• Home
  • امراض
  • خوراک سے کریں قابو ۔۔۔ہائی بلڈپریشر

خوراک سے کریں قابو ۔۔۔ہائی بلڈپریشر

306

ہائی بلڈپریشر ایک خاموش دشمن ہے جو فرد کوچپکے سے اندر ہی اندر گھن کی طرح چاٹ جاتا ہے۔غذائی عادات میں مثبت تبدیلیوں سے اس سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے اور اگر ہو تو اسے کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے ۔ شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کی ڈائی ٹیشن مدیحہ زبیرکی ایک معلوماتی تحریر

”بلڈ پریشر“ کا لفظ سنتے ہی ذہن میں خوف کاتاثر پیدا ہوتا ہے‘حالانکہ یہ خون کا عام دباﺅ ہے جس کی بدولت وہ ہماری نالیوں میں گردش کرتا ہے۔ اگریہ نہ ہو تو خون حرکت نہ کر سکے اور ہم نہ صرف اپنے معمول کے کام نہ کر سکیں بلکہ زندہ بھی نہ رہ سکیں ۔تاہم یہ دباﺅ اگر ضرورت سے زیادہ یا کم ہو جائے تومختلف مسائل جنم لیتے ہیں۔

ہائی بلڈ پریشرکیا ہے
دل کا شدت سے دھڑکنا اور شریانوں میں خون کے خلاف مزاحمت‘ دونوں مل کر ہائی بلڈپریشر کو جنم دیتے ہیں۔ انسانی جسم کے لئے آئیڈیل بلڈپریشرکم و بیش120/80 (اوپر والا 120اور نیچے والا80) ہے۔ہائی بلڈپریشر یا ہائپرٹینشن کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ اگر کسی فرد کا بلڈپریشر/90 140 یا اس سے زیادہ آئے تواسے اس بیماری کا ”مریض “تصور کیا جائے گا۔
اس سے بچنے کے لیے جو غذائی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں‘ انہیں مختصراً ڈی اے ایس ایچ یعنی ڈیش (Dietary Approaches to Stop Hypertension) کہا جاتا ہے۔ یہ اس مسئلے کی روک تھام کے لئے ایک مستند اور قابل اعتبار طریقہ ہے جسے کوئی بھی فرد کسی بھی عمر میں اور زندگی بھر کے لئے اختیار کر سکتا ہے۔ اس کے تحت غذاءمیں سوڈیم کی مقدار اور بلڈ پریشر کو کم کرنے کے لئے کئی فائدہ مند اجزاءمثلاً پوٹاشیم، کیلشیم اور میگنیشیم وغیرہ کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہائی بلڈ پریشر کو عام غذاﺅں کی مدد سے بحال کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ان غذاﺅں کی تفصیل درج ذیل ہے:

کیا کھائیں‘ کیا نہ کھائیں
”ڈیش“ کھانوں میں پھلوں اور سبزیوں کی زیادہ اورچکنائی والی ڈیری مصنوعات اور گوشت کی کم مقدار استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ مثلاً سوڈیم کی زیادہ مقدار اس مسئلے کو بڑھا سکتی ہے اس لئے پوٹاشیم کے استعمال پر زور دیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ پھل اور سبزیاں پوٹاشیم کا بڑا ذریعہ ہیں۔ ےہ نہ صرف بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتی ہیں بلکہ ان کے استعمال سے دل کی دھڑکن کا توازن بھی ممکن ہو پاتا ہے۔
دیگرتجویز کردہ غذاو¿ںمیں چھلکے سمیت اناج، خشک میوہ جات، بیج، دالیں، چربی کے بغیر گوشت اوربالائی اتری ڈیری اشیاءشامل ہیں۔ ےہ تمام اشیاءمیگنیشیم سے بھرپور ہوتی ہیں جو شریانوں سے چربی کی اضافی تہہ کو ہٹانے اور بلڈپریشر کوتوازن میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے کہ پھلوں اورسبزیوں پر موجود چھلکے اپنے اندر فائبر کا بڑا ذخیرہ لئے ہوتے ہیں۔ اس لئے اگر جوسز کی بجائے پھلوں کو چھلکوں سمیت کھایا جائے تو ےہ زیادہ بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔

نمک کی مطلوبہ مقدار
جن لوگوں کو بلڈ پریشر کی شکایت ہو‘ انہیں 24گھنٹوں کے دوران چائے کے ایک چمچ سے زےادہ نمک استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔ خیال رہے کہ جن لوگوں کو ورم کی بیماری(edema) ہو‘ ان کے لیے نمک کی مجوزہ مقدار اور بھی کم ہے۔ وہ دن میں دہ سے زیادہ چائے کا آدھاچمچ نمک استعمال کر سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خاص خیال رکھنا ضروری ہے کہ ےہ مقدار خام صورت میں نہیں بلکہ پکی ہوئی چیزوںمیں ہو۔ کھانوں کے اوپر نمک چھڑک کر کھانا ایسے مریضوں کے لئے بے حد خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

