• Home
  • Uncategorized
  • جذباتی اور جارحانہ روئیے کسی مسئلے کا حل نہیں : ثمینہ احمد

جذباتی اور جارحانہ روئیے کسی مسئلے کا حل نہیں : ثمینہ احمد

0

اکڑبکڑ‘ ٹال مٹول‘ الف نون اور گپ شپ ‘‘ جیسے پرمزاح ڈراموں کی ایک اہم کرداراور فیملی فرنٹ کی خالق ثمینہ احمد سے انٹرویو
پاکستان میں چھوٹی سکرین کا درخشاں ستارہ ثمینہ احمدکسی تعارف کی محتاج نہیں۔اکڑبکڑ‘ ٹال مٹول‘ الف نون اور گپ شپ جیسے نہایت معیاری پروگراموں میں ان کی پرفارمنس قابل دید بھی تھی اور قابل داد بھی ۔انہوںنے ۱۹۹۷ء میں ایک پروڈکشن کمپنی قائم کی جس کی شاندار تخلیق ’’فیملی فرنٹ‘‘ ناظرین میں بے حد مقبول ہوئی ۔اس کی ہر دلعزیزی کامنہ بولتا ثبوت اس کی ۱۵۰ قسطیں ہیں جن کا لوگ بے تابی سے انتظار کیا کرتے تھے ۔ آپ ۱۹۹۹ء کی بہترین ڈائریکٹر‘ اداکارہ اور مصنفہ کے طور پر پی ٹی وی ایوارڈ کی حق دار قرار پائیں۔ شفانیوز نے حفظانِ صحت کے تناظر میں اُن سے انٹرویو کیا جس کی تفصیل قارئین کی نذر ہے

انٹرویو: محمدزاہدایوبی‘ حلیمہ عظمت
٭آج کل اس بات پربہت زور دیا جارہا ہے کہ صحت مند رہنے کیلئے صحت مند طرزِزندگی اپنانا اشد ضروری ہے ۔ آپ کے نزدیک اس طرزِ زندگی میں کیا کیا چیزیں شامل ہیں؟
٭٭میرے نزدیک صحت مندطرزِ زندگی میں سب سے اہم چیز کھانے پینے کی صحت مند عادات ہیں ۔یہ ضروری ہے کہ ہم جو کچھ بھی کھائیں‘ وہ ہر حوالے سے متوازن ہونا چاہئے۔ ہمیں کھانوں میں چکنائیوں اور گھی وغیرہ کا استعمال کم کرنا اور کچی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بڑھانا چاہئے ۔اگرآپ کوعلم ہو کہ آپ کی غذا میں کتنی کیلوریز‘ کتنے وٹامنزاور کتنے معدنیات ہیں تو پھر آپ کیلئے اپنی غذا کو صحت مند اور متوازن بنانا آسان ہو جائے گا۔ اس طرح کی معلومات کیلئے انٹرنیٹ سے بھی مدد لی جا سکتی ہے‘ بازار میں غذائی چارٹ بھی باآسانی مل جاتے ہیں اور ماہرغذائیات سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔

٭ کچھ لوگ سمجھتے کہ جب تک دیسی گھی ‘ مکھن اور گوشت وافر مقدار میں نہ کھایاجائے‘ ’’صحت ‘‘ نہیں بن سکتی۔ اس پر آپ کا کیا تبصرہ ہے ؟
٭٭میں دیسی گھی ‘ مکھن اور گوشت وغیرہ کو غلط نہیں سمجھتی‘ اس لئے کہ گوشت میں پروٹین ہوتی ہے جو جسم کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے ۔اسی طرح میرا خیال ہے کہ دیسی گھی بھی صحت کیلئے برا نہیںبشرطیکہ اسے زیادہ مقدار میں استعمال نہ کیا جائے۔ہفتے میں ایک بار اور وہ بھی کم گھی میں کھانا پکا نے میں کوئی قباحت نہیں۔ان چیزوں کو متوازن انداز سے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے متبادل ڈھونڈنابھی ضروری ہے ۔مثال کے طور پرپروٹین گوشت کے علاوہ دالوں اور پھلیوں وغیرہ سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے ۔
