جذام کے مریض‘توہین سے توقیرتک

12

عمران لاشاری
جذام کے مریضوں کے لئے بیش بہا خدمات انجام دینے پر’’پاکستانی مدرٹریسا‘‘ کا خطاب پانے والی ڈاکٹر رتھ فائو کی قبر کو پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل قبر کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ان کی قبر کے اوپر کیو آر کوڈ کنندہ کیا گیاہے جسے کسی بھی سمارٹ فون پر سکین کرنے سے ان کی زندگی اور خدمات سے متعلق گوگل دستاویزات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان معلومات میں ڈاکٹررتھ فائو کی دستاویزات، انہیں ملنے والے اعزازات ، ان کے انتقال پر ملکی اور غیر ملکی اہم شخصیات اور تنظیموں کے تعزیتی بیانات اور ان کی زندگی پر بنائی گئی خصوصی ویڈیوز شامل ہیں۔ڈاکٹر فائو گورا قبرستان کراچی میں دفن ہیں۔
ڈاکٹر رتھ فائو 9 ستمبر1929ء کو جرمنی میں پیدا ہوئیں۔ اپریل 1962ء میں انہوں نے کراچی میں جذام کے مریضوں کے علاج کے لئے ایک طبی مرکز قائم کیا جو’’میری ایڈیلیٹ لپروسی سینٹر‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ ان کی کوششوں سے پاکستان خطے میں اس بیماری پر قابو پانے والا پہلا ملک بن گیا۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ کا انتقال 10 اگست 2017کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں ہوا۔ گزشتہ برس سٹیٹ بنک نے ڈاکٹر فائو کی شاندار خدمات کے اعتراف میں 50 روپے کا یادگاری سکہ جاری کیاتھا جبکہ انہیں ان کی زندگی میں ہی ہلالِ امتیاز، نشانِ قائداعظم اور ہلالِ پاکستان کے اعزازات سے نوازا گیا۔

علاج کے تناظر میں جذام کا مرض طویل اورتکلیف دہ تاریخ رکھتا ہے ۔ موجود ہ دور میں اگر کسی خاص مرض کے شکار فردکو مخصوص کپڑے پہننے اور گلے میں گھنٹی باندھ کر چلنے کو کہا جائے تو وہ نہ صرف خود آگ بگولہ ہو جائے گا بلکہ امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کے نام پر بہت سے لوگ اس غیرمنصفانہ اقدام کے خلاف اس کا ساتھ دینے اُٹھ کھڑے ہوں گے ۔ اگر مریض کے ساتھ ذرا مزید سختی برتی جائے اور اسے حکم دیا جائے کہ وہ نہ صرف گلی کوچوں اور بازاروں میں آنے سے قبل لوگوں کو آواز لگا کراپنے مرض سے آگاہ کرے بلکہ ہوا کی سمت کوذہن میں رکھتے ہوئے سڑک کے ایک جانب چلے تو یقیناً وہ اس پر عمل کرنے کی بجائے مر جانا زیادہ پسند کرے گا۔آج کے دور میں اس طرح کی بات یقیناًعجیب ہی نہیں ناممکن سی لگے گی لیکن چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی میں جذام کے مریضوں کے ساتھ کچھ ایسا ہی نا روا سلو ک برتا جاتا ۔ اُنہیں نہ صرف گلے میں گھنٹیاں باند ھ کرچلنے کو کہا جاتابلکہ اُن کے لئے عام آبادیوں سے دورلیپرسیریم(leprosarium) نامی اقامت گاہیں قائم کی جاتیں جن میں وہ باقی معاشرے سے الگ تھلگ رہتے ۔ اگر اتفاقاً ان کے راستے میں کوئی صحت مند شخص آجاتا تواس صحت مند شخص کے لئے نہیں بلکہ مریض کے لئے لازم تھا کہ وہ اپنا راستہ بدل لے۔اس طرح کے متعصبانہ اور توہین آمیزرویے مریضوں کے علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے ۔

