہ عمل کرنے سے رفتہ رفتہ مرض کی علامات میں کمی آنے لگے گی۔

٭ اٹیک کی صورت میں ابتدائی طبی امداد کے بعد مریض کو مکمل طور صحت یاب ہونے میں مدد کے لیے ماہرِنفسیات سے رابطہ کریں۔ ایسے مریض کو اپنوں کی مدد کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئےان سے دور ہونے کی بجائے ان کا بھرپور ساتھ دیجئے۔

panic attack, first aid, things to do

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x