کھانے کی طرح سونے اور ورزش کی زیادتی بھی فائدہ مند نہیں۔ہر شخص کواپنے قد کے حساب سے مناسب موزوںوزن معلوم ہونا چاہئے۔ انٹرنیٹ پر اس حوالے سے بھی چارٹ موجود ہیں اور وہ بازار سے بھی مل جاتے ہیں۔ اگر یہ وزن اس حد سے زیادہ ہو تو پھر اسے کنٹرول کرنے کیلئے اپنی خوراک اور ورزش پر توجہ دینی چاہئے ۔روزانہ آدھے گھنٹے کی واک یا ورزش سے دورانِ خون میں بھی بہتری آتی ہے ۔

٭یہ بتائیے کہ آپ اپنی صحت کا خیال کس طرح رکھتی ہیں؟
٭٭دوائیں کھا کر…۔(ہنستے ہوئے ) دراصل مجھے ہائی بلڈپریشر اورمعدے کی تیزابیت وغیرہ کے مسائل بھی ہیں لہٰذا مجھے اپنی غذاپر کنٹرول بھی رکھنا پڑتا ہے اور دوائیںبھی بروقت لینا پڑتی ہیں ۔میں باقاعدگی سے ورزش کیا کرتی تھی لیکن اب گھٹنے کی تکلیف کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتی‘ تاہم کوشش کرتی ہوں کہ ہفتے میں دو یا تین دفعہ واک ضرورکروں۔
٭کیاآپ اپنی صحت کیلئے کوئی خاص دیسی ٹوٹکہ بھی استعمال کرتی ہیں؟
٭٭مجھے کسی نے مشورہ دیاکہ روزانہ نہارمنہ کلونجی کا استعمال صحت کیلئے اچھا ہوتاہے۔کلونجی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کا علاج موجودہے ۔میں کچھ عرصے سے اسے باقاعدگی سے استعمال کر رہی ہوں اور اسے مفید پایا ہے ۔
٭یہ بتائیے کہ آپ کے نزدیک صحت کا سب سے بڑامسئلہ کیا ہے ؟
٭٭ہمارے ہسپتال مریضوں سے کھچا کھچ بھرے ہیں جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہاں بیماریوں کا تناسب اچھا خاصا ہے ۔میرا خیال ہے کہ تعلیم اور شعور کی کمی ان مسائل کی جڑ ہیں ۔ہمارے پاس مصدقہ معلومات نہیں ہوتیں اور اڑوس پڑوس سے جو مشورہ ملتا ہے ‘ اسے مان لیتے ہیں۔ ہم کبھی اس پر غور نہیں کرتے کہ ڈاکٹر صاحب ہمیں کون سی ادویات تجویز کئے جا رہے ہیں ۔اکثر عورتوں کی زبانی سنتے ہیں کہ ’’ڈاکٹر کول گئی ساں‘ انیں ٹیکا لا دِتا‘‘۔ہمارے ہاں ڈاکٹر سے سوالات پوچھنے کا رجحان نہیں جس کی بڑی وجہ تعلیم کی کمی ہے۔تعلیم میں بہتری لائے بغیر ہم صحت کے شعبے میں بھی کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے۔
٭ صحت کے تناظر میں آپ نوجوانوں کی کن عادات کو سب سے اچھا اور کن کو برا سمجھتی ہیں؟
٭٭نوجوانوںکی اچھی بات یہ ہے کہ وہ اپنی صحت کے معاملات سے آگاہ ہیں اورمیں اپنے اردگرد جن لوگوں کو جانتی ہوں‘ ان میں سے اکثر تندرست رہنے کیلئے جِم بھی جاتے ہیں۔ دوسری طرف ان کی کھانے پینے کی کچھ عادات غیر صحت مندانہ ہیں۔وہ رات کا کھانا بہت دیر سے کھاتے ہیں اور کئی کئی گھنٹے خالی پیٹ رہتے ہیں۔جوانی میں تو اس کے نقصانات کا پتہ نہیں چلتا لیکن ادھیڑ عمریا بڑھاپے میں اس کے برے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسا کلچر نہیں کہ لڑکیاں بھی جِم جا سکیں‘ ورنہ وہ بھی یقیناً چاہیں گی کہ اپنے آپ کو تندرست رکھنے اور جسم کو خوبصورت اور مضبوط بنانے کیلئے وہاں جائیں۔ اس کے باوجود میں بہت سی ایسی لڑکیوں کو جانتی ہوں جو جِم جاتی ہیں یا گھر پر ورزش کرتی ہیں۔ ان میں اپنے وزن کو کنٹرول کرنے کا رجحان بہت اچھاہے لیکن بہت زیادہ دبلا پتلا ہوناصحت مند رویہ نہیں ۔ بات وہی ہے کہ زیادتی کسی بھی چیز میں ہو‘ اچھی نہیں۔