جذام یا کوڑھ کی تاریخ 9000سال سے بھی زیادہ قدیم ہے۔ مصر میں550ء قبل مسیح کی ایک دستاویز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ مرض چین ، مصر اور ہندوستان کی قدیم تہذیبوں میں بھی موجود تھا۔اسی طرح ہندوستان میں دریافت ہونے والی 600سال قبل مسیح کی ایک تحریر میںبھی اس سے ملتی جلتی بیماری کا تذکرہ ملتا ہے اور گمان غالب یہی ہے کہ وہ جذام ہی کی کو ئی قسم یا شکل ہو گی ۔ اس بیماری سے یورپ بھی محفو ظ نہ رہا اور اس کی لپیٹ میں سب سے پہلے قدیم یونان آیا۔یہ وہ دور تھا جب سکندر اعظم کی افواج 62 ق م میں ہندوستان اور روم میں معرکہ آرائیوں کے بعد واپس پہنچی تھیں ۔اس کے بعد یہ مرض دنیا بھر میں نہایت سرعت سے پھیل گیا۔
نارورے اور آئس لینڈ مغربی یورپ کے وہ ممالک ہیں جہا ں کوڑھ کا مرض سنگین صورت اختیار کر گیاجس کے بعد وہاں کے طبی ماہرین نے اس مرض کی وجوہات جاننے کے لئے وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کردیں۔ 1854ء میں اس مرض کے لئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کا تقرر کیا گیا جس کا کام ملکی سطح پر کوڑھیوں کی رجسٹریشن کرنا تھااور ایسا انسانی تاریخ میں پہلی بار ہوا تھا۔طویل جدو جہد کے بعد ناروے کے ہی ایک طبی ماہر جی ایچ آرمرہینسن‘‘(Gerhard Armauer Hansen) نے صدیوں پرانے اس مرض کی حقیقت کو دنیا پرمنکشف کیا او ر بتایا کہ یہ مرض نہ تو موروثی ہے اور نہ ہی کسی گناہ کی پاداش میں نازل ہونے والا کوئی عذاب‘ بلکہ ایک جرثومے (Mycobacterium leprae)کی وجہ سے پھیلتا ہے ۔یہ جرثومہ تپ دق کے جراثیموں سے مشابہت رکھتا ہے اور جسم میں داخل ہو کر اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔ مرض کی ابتدائی علامات میں ہاتھ اور پائوں کا بے حس ہو جا نا شامل ہیں جس کے بعد ہاتھوں اور پائوں کی انگلیاں گل سڑ جاتی ہیں اور اگر مرض شدید ہوتو نا ک کی ہڈی میں سوراخ ہو جاتا ہے جو منہ تک چلا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں مریض نہ صرف بصارت سے محروم ہو جاتا ہے بلکہ اس کے جسم کے بہت سے اہم اعضاء بھی ناکارہ ہوجاتے ہیں۔اس مرض میں چونکہ مریض کے جسم کی ساخت اورحلیہ بگڑ جاتا ہے‘ اس لئے اسے خدائی غضب کا اظہار قراردیا جاتا رہا ہے۔
20ویں صدی کے اوائل میں دنیا بھر کے ڈاکٹر اس مرض کا علاج چل مکر ا( Chaulmoogra)تیل کے انجکشن سے کیا کرتے تھے۔ یہ علاج مریض کے لئے نہایت تکلیف دہ تھا جبکہ علاج میں کامیابی بھی جزوی ہوتی ۔1921ء میں امریکی پبلک ہیلتھ سروس نے ان مریضوں کے علاج کے لئے ایک ادارہ قائم کیا۔ اس کے علاوہ علاج میں مزید بہتر ی کے لئے ایک جدید لیبارٹری بھی قائم کی گئی ۔1941 ء میں ادارے نے اس مرض کے علاج کے لئے مختلف ادویات بھی تیار کیں۔1970ء میں ملٹی ڈرگ تھیراپی کا استعمال کیا گیاجسے تجرباتی بنیادوں پر مریضوں پر آزمایا گیا۔1981 ء میں عالمی ادارہ صحت نے اس کے لئے تین ادویات کے استعمال کی سفارش کی جن کے بہت مثبت نتائج سامنے آئے ۔ 1985ء میں اس کے مریضوں کی تعداد52لاکھ تھی جو 2015ء میں176176رہ گئی ہے۔یہ طے کیا گیا کہ اگر جذام کے مریضوں کی تعداد ایک فی 10000رہ جائے تو سمجھا جائے گا کہ اب یہ مرض صحت عامہ کے ایک بڑے مسئلے کے طور موجود نہیں رہا ۔ یہ ہدف 2000ء میں حاصل کر لیا گیا ۔
اس مرض کا اس طرح تیز اور مکمل علاج توممکن نہیں جیسا حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑخدا کے حکم سے پلک جھپکتے میں کر دیا کرتے تھے لیکن یہ مرض آسانی سے قابو میں آسکتا ہے‘ بشرطیکہ مریض اس کے علاج میں تاخیر سے کام نہ لے اور معاشرہ بھی اس حوالے سے اس کی مدد کرے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of