Vinkmag ad

بچوں میں ریفلکس: دودھ یا خوراک کا واپس منہ میں آنا

Baby spitting up milk on mother's shoulder after feeding due to infant reflux

بچوں میں ریفلکس (Infant reflux) سے مراد دودھ یا خوراک کا معدے سے واپس غذائی نالی کے ذریعے منہ میں آ جانا ہے۔ اس کیفیت کو گیسٹرو ایسوفیجیل ریفلکس یا گرڈ (GERD) بھی کہا جