مردوں میں بے اولا دی

3

انورعباس

اولادکی خواہش ہر شادی شدہ جوڑا رکھتا ہے لیکن کچھ لوگ اس نعمت سے محروم رہتے ہیں۔اورجب ایسا ہوتو عام طور پر کسی تحقیق کے بغیر ہی اس کا ذمہ دار عورت کوٹھہرا دیا جاتا ہے اور مردکی دوسری شادی کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ جب مختلف لیبارٹری ٹیسٹوں کے نتیجے میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس میں عورت کا کوئی ’’قصور‘‘ نہیں توپھر مرد حضرات کو اپنی فکر شروع ہو جاتی ہے ۔اگر وہ اس صلاحیت سے کسی وجہ سے محروم ہیں تویہ بھی دیگر بیماریوں کی طرح ایک بیماری ہی ہے اور اس کا عام بیماریوں کی طرح علاج ہونا چاہئے لیکن عملاً صورتحال بالکل مختلف ہے۔ہمارے معاشرے میں ایسے افرادکی’’ مردانگی‘‘ پرسوالیہ نشان اٹھائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ایسے افراد بہت سی نفسیاتی اور سماجی الجھنوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
اولاد کی صلاحیت سے محروم افراد اس بات کو چھپاتے ہیں کہ وہ اس کا علاج کروا رہے ہیں۔ وہ اس پر بات کرنے سے بھی جھجکتے ہیں اورپھران کی خاصی بڑی تعداد ڈا کٹر حضرات سے رجوع کرنے کی بجائے غیرمستند حکیموں یاجعلی ڈاکٹروںکے ہتھے چڑھ جاتی ہے اور نتیجتاً اپنی صحت اورجیب‘ دونوں سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس طرح کے روئیے اختیار کرنے میں پڑھے لکھے افراد بھی ان پڑھ لوگوں سے پیچھے نہیں۔ نام نہاد ’’ماہرین‘‘ انہیں جنسی قوت میں اضافہ کے ایسے نسخے اور ادویات فراہم کرتے ہیں جن میں سٹیرا ئیڈزکا
بے تحاشا استعمال کیا گیا ہوتا ہے۔اس طرح بہت سی صورتوں میں وہ گردے ناکارہ ہوجانے، مثانے میںپتھریاں بننے اور جنسی نظام کی خرابی سمیت متعدد مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ بے اولادی یا بانجھ پن سے متعلق اہم امور سے آگہی حاصل کی جائے ۔

بے اولادی کی وجوہات
جب شادی کے ایک برس بعد تک مانع حمل طریقے استعمال نہ کرنے کے با وجود اولاد نہ ہو تو اسے بے اولادی سے تعبیرکیا جاتاہے۔مردوں میں یہ صلاحیت نہ ہونے کی چند وجوہات درج ذیل ہیں:
٭مردوں میں اس کمزوری کی ایک وجہ ما دہ تولید یا سپرم میں مختلف طرح کی بے قا عدگیاں ہیں جن میں سپر م کا غیرمعمولی طور پر کم تعداد میں پیدا ہونا ہے ۔
٭ ازوسپرمیا (Azoospermia)نا می بیماری میں سپرم بنتے ہی نہیں جبکہ اولیگو سپر میا(Oligospermia) میںان کی تعداد بہت کم ہو جاتی ہے۔
٭ سپر م کی مخصوص شکل اسے مناسب رفتار سے حرکت کے قابل بناتی ہے اور وہ بیضے تک پہنچ پاتا ہے ۔اگر اس کی شکل، ڈھا نچے، اورحرکت کی رفتار میںعدم توازن ہو تواس کا بیضہ تک پہنچنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں حمل نہیں ٹھہرتا۔
٭بعض اوقات سپرم مردہ ہو جاتا ہے اور کچھ صورتوں میں وہ زندہ ہونے کے باوجود حرکت نہیں کر سکتا۔اس کیفیت کو نیکروزسپرمیا (Necrospermia)کہا جاتا ہے ۔یہ صورت حال بھی اولاد نہ ہونے کا سبب بنتی ہے۔
٭مردوں کے خصیوں (Testicles) میں سپرم بنا نے کی صلاحیت نہ ہونا بھی اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے لیکن ایسا بہت ہی کم صورتوں میںہوتا ہے ۔ اس کا بڑا سبب خصیوں پر لگنے والی کوئی شدید چوٹ ہو سکتی ہے۔
٭عام طور پرمرد کے ایک ملی لیٹر ما دہ تولید میں کم از کم ۲کروڑ سپرم موجو دہونے چاہئیں۔ اگریہ تعداد اس سے کم ہو جا ئے تو حمل کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

٭کچھ انفیکشن بھی مردوں کی اولاد پیدا کرنے کی صلا حیت کو متاثر کرتے ہیں۔ ان جنسی بیما ریوں میں Chalmydiaور Gonorrohea نمایاں ہیں۔یہ انفیکشن سپرم کے راستے میں خراشیں ڈال کر اس کی حرکت کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح کچھ بیماریوں میں خوردبینی جاندار سپرم کے ساتھ چپک کر اسے غیر فعال بنا دیتے ہیں۔
٭کچھ جلدی اور متعدی امراض تولیدی اعضا ء کواپنا نشانہ بنا تے ہیں ۔
با نچھ پن کی تشخیص
مردوں میںبے اولادی یا بانچھ پن کاپتہ چلانے کے لئے ڈاکٹر حضرات عموماً ما دہ تولید کا نمونہ حا صل کرکے اس کاٹیسٹ کرتے ہیں ۔ اس حوالے سے چند ٹیسٹ درج ذیل ہیں:
سپرم کا تجزیہ (Sperm Analysis):
اس ٹیسٹ میںمردوںکے ما دہ تولیدکی خاص مقدار (تقریبا دو سے چھ ملی لیٹر)حاصل کی جاتی ہے۔مخصوص طریقہ کار کے ذریعے ما دہ تولید کاحجم، اس میں موجود سپرم کی تعداد، ان کی صحت، شکل، حرکت اور اس طرح کی دیگر معلوما ت حاصل کی جاتی ہیں۔بہتر نتا ئج کے حصول کے لئے اس ٹیسٹ کوایک ہفتے کے وقفہ سے دو مرتبہ دہرایاجاتا ہے۔ ایک اور ٹیسٹ میں خون کے نمونے حا صل کرکے جنسی جینزسے متعلق معلوما ت اکٹھی کی جاتی ہیں۔
خصیوں کی بائیوپسی(Testicular Biopsy)
خصیوں کی با ئیوپسی کروانے کی نوبت بہت کم پیش آتی ہے۔ اس ٹیسٹ میں مریض کے ایک اور بعض اوقات دونوں خصیوںکی بافتوں(ٹشوز) کا ایک نمونہ حاصل کر کے مختلف قسم کے تجزیاتی عمل کئے جا تے ہیں۔ اس سے مریض کے خصیوں کے غیرمعمولی افعال اور ان میں کسی بھی قسم کی بے قا عدگی کا اندازہ لگا نے میں مدد ملتی ہے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of