٭آج گھریلو زندگیوں سے لے کر اجتماعی زندگیوں تک ہر طرف فرسٹریشن اور ڈپریشن کا دور دورہ ہے ۔ ان حالات میں خود کو پرسکون کیسے رکھا جا سکتا ہے ؟
٭٭ جب ملک میں ہر طرف بم پھٹ رہے ہوں تو فرسٹریشن اور ڈپریشن کیوں نہیں ہو گی اور کون ہے جو ان حالات میں خود کو خو ش رکھ سکے ۔آج ہر باشعور اور حساس شخص پریشان ہے اور اس پریشانی سے نکلنا بہت مشکل ہے۔ جب بجلی اور گیس بند ہوں اور مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہو تولوگوں سے یہ کہنا غیرفطری بات ہو گی کہ آپ پریشان نہ ہوں اور خوش رہیں۔میں تو خود ان دنوں بہت ڈپریشن میںہوں‘ لہٰذا یہ بتانے کی پوزیشن میں بالکل بھی نہیں کہ ایسے میں کیا کرنا چاہئے ۔
٭کیا آپ سمجھتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ قریبی تعلق ہمیں اندرونی طور پر مضبوط اورپرسکون کر کے ان حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا سکتا ہے ؟
٭٭اندرونی سکون حاصل کرکے اردگرد کے ماحول سے لاتعلق اور بے فکر ہو جانا مسئلے کا حل نہیں ۔میں نہیں سمجھتی کہ ہمیں آنکھیں بند کر کے اور ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا چاہئے اور توقع کرنی چاہئے کہ خدا سب کچھ ٹھیک کر دے گا۔اندرونی طاقت شاید یہی ہو سکتی ہے کہ ہم ہر چیز کو مثبت طور پر لیں‘ موجودہ حالات کو آزمائش سمجھیں اور امید رکھیں کہ یہ کڑا وقت گزر جائے گا۔ہمیں چاہئے کہ اپنے اندر خوداعتمادی پیدا کریں‘ اپنی قابلیت میں اضافہ کریں اوردوسروں پر انگلی اٹھانے کی بجائے جو کچھ کر سکتے ہیں‘ وہ لازماً کریں۔اندرونی طور پر ہم اسی وقت مضبوط ہوتے ہیں جب ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہیں ۔
٭آپ نے مزاحیہ اور سنجیدہ‘ دونوں طرح کے ڈراموں میں بھرپور کام کیا ہے۔ یہ بتائیے کہ کوئی سبق یا پیغام کسی طرح کے ڈرامے میں زیادہ موثر طور پر پہنچایا جا سکتا ہے ؟
٭٭اس حوالے سے ہمارے پاس بہت کم فیڈبیک آتا ہے‘ لہٰذا سائنسی بنیادوں پراس کا تجزیہ کرناخاصا مشکل ہے۔ میری نظر میں اس کیلئے پیغام نوعیت بھی اہم چیز ہے‘ اس لئے کہ کچھ باتیں مزاحیہ اور بالواسطہ انداز میں بہتر طور پر کہی جا سکتی ہیں جبکہ بعض باتیں بہت سنجیدہ ہوتی ہیں اور انہیںسنجیدگی سے کہنا ہی موثر ثابت ہوتا ہے ۔مثال کے طور پر منشیات کے استعمال‘ دہشت گردی اور ایڈز جیسے موضوعات پر اگر مزاحیہ انداز سے بات کی جائے تو اس کا اثر کم اور بعض صورتوں میں منفی بھی ہوسکتا ہے ۔
