• Home
  • بچوں کی پرورش
  • دودھ کے دانت، حفاظتی قطرے اور سنتیں: چھوٹی چھوٹی احتیاطیں، بڑے بڑے فوائد

دودھ کے دانت، حفاظتی قطرے اور سنتیں: چھوٹی چھوٹی احتیاطیں، بڑے بڑے فوائد

379

    کچھ دنوں سے عروہ بہت چڑ چڑ ہورہی تھی۔ وہ ہر چیز منہ ڈال کر چبانے کی کوشش کرتی اور خواہ مخواہ روتی رہتی۔اس کے جسم کا درجہ حرارت بھی معمول سے تھوڑازیادہ ہی تھا۔ میں تو اسے سنبھال سنبھال کر ہلکان ہوگئی۔شام کو میری کزن ڈاکٹر عظمیٰ فاروق مےرے پاس آئی جو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈی آئی خان میں دانتوں کی ڈاکٹرہےں ۔وہ عروہ کو دیکھتے ہی کہنے لگی:” ارے! اس کے تودانت نکلنے والے ہیں۔“ میں اس کی بات پر حیران رہ گئی‘ اس لئے کہ اسے اس بات کا کیسے پتہ چلاجو ہمیں بھی معلوم نہ تھی ۔ وہ ہنستے ہوئے کہنے لگی: ”جناب! ہمارا تو کام ہی یہی ہے…اور عروہ کی بے چینی کا سبب بھی اس کا دانت نکالناہی ہے۔“اب میں کیا کروں؟ میں نے بے چارگی سے پوچھاتو ڈاکٹر عظمیٰ کہنے لگیں:
” پوپلے منہ سے دانتوں سے بھرے منہ کا سفر بہت اہمیت رکھتا ہے‘ اس لئے کہ دانت انسانی جسم اور اس کی صحت کے لئے حفاظتی دروازوں کی حیثیت رکھتے ہیں ۔سچ ےہ ہے کہ یہ عرصہ ماں اور بچے‘ دونوں کے لئے خاصا مشکل ہوتا ہے۔“

دانتوں کی آمد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے نیچے کے درمیانی دودانت نکلتے ہیں۔ اس کے بعد اوپر کے دو درمیانی دانت اور پھر سائیڈ اور پیچھے کی طرف ایک ایک دانت نکلتا ہے ۔ انہوں نے بتاےا کہ دانت نکلنے کی کم سے کم عمر تین ماہ اور زیادہ سے زیادہ 12ماہ ہوسکتی ہے۔ عموماً پہلادانت چھ سے نوماہ کی عمر میں نکلتا ہے اور20دانتوں کا سیٹ مکمل ہونے میں تین سال لگ سکتے ہیں۔ اگر 18ویں ماہ تک دانت نہ نکلیں توماہر دندان سے رجوع کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر عظمیٰ نے مجھے اےک دلچسپ بات ےہ بتائی کہ بعض بچے ایک یا دو دانتوں کے ساتھ پید اہوتے ہیں ‘مگراےسابہت کم ہوتا ہے۔
ایک اور اہم بات ےہ ہے کہ بچوں کے دانتوں کی بنیاد ان کی پےدائش سے پہلے ہی پڑ جاتی ہے۔ اگر ان کی مائےں دوران حمل مناسب مقدار میں کیلشیم اورفلورائیڈ لیتی رہیں تو اس کامثبت اثر مستقبل میں بچوں کے دانتوں پربھی پڑتا ہے۔

