• Home
  • Uncategorized
  • ڈاکٹر ظہیراحمد: آسماں تری لحد پہ شبنم افشانی کرے

ڈاکٹر ظہیراحمد: آسماں تری لحد پہ شبنم افشانی کرے

0

محمد زاہد ایوبی
آج اگر دنیا کے منظر نامے پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں حوصلہ افزاء پہلو کم اورحوصلہ شکن زیادہ نظر آتے ہیں۔بے لگام طاقتور قوتیں کمزوروں کوجینے کا حق دینے پر تیار نہیں۔ ان کے ملکوں پر قبضے کئے جا رہے ہیں‘ معیشتوں کو تباہ کیا جا رہا ہے اوران کی سیاسی و مذہبی اقدار کوکھلے عام تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ قومی سطح پرایک نظر ڈالیں تو مہنگائی‘ اقرباپروری‘ بدعنوانی‘ لوڈشیڈنگ‘ لاقانونیت‘ دہشت گردی‘ بیرونی مداخلت اورفرقہ واریت جیسے عفریت ہمیں گھیرے ہوئے ہیں جن سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ نوجوان باصلاحیت ہیں اور آگے بڑھنا چاہتے ہیں لیکن رشوت اور سفارش قدم قدم پران کا راستہ روکنے کیلئے کھڑے نظر آتے ہیں۔وہ مایوسی میں پوچھتے ہیں کہ جب ریاست ہی اپنا کام چھوڑ دے اور باڑ ہی گھاس کو کھانا شروع کر دے تو کوئی کیا کرسکتا ہے۔ وہ یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ حالات بہتر کرنے کی جدوجہد پیسے والوں‘ باثراور طاقتور لوگوں کا کام ہے جس میں عام آدمی کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا ۔ایسے میں مایوسی ان کے قدم جکڑ لیتی ہے۔ لیکن : ’’اگر عام آدمی بھی کچھ کر گزرنے کی ٹھان لے تو اپنے دائرہ عمل میں وہ بھی ایک تبدیلی لا سکتا ہے۔اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ اس کا دائرہ چھوٹا ہے یا بڑا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم میں سے ہر فرد اپنے آپ میں اور پھر اپنے گرد ایک ’سنٹر آف ایکسی لینس‘ پیدا کرنے کی کوشش کرے۔میں اپنے دائرے میں یہ کام کر رہاہوں اور حالات سے بالکل بھی مایوس نہیں ہوں۔ ‘‘شفاانٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد‘ تعمیرملت فائونڈیشن اور شفافائونڈیشن کے بانی ڈاکٹرظہیر احمد مرحوم گزشتہ برس 28ستمبر 2011ء کوایک تقریب میں یہ گفتگو کر رہے تھے کہ انہیں شدیدبرین ہیمبرج ہوا‘ انہوں نے کلمہ طیبہ پڑھا اور بے ہوش ہو گئے۔ انہیں ہسپتال منتقل کیا گیالیکن جانبرنہ ہو سکے اور سات اکتوبرکو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔وہ بھی اپنی ذات میں ایک ’’عام‘‘ لیکن حقیقت میں ’’اہم ‘‘آدمی تھے ۔ بہت سے لوگ انہیں محض ایک پروفیشنل‘ کاروباری آدمی اوراچھا منتظم سمجھتے ہیں جنہوں نے ’’کچھ‘‘ فلاحی کام بھی کیا۔ لیکن حقیقت میں وہ اس سے کہیں بڑی شخصیت تھے۔

ڈاکٹرظہیر کا بچپن کھیوڑہ کی کچی گلیوں میں بھاگتے دوڑتے گزرا:’’ لوگ بڑے فخر سے اپنے آپ کو قائدین اورراوین وغیرہ کہتے ہیںلیکن میں اپنے آپ کو ٹاٹئین کہتا ہوں‘ اس لئے کہ میں ٹاٹ سکول سے فارغ التحصیل ہوں۔مجھے میٹرک کے بعد کالج میں پہلی دفعہ کرسی پر بیٹھنا نصیب ہوا۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی میں داخلہ لیااور تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہیں تدریس کے شعبے کے ساتھ منسلک ہوگئے ۔ پھر امریکہ جانے کا خیال آیا :’’مجھے یہ بتاتے ہوئے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی کہ میرے پاس امریکہ جانے کیلئے جہاز کا کرایہ بھی نہ تھا۔ میرے والد نے لوگوں سے ادھار لے کر مجھے وہاں بھیجا اور وہاں پہنچ کر مجھے پہلی فکر یہ تھی کہ کسی طرح پیسے کما کر واپس بھیجوں تاکہ لوگوں کا ادھار واپس کیا جا سکے ۔‘‘

