جوڑوں کا درد (Joint pain) جوڑ میں ہونے والی تکلیف ہے جو بعض اوقات سوجن اور متاثرہ جگہ پر گرمائش کے احساس کے ساتھ جنم لیتی ہے۔ یہ درد بعض امراض کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔
اس درد کی سب سے بڑی وجہ ‘آرتھرائٹس’ یعنی گنٹھیا ہے، جس کی 100 سے زائد اقسام تشخیص کی جا چکی ہیں۔ درد معمولی نوعیت کا بھی ہو سکتا ہے جو صرف جسمانی مشقت کے بعد محسوس ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس کی شدت اتنی زیادہ ہو سکتی ہے کہ معمولی حرکت کرنا بھی محال ہو جائے۔
وجوہات
جوڑوں میں تکلیف کا باعث بننے والے عوامل درج ذیل ہیں:
٭ ہڈیوں کا کینسر
٭ ٹوٹی ہوئی ہڈی
٭ انفیکشن (آسٹیومائیلائٹس)
٭ گنٹھیا کی مختلف اقسام بشمول روماٹائیڈ آرتھرائٹس، آسٹیو آرتھرائٹس اور گاؤٹ
٭ میٹابولک مسائل، جیسے ہائپو تھائی رائیڈ ازم
٭ وائرل انفیکشنز مثلاً ہیپاٹائٹس بی اور سی
٭ پٹھوں اور ریشوں کی سوزش
٭ طویل مدتی امراض جیسے لوپس، لائم ڈیزیز وغیرہ
٭ بچوں میں ہونے والا مخصوص گنٹھیا
٭ خون کا کینسر (لیوکیمیا)
٭ پٹھوں یا ٹشوز کا کھچاؤ
ڈاکٹر سے رابطہ کب ضروری؟
درج ذیل علامات کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے:
٭ اگر جوڑ میں مسلسل سوجن اور سرخی برقرار رہے
٭ متاثرہ جوڑ کے گرد گرمائش اور چھونے پر درد محسوس ہو
٭ جوڑوں کے درد کے ساتھ بخار کی شکایت ہو
فوری طبی امداد حاصل کریں اگر:
٭ چوٹ لگنے کے بعد جوڑ کی ساخت بگڑ جائے
٭ آپ جوڑ کو حرکت دینے کے قابل نہ رہیں
٭ درد ناقابلِ برداشت ہو یا اچانک شدید سوجن ظاہر ہو
سیلف کیئر
معمولی درد سے نجات کے لیے ان طریقوں پر عمل کریں:
٭ عام دستیاب درد کش ادویات کا استعمال
٭ ایسی جسمانی حرکات سے پرہیز جو درد میں اضافے کا سبب بنیں
٭ متاثرہ جگہ پر دن میں تین سے چار بار 15 منٹ کے لیے برف سے ٹکور
٭ پٹھوں کے کھچاؤ کو کم کرنے اور دورانِ خون بہتر بنانے کے لیے گرم پانی سے غسل یا ہیٹنگ پیڈ کا استعمال
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