دانت نکالنے کی علامات کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اےسے میں بچے کے چہرے‘رانوں یا جسم پر دھپڑ کے نشانات آ سکتے ہےں۔ مزید براں ان کے جبڑوں پر سوجن آ سکتی ہے‘ وہ کاٹنے کی کوشش کرتے ہےں‘ان میںچڑچڑاپن آ جاتاہے‘ وہ کھاناکھاناکم کر دےتے ہےں اور ان کے جسم کا درجہ حرارت بھی معمول سے تھوڑا بڑھ جاتا ہے۔ان تمام علامات کا بےک وقت ظاہر ہونا ضروری نہےں ہے۔ ایک غلط تصور یہ ہے کہ بچوں کا پیٹ دانت نکالنے کی وجہ سے خراب ہو جاتا ہے۔ پیٹ خراب ہونے کا تعلق دانت نکالنے سے نہیں بلکہ اس بات سے ہے کہ وہ ہر چیز منہ میں ڈال کر چبانے کی کوشش کرتا ہے۔ اےسے میں کچھ نہ کچھ جراثیم اس کے منہ میں چلے جاتے ہےں اورپیٹ کی خرابی کا باعث بنتے ہےں۔ اس سے اس کا معدہ تھوڑابہت خراب ہوسکتا ہے لےکن اس سے ڈائریا نہیں ہوسکتا۔اس عرصے میں بچے کومائع یانیم ٹھوس خوراک دیں۔

احتیاطی تدابیربتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماﺅں کو چاہئے کہ بچے کے جبڑوں کو ہاتھ سے کبھی نہ مَلیں۔ اس کی بجائے انہےں چاہئے کہ ایک صاف کپڑا نیم گرم پانی میں بھگوئےں اور اسے نچوڑ کرمسوڑھوں پر ملیں۔ اس سے مسوڑھوں پر خارش اور سوجن میں کمی واقع ہوگی۔دانت نکلنے کی عمر میں بچے کوسیب یا گاجر وغیرہ کے بڑے بڑے اور سخت ٹکڑے چبانے کے لئے دیں۔ ٹکڑے اتنے چھوٹے نہ ہوں جو حلق میں پھنس جائےں۔ اس کے علاوہ ململ کے کپڑے میں پسے ہوئے پھل یا سبزیاں ڈال کر ایک پوٹلی سی بنا کر بچے کو دے دیں۔اسے چبانے سے دانت نکلنے کا عمل آسان ہوجائے گااور اس کا رس بچے کو تقویت بھی دے گا۔ اس کے علاوہ ٹیدرز( teethers) بھی اس میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں‘ بشرطےکہ انہےں اچھی طرح دھو کر بچوں کو دےا جائے۔جب ایک ےادودانت نکل آئیں تو ماﺅں کو چاہیے کہ ہر کھانے کے بعد صاف نم کپڑے سے اسے صاف کریں۔

بھئی!مجھے توکھلانے اور دانت نکالنے کے حوالے سے گھر بیٹھے 80 فی صد معلومات مل گئیں۔ اسے کہتے ہےں ”کم خرچ‘بالا نشیں“۔ ان پر عمل کرنے سے عروہ کو بڑا فائدہ ہوا اور مجھے بھی بہت سکون ملا‘ اس لئے کہ بچے کی تکلیف سے سب سے زےادہ ماں ہی متاثر ہوتی ہے۔

حفاظتی قطرے اورٹیکے
اللہ کا شکر ہے کہ حسن ایک ذمہ دار باپ ثابت ہوئے ہیں ۔ وہ عروہ کوحفاظتی قطرے پلوانے اور ٹیکے لگوانے لے جاتے ہےں ۔میں تو کبھی ان کی تاریخیں بھول بھی جاتی ہوں لےکن انہےں وہ ہمیشہ یاد رہتی ہےں۔کل رات ہی میں ایک بین الاقوامی جریدے میں نوزائیدہ سے17ماہ تک بچوں پر ویکسین کے اثرات کے حوالے سے اےک مضمون پڑھ رہی تھی ۔ مضمون جرمنی میں کی گئی اےک تحقیق پر مبنی تھا جس میں ےہ نتیجہ اخذ کیا گےاتھا کہ ویکسین لگے بچوں میں کن پیڑے‘ ایگزیمااور کالی کھانسی وغیرہ جیسی بےمارےاں ان بچوں کے مقابلے میںنہ ہونے کے برابر تھےں جنہےں ویکسین نہےں لگوائی گئی۔ سرکاری ہسپتالوں میں ضروری وےکسےن مفت لگانے کا اہتمام ہوتاہے۔ اس لئے ماﺅں کو میرا مشورہ ہے کہ بچوں کو حفاظتی ٹےکوں کا کورس ضرور مکمل کروائےں تاکہ اگلی نسل کو ایک مضبوط اور صحت مند آغاز دےا جا سکے۔