٭ صحت مندانہ عادات کو پروان چڑھانے میں الیکٹرانک میڈیاکا کردار کیسا ہے ؟
٭اس پر بھی چونکہ مستند تحقیق موجود نہیں ‘ لہٰذا میرے لئے یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے ۔ویسے میرا نہیں خیال کہ ڈراموں کے ذریعے کوئی منفی پیغام دیا جا رہا ہے ۔ڈرامے کہانیوں کی بنیاد پر بنتے ہیں جو اداس ‘ خوش کن یا سبق آموز ہو سکتی ہیں۔
٭بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ٹی وی ڈرامے ہمارے کلچر کیلئے خطرہ ہیں؟
٭٭ہمارا مذہب یا ثقافت اتنے کمزور نہیں کہ ٹی وی کی وجہ سے ٹوٹ کر بکھر جائیں ۔دوسری بات یہ ہے کہ کلچر ہوا میں تخلیق نہیں ہوتے اور نہ غاروں میں پنپتے ہیں۔ان میں بتدریج تبدیلیاں آتی ہیں اور ہمیں ان کو قبول کرنا ہوتا ہے ۔بہت سے لوگ ڈانس اور میوزک کو ہی کلچر سمجھتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ کلچر پورے طرزِ زندگی کا نام ہے جس میں ایک دوسرے سے محبت‘ بڑوں کا احترام سمیت سبھی اقدار آ جاتی ہیں اور میں نہیںسمجھتی کہ کوئی بھی ڈرامہ اچھی اقدار کوچھوڑنے کا سبق دیتا ہے ۔
٭ والدین اور بچوں میں بڑھتے ہوئے کمیونی کیشن گیپ کے بارے میں آپ کیا کہیں گی ؟
٭٭ اکثرگھروں میں بڑے افراد بچوں کو ہر وقت نصیحتیں کرتے رہتے ہیں اور آج کل کے بچے لیکچربازی کو بالکل پسند نہیں کرتے۔ ایسے میں والدین کو بالواسطہ طریقے اختیار کرنا چاہئیں ۔ انہیں چاہئے کہ بچوں کے سامنے مسائل پیش کریں اور ان سے حل پوچھیں۔ جب وہ جوابات دیں تو ان کا تجزیہ کرتے ہوئے بتائیں کہ وہ کیونکر ناقابل عمل ہیں۔آخر میںجب وہ ٹھیک نتیجے پر پہنچیں تواسے ان کے فیصلے کے طور پر پیش کریں۔ اس طرح یہ حل کوئی مسلط شدہ فیصلہ محسوس نہیں ہو گا‘ بچے خود کو بااختیار محسوس کریں گے اور فیصلے کرنا بھی سیکھیں گے ۔
٭آخر میںکوئی پیغام جو آپ شفانیوز کے قارئین کو دینا چاہیں؟
٭٭سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں اپنی غذا پرخصوصی توجہ دینی چاہئے ۔یہ معلوم کرنا چاہئے کہ جو خوراک ہم کھا رہے ہیں‘ اس کے اجزاء کیا ہیں اور اس میں کتنی کیلوریز موجود ہیں۔اس طرح ہماری خوراک متوازن ہو سکے گی۔بہت سے لوگ مہنگی خوارک کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے لیکن واضح رہے کہ متوازن غذا سے مراد مہنگی غذا ہرگز نہیں۔
میں نے محسوس کیا ہے کہ لوگوں میں دوسروں کے احترام کا جذبہ کم ہوتا جا رہا ہے ۔ لوگوں کو چاہئے کہ روزمرہ کے معالات میں جذباتی ہونے کی بجائے صبراور حوصلے سے کام لیا کریں‘ اس لئے کہ جذباتی اور جارحانہ روئیے توانائی ضائع کرنے کے علاوہ انہیں کچھ نہیں دے سکتے ۔ یہ نہ تو کسی مسئلے کا حل ہیں اور نہ ہی مہذب لوگوں کو زیب دیتے ہیں۔اس کے علاوہ دوسروں کو کچل کر آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے ۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of