Vinkmag ad

معذور افراد کے لیے غذائی احتیاطیں

وہ لوگ ہیں جو کسی حادثے یا بیماری کے  باعث وہیل چیئر یا بستر تک محدود ہو جاتے ہیں ان کے لیے متحرک رہنا  مشکل ہو جاتا ہے۔ اے ڈی اے (Americans Disabilities Act) کے مطابق جسمانی یا ذہنی کمزوری زندگی کی ایک یا اس سے زائد سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کرے تو وہ جسمانی معذوری کہلاتی ہے۔ معذور افراد چونکہ متحرک نہیں رہ سکتے لہٰذا ان کی غذا ایسی ہونی چاہیے جو مطلوبہ غذائیت کے ساتھ اتنی ہی کیلوریز فراہم کرے جنہیں جلانے کے لیے مشقت کم سے کم کرنی پڑے۔

ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی ضروریات عام صحت مند انسانوں سے مختلف ہو جاتی ہیں۔ تاہم اس بارے میں آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے وہ عموماً زیادہ یا پھر ایسی چیزیں کھاتے ہیں جو وزن بڑھنے کا باعث بنتی ہیں۔

غذائی تبدیلیاں

معذور افراد کے بعض پٹھے سکڑ جاتے ہیں۔ اسی طرح فالتو چربی پیٹ کے گرد جمع ہو جاتی ہے اور وزن بڑھنے لگتا ہے۔ اسے کم کرنے کے لیے بالعموم کم خوراکی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اس سے وزن تو کم ہو جاتا ہے لیکن اہم غذائی اجزاء کی کمی کے سبب کئی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ ان سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ ماہر غذائیات کے مشورے سے مناسب غذائی پلان تیار کروائیں۔

عمومی طور پر غذا میں جو تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں ان میں بغیر چکنائی کے گوشت استعمال کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ بالائی اترا ہوا دودھ اور دہی کھائیں، دال، اَن چھنا آٹا، جو اور جئی استعمال کریں۔ گھی یا عام تیل کے بجائے زیتون اور سرسوں کا تیل استعمال کریں۔ چینی اور میدے سے بنی اشیاء، تلی ہوئی اور مرغن غذاؤں سے پرہیز کریں۔

پیشاب میں جلن

ان افراد میں مثانے میں انفیکشن کی شکایت بھی عام ہوتی ہے۔ اس کا ایک حل جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دینا ہے۔ اس کی کوئی خاص مقدار متعین کرنا مشکل ہے لیکن تیزابی مادوں کے اخراج اور انفیکشن سے محفوظ رہنے کے لیے روزانہ اوسطاً ڈیڑھ لیٹر پانی ضرور پیئیں۔ انفیکشن سے نجات کے لیے کرین بیری کا شربت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ پھر بھی ٹھیک نہ ہو تو ڈاکٹر کو دکھائیں۔

فریکچر سے بچاؤ

خصوصی افراد میں ہڈیوں کے بھربھرے پن اور نتیجتاً فریکچر کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس سے بچاؤ کے لیے کیلشیم، وٹامن ڈی اور فاسفورس کے حامل کھانے کھائیں۔ ڈاکٹر کے مشورے سے کیلشیم اور وٹامن ڈی کے سپلی منٹس بھی لیے جا سکتے ہیں۔

بستر پھوڑے سے بچاؤ

مستقلاً بستر پر رہنے سے کمر یا کولہے پر ورم بن جاتے ہیں ۔ان سے بچنے کے لیے وقفے وقفے سے مریض کی کروٹ بدلیں۔ اس کے ساتھ خوراک میں وٹامن سی شامل کریں۔ زنک زخم کو مندمل کرنے کے لیے ضروری ہے جسے سرخ گوشت اور کلیجی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہائپرٹینشن اور دل کے مریض اس کا استعمال ماہر غذائیات یا ڈاکٹر کے مشورے سے کریں۔

غذائی احتیاطوں کے علاوہ ان افراد کو ٹرینرر کی نگرانی میں ورزش کرنی چاہیے۔ تیراکی کے علاوہ وہیل چیئر باسکٹ بال، نیٹ بال اور بیڈ منٹن کی سہولت دستیاب ہو تو اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔ کسی وجہ سے ان کھیلوں میں حصہ نہ لے سکتے ہوں تو وہیل چیئر کو خود چلا کربھی فعال رہا جا سکتا ہے۔

تحریر: آمنہ عارف، ماہر غذائیات، لاہور

Vinkmag ad

Read Previous

کیا کرغزستان میں ڈاکٹر بننا ہی واحد آپشن ہے؟

Read Next

بجٹ میں ادویات پر 18 فیصد ٹیکس کی تجویز

Leave a Reply

Most Popular