ماہ و سال گزرتے چلے گئے او ر وہ امریکہ میں ’’سیٹ ‘‘ہو گئے۔پھر انہیں یہ خیال ستانے لگا کہ واپس پاکستان جا کر کچھ کرنا چاہئے۔زندگی کے آخری سال ان کی شدید خواہش تھی کہ ان کے کاموں کو کتابی شکل دی جاسکے تاکہ ان کے اصل مقاصد اور رخ کو ’’ڈاکومنٹ‘‘ کیا جا سکے۔اس مقصد کیلئے انہوں نے شفانیوز کی ادارتی ٹیم کے ساتھ ابتدائی ملاقاتیں بھی کیں۔ ایسی ہی ایک ملاقات میں انہوں نے کہا:’’امریکہ میں قیام کے دوران میں سوچتا تھا کہ ملت کی نشاۃثانیہ کیلئے کچھ کرنا چاہئے۔ صحت کے شعبے سے وابستگی کی بنا پر ہم یہ کر سکتے تھے کہ اس شعبے میں مسلمانوں نے جو عظیم خدمات انجام دی ہیں‘ ان کے احیاء کی کوشش کی جائے ۔ اس کی ابتدائی صورت یہی ہو سکتی تھی کہ ہم ایک ہسپتال بنائیں جو اپنی مثال آپ ہو۔ہم نے اس کا نام ’’شفا ‘‘اس لئے رکھا کہ یہ لفظ قرآن میں موجودہے۔ لوگوں نے بہت کہا کہ اتائیوں اور نیم حکیموں نے اس لفظ کی مٹی پلید کر دی ہے لہٰذاآپ کوئی اور اچھا سا نام رکھ لیں لیکن میں نے انہیں جواب دیا کہ ہمیں اس لفظ کی حرمت کو واپس لانا ہے۔‘‘ ان کے دوستوں نے انہیں پاکستان آنے سے منع کیا اور کہا کہ وہاں آپ کو قدم قدم پرکرپٹ لوگوں کو رشوتیں دینا پڑیں گی اور کوئی آپ کو کام نہ کرنے دے گا۔ لیکن ان کے پایہ استقلال میں لغزش نہ آئی:’’ ہم نے طے کیا کہ کسی کو رشوت نہ دیں گے‘ خواہ ہمیں کتنا ہی انتظار کیوں نہ کرنا پڑے اور عملاً ایسا ہی ہوا۔ہمیں چھوٹے چھوٹے کاموں کیلئے ہفتوں نہیں ‘ مہینوں انتظار کرناپڑتالیکن میں نے اپنے ساتھیوں سے کہہ دیا کہ ہم اپنے اصول نہیں چھوڑیں گے ۔ان کے ایک دوست نے بتایا:’’ جب وہ بیوروکریسی کے ہتھکنڈوں سے مایوس ہوجاتے تو میں انہیں کہتا کہ ظہیر! تم ہمت نہ ہارنا۔ ایک وقت آئے گا جب بڑے بڑے منسٹر زتمہیں صرف ایک ٹیلی فون کال پر دستیاب ہوں گے۔ان کے دنیا سے جانے سے پہلے ایسا ہو چکا تھا۔‘‘
شفا انٹرنیشنل اگرچہ ایک کمرشل ادارہ ہے لیکن اس کی بدولت لوگوں کو ملک میں ہی علاج کی اچھی سہولیات بھی میسر آئیں جس کی وجہ سے ملک کا قیمتی زرمبادلہ بچانا ممکن ہوا۔شفا کی صورت میں ملک کو نہ صرف ایک اچھا ادارہ ملا بلکہ اس میں نگہداشت ِ صحت کے معیار نے دیگر اداروں پر بھی مثبت اثرات مرتب کئے۔شفاانٹرنیشنل کے تربیت یافتہ اور شفاکالج آف میڈیسن اور شفاکالج آف نرسنگ سے فارغ التحصیل بہت سے لوگ دیگرہسپتالوں میں بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹرصاحب کی خواہش تھی کہ صحت کی اعلیٰ سہولیات غریب لوگوں تک بھی پہنچائی جائیں۔اس مقصد کیلئے انہوں نے شفافائونڈیشن قائم کی جس کے تحت آج ہزاروں مریضوں کامفت یا رعایتی نرخوں پر علاج کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر ظہیر احمد یہ سمجھتے تھے کہ انہیں جو کچھ ملا‘ اس دیس کی بدولت ملا۔وہ اسے ایک قرض سمجھتے تھے جسے بہر طور ادا کرناضروری تھا۔ وہ کھیوڑہ میں اس سرکاری سکول کے پرنسپل سے ملے جہاں سے انہوں نے میٹرک کیا تھااوران سے پوچھا کہ میں سکول کیلئے کیا کر سکتاہوں۔ انہوں نے دو کمرے بنوا کر دینے کی درخواست کی جو انہوں نے پوری کردی۔ وہ تعلیم کے میدان میں مزیدکچھ کرناچاہتے تھے لہٰذا انہوں نے کھیوڑہ ہی میں ’’تعمیرملت‘‘کے نام سے ایک سکول شروع کیاجس نے بعد میں فائونڈیشن کی شکل اختیار کر لی۔آج تعمیرملت فائونڈیشن کے زیرسایہ بہت سے کمیونٹی پرائمری سکول‘ماڈل سکول اور ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کام کر رہے ہیں۔ڈاکٹر ظہیر پاکستان میں ایک اعلیٰ معیار کی یونیورسٹی بھی قائم کر نا چاہتے تھے جس کیلئے انہوں نے ان تھک محنت کی۔آج ان کی رحلت کے بعد شفاتعمیرملت یونیورسٹی حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ ملک و قوم کیلئے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں بعد از وفات ستارہ امتیاز سے نوازاگیا۔
وہ ایک عام انسان تھے جو نہ سونے کا چمچ لے کر پیداہوئے اور نہ کسی بڑے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ان کی زندگی محنت‘ دیانت‘ لگن اور جہد مسلسل سے عبارت تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کچھ اصول بنا رکھے تھے جن پروہ سختی سے کاربند تھے ۔ ان کی زندگی سے اگر کوئی سبق ملتا ہے تو وہ یہ ہے کہ ایک عام آدمی بھی اپنے دائرے میں تبدیلی لا سکتا ہے۔اور یہ کہ ظلمت ِ شب کا شکوہ کرتے رہنے سے کہیں بہتر ہے کہ اپنے حصے کی شمع کو روشن کیا جائے اورپھر اسے روشن رکھنے کی تدبیر کی جائے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of