چھوڑ ہی دیں توبہتر ہے
نمک بچپن سے ہی ہماری غذاءکا ایک اہم حصہ ہوتا ہے جبکہ ہائی بلڈپریشر یا ورم کی صورت میں اس کی مقدار کافی گھٹانا پڑتی ہے۔ مریض چونکہ تیز نمک والی چیزوں کے عادی ہوتے ہیں لہٰذا ان کے لئے نمک کم کرنا مشکل ہوتا ہے اور انہیں کھانے پھیکے لگنے لگتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برسوں پرانی عادت چھوڑ کراچانک پھیکے کھانوں کی طرف آنا ذرا مشکل ہے۔
ماہرینِ غذائیات کہتے ہیں کہ یہ مرض ہو یا نہ ہو‘ ہمیں چاہئے کہ کھانوں میں نمک کا استعمال کیا ہی نہ کریں تاکہ زبان اس کی عادی ہی نہ ہو۔کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ اس سے جسم میں سوڈیم کی کمی ہوجائے گی‘ اس لئے کہ وہ ہم اپنے کھانوں میں کسی نہ کسی صورت میں لے ہی رہے ہوتے ہیں۔ اس اضافی مقدارکی ضرورت نہیں۔ نمک کے ذائقے کی کمی کو مختلف مصالحہ جات ، ہربز، لیموں، لائم، سرکے اور نمک کے بغیر تیار کردہ چھڑکاو¿ کی چیزوں کے استعمال سے دور کیا جاسکتاہے۔
نمک کے بغیر کھانے کی عادت ڈالنے میں ایک سے دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔جن لوگوں نے اس پر عمل کیا‘ ان کا کہنا ہے کہ اب انہیں کھانے کا ذائقہ بالکل پہلے جیسا ہی لگتا ہے اور انہیں اس میں نمک کی کمی بالکل محسوس نہیں ہوتی۔
سوس (sause) کی بعض اقسام میں نمک بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذاکھانوں میں ان کا استعمال محدودکیا جائے۔ بہتر ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب ایسی سوس وغیرہ کی متبادل سوس خود گھرمیں ہی تیار کر لی جائیں جن میں نمک کا استعمال کم سے کم کیا جائے۔ ڈبے یا پیکٹ میں بند چیزوں مثلاً چنے، لوبیا اور پھلیوں وغیرہ کو اچھی طرح سے دھو کر استعمال کیا جائے تاکہ ان پر سے سوڈیم کی زیادہ مقدار کو گھٹایا جا سکے۔

پھل اور سبزیاں
ہائی بلڈپریشر کے مریضوں کو چاہئے کہ دن میں پھلوں اور سبزیوں کی چار سے پانچ ”سرونگز“ ضرور لیں۔ جس کا مطلب ہے کہ:
٭ ہرے پتوں والی سبزیوں کاایک کپ اور آدھا کپ پکی ہوئی سبزیاں یا آدھا کپ سبزیوں کا جوس پئیں۔
٭کوئی سا ایک درمیانے سائز کا پھل، ایک چوتھائی کپ خشک میوہ جات، آدھا کپ تازہ، فروزن یا کین کے پھل اور آدھا کپ پھلوں کا جوس پی لیں۔
پھلوں اور سبزیوں کی ےہ مقدارکولیسٹرول کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے جس سے خون کی نالیوں کے گرد اضافی چربی نہیں جمتی۔

پرہیز‘ علاج سے بہتر
کچھ چیزوں کے استعمال سے بلڈ پریشر زیادہ ہو سکتا ہے۔ ےہ چیزیں درج ذیل ہیں:
کیفین:  اس کا استعمال نہ صرف ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں بلکہ عام لوگوں میں بھی خون کا دباﺅ زیادہ کر سکتا ہے۔ ےہ دباﺅ کم وقت کے لئے مگر ڈرامائی طور پر بڑھتا ہے۔ اس چڑھاو¿ کی بنیادی وجہ آج تک معلوم نہیں ہو پائی۔ کچھ تحقیقات کے مطابق کیفین، جسم میں موجود ایک ہارمون کوبلاک کر دیتی ہے۔ یہ ہارمون خون کی شریانوںکو کھلا رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
تمباکو:  سگریٹ نوشی کی صورت میں ہو یا چبانے والا‘ تمباکو کے استعمال سے عارضی طور پر خون کا پریشر بڑھ جاتا ہے۔ اس میں موجود کیمیکلز خون کی نالیوں کو سکیڑنے کا باعث بنتے ہیں۔ اس سے کچھ وقت کے لئے بلڈ پریشر ہائی ہو جاتا ہے۔
سیر شدہ چکنائیاں:     سیرشدہ چکنائیوں، ٹرانس چکنائیوں (مثلاً گھی، مکھن یا مارجرین وغیرہ) اور دیگر چکنائیوںکو چھوڑنا صحت مند وزن کے لئے ضروری ہے۔ ان چکنائیوں کی بجائے اگر نباتاتی ذرائع سے حاصل ہونے والے تیل مثلاً اولیو آئل یا کینولا آئل وغیرہ کو استعمال کر لیا جائے تو صحت پربہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خشک میوہ جات جیسے بادام، اخروٹ اور پستے وغیرہ بھی اچھی چکنائی سے بھرپور ہوتے ہیں جو برے کو لیسٹرول کو شریانوں سے نکال کر بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہےں۔
یاد رکھئے کہ ہائی بلڈ پریشر میں دوا کے ساتھ ساتھ احتیاط اور پرہیز بہت ضروری ہے۔ احتیاط کیجئے تاکہ آپ اچھی صحت کے ساتھ زندگی کی خوشیوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