بچے کی” سنتیں“
آج شام میری پرانی ماسی نسرین مجھ سے ملنے آئی تو خوشی خوشی بتانے لگی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے دوبیٹیوں کے بعداےک بیٹے سے نوازا ہے۔میں نے اسے مبارکباد دی اور پوچھا کہ وہ کتنے ماہ کا ہوگیاہے؟ تونسرین کہنے لگی”باجی! مُنا ماشاءاللہ سال بھر کاہوگیا ہے۔“میں نے پوچھا”اچھا! پھر اس کی سُنتیں (ختنہ)تو تم نے کروالی ہوں گی؟“ نسرین نے مایوسی سے کہا:”کہاں باجی! اس کا باپ نہیںمانتا۔کہتا ہے کہ وہ ابھی چھوٹا ہے‘اسے تکلیف ہوگی۔“میں نے اس سے کہاکہ اس کی سنتیں کرواﺅ۔بچہ جتنا چھوٹا ہوگا اس کا زخم بھی اتنا ہی جلد بھرے گا۔وہ اس پر رضامند ہو گئی اورکہنے لگی: ”باجی! میں آج ہی منے کے ابا کواس کا کہتی ہوں۔“

کچھ دن بعد میں عروہ کے چیک اَپ کیلئے گئی تو وہاں ڈاکٹر اسلم خان کھچی سے ملاقات ہوئی جو شیخ زید میڈیکل کمپلیکس لاہورمیں ماہرامراض اطفال کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ سُنتوں کے بارے میں ان سے پوچھ ہی لوں۔ سوال کے جواب میں انہوں نے بڑی تفصیل سے بتایا کہ اگر بچہ صحت مند ہو تو پیدائش کے پہلے 10 دنوں میں ہی اس کا ختنہ کروالینا چاہیے۔ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں‘ خصوصی بچوں یا طبی مسائل کے شکار بچوںکاختنہ ڈاکٹر کے مشورے کے بعد ہی کروانا چاہیے۔صحت مند بچوں کے سلسلے میں زیادہ دیرمناسب نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر اسلم کے بقول ختنے کے طرےقہ کار کا تعین بچے کی عمر کے مطابق کیا جاتا ہے۔پےدائش کے ابتدائی ہفتوں میں کئے جانے والے ختنوں کے لئے انستھےزیا کی ضرورت نہیں ہوتی‘ البتہ بڑی عمر کے بچوں میں انستھےزےامکمل بے ہوشی کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔اس عمل کو تکلیف دہ بننے سے روکنے کےلئے دوطرح کے انستھیزیا دیے جاسکتے ہیں۔پہلے طریقے میں متاثرہ حصے کو کریم کی مدد سے سُن کردیاجاتا ہے جبکہ دوسرے طریقے میں انجکشن کے ذریعے انستھزیا دیاجاتا ہے جو لمبے دورانیے کیلئے ہوتا ہے۔اس کا زخم بھرنے میں7 سے 10دن لگ سکتے ہیں۔پٹی کو بہت سختی سے نہ باندھیں اوراس کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔اس جگہ کو گرم پانی اور ہلکے صابن سے آہستگی سے صاف کریں۔اسے صاف کرنے کے لئے ڈائپر وائپس (Diaper Wipes) بالکل استعمال نہ کریں۔بچے کا پیشاب بھی اس کے زخم کے جلد مندمل کرنے میںمعاون ہوسکتا ہے۔کچھ لوگ زخم بھرنے کے لئے راکھ استعمال کرتے ہیں جو بالکل غلط ہے۔ختنے کے بعد بخار اور درد کم کرنے کے لئے ڈاکٹر ادویات اور مرہم دیتے ہیں۔اگر زخم بگڑ جائے اورخون جاری رہے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