نفسیاتی مرض کے تحت چوری

6

ڈاکٹر فوادقیصر،سائیکاٹرسٹ
٭ السلام علیکم! میرا نام ظفر محمود ہے اورمیں گجرات کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ میرے والد صاحب واپڈا میں انجینئر تھے جنہوں نے میری تعلیم پر لاکھوں روپے خرچ کیے ہیں ۔ اُن کا اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے انہوں نے مجھے زندگی میں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی۔میں جس چیز کی خواہش کرتا‘ وہ اسے فوراً پوراکرتے ۔میں نے بھی ان کے لاڈ پیار کا کبھی ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا۔ تعلیمی میدان میں بھی ہمیشہ نمایاں کامیابی حاصل کی اور ان کی توقعات پرہمیشہ پورا اترا۔میں نے کم عمر ی میں ہی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میںاچھے اچھے پراجیکٹ مکمل کیے جس کی وجہ سے مجھے جلد ہی ایک سافٹ وئیر ہائوس میں ملازمت مل گئی۔ میں نے وہاں پوری ایمانداری سے کام کیالیکن خوب سے خوب تر کی تلاش بھی جاری رکھی۔ تلاشِ ملازمت کا یہ سلسلہ اس وقت ختم ہوا جب مجھے سپین میں سافٹ وئیرانجینئرنگ کی ملازمت ملی ۔ میں وہاں تیرہ برس تک رہا او رخودکو معاشی طور پر کافی حد تک مستحکم کرلیا ۔

ڈاکٹر صاحب! سپین میںرہتے ہوئے میرے اندر ایک عجیب سی عادات پید ا ہو گئی ۔ میں جب بھی‘ جہاں بھی کوئی چیز دیکھتا‘ میرے دل میں اسے چوری کرلینے کی شدید خواہش پیدا ہوجاتی ۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ میں نے یہ حرکت سپین کے بڑے یوٹیلٹی سٹوروں اور بک سٹالوں پر بھی کی۔میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ مجھے روپے پیسوں کی کوئی کمی نہیں ۔اگر چاہوں تو اس طرح کی چیزیںبا آسانی خرید سکتا ہوں لیکن چوری کرنے کی شدید طلب ہوتی ہے اور پھر رہا نہیں جاتا۔اس بری عادات کی وجہ سے مجھے ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑے اور ان دنوں میں پاکستان آیا ہوا ہوں۔ میں شادی شدہ ہوں اور میرے تین بیٹے ہیں ۔ وہ جب مجھ سے وطن واپس آنے کی وجہ پوچھتے ہیں تو میں شرم کے مارے ان سے کچھ کہہ نہیںپاتا ۔ میں انہیں اپنے اس فعل کے بارے میں بتانا بھی نہیں چاہتا ‘ اس لئے کہ وہ خود کو چور کے بچے سمجھ کر کسی نفسیاتی مرض میں مبتلا نہ ہو جائیں۔میں نے بہت سوچاکہ آخر میرے اندر یہ طلب کیو ں پیدا ہوتی ہے لیکن میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔
ایک روز اپنے دوست کے ساتھ شاپنگ کے لئے مارکیٹ گیاتو وہاں بھی اپنی عادات سے باز نہ آیا اور ایک کمپیوٹر شاپ سے مائوس چرا لیا۔ دوست نے مجھے ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا ۔ اس وقت تو اس نے مجھے کچھ نہ کہا لیکن بعد میں خوب برہمی کا اظہار کیا اور مجھ سے خفا ہو گیا۔ میں نے اسے اپنی کیفیت اور سپین سے واپس آنے کی وجہ کے بارے میں بتایا تو اسے بھی تشویش ہونے لگی۔ اس نے مجھے مشورہ دیا کہ کسی سائیکاٹرسٹ سے رابطہ کروں ۔

ڈاکٹر صاحب !میں آپ کے کلینک بھی آیا تھا لیکن مریضوں کی زیادتی اور آپ کے سخت شیڈول کی وجہ سے مجھے وقت نہ مل سکا۔ اس لئے اب آپ ’نفسیاتی گرہیں‘ کی وساطت سے اپنے مرض کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں۔ مجھے بتائیں کہ کیا یہ واقعی ایک نفسیاتی بیماری ہے ؟ اگر ایسا ہے تو اس کا علاج کیا ہے؟
٭٭وعلیکم السلام !محترم‘ خط لکھنے کا بہت بہت شکریہ۔ میں آ پ سے معذرت خواہ ہوں کہ آپ میرے کلینک آئے اورہماری ملاقات نہ ہو سکی۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ اس وقت ایک نفسیاتی مرض میں مبتلا ہیں جسے طبی اصطلاح میں Kleptomaniaیا جنونی چوری کہتے ہیں ۔ اس مرض کے باعث مریض میںچوری کرنے کی ناقابل مزاحمت تحریک پیدا ہوتی ہے۔جب مریض اس قسم کا کام کرتا ہے تو اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ غلط کام کرنے جا رہا ہے لیکن چوری نہ کرنے کی صورت میں اسے اضطراب اور ذہنی دبائو ہونے لگتا ہے ۔ اس کیفیت سے نکلنے کے لئے اسے مجبوراً چوری کرنا پڑتی ہے ۔یہ مرض کسی بھی عمر‘ جنس ‘معاشی حیثیت‘ شعبے یا پیشے سے تعلق رکھنے والے شخص کو لا حق ہو سکتا ہے۔اس کیفیت میں چوری کی جانے والی چیز کی قیمت چاہیے دو کوڑی کی ہی کیوں نہ ہو‘ مریض اسے چرانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ چھوٹی سی چیز ٹیلی ویژن کا ریمورٹ کنٹرول بھی ہو سکتا ہے اور کمپیوٹر کا مائوس بھی ۔
ایسے مریض چوری کرتے ہوئے آسانی سے پکڑے جاتے ہیں ‘ اس لئے کہ وہ کوئی پیشہ وارچور نہیں ہوتے بلکہ اپنے اندرکی ایک خاص تحریک کے سبب ایسا کرتے ہیں۔اگر وہ چوری کرتے ہوئے نہ پکڑے جائیں‘ تب بھی وقتی تسکین کے بعددوبارہ ذہنی دبائو میں چلے جاتے ہیں۔ اس مرض کے باعث فرد کو غذائی بے ترتیبی ((Eating Disorder اورشخصیت میں بگاڑ جیسے نفسیاتی مسائل کابھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ ایک قابل علاج مرض ہے۔اس سلسلے میں آپ کو فوری طور پر سائیکاٹرسٹ سے رابطہ کرنا چاہیے ۔مرض کے علاج میں سائیکوتھراپی اور میڈیسن کے استعمال کے ساتھ ساتھ آپ کو اپنی قوت ارادی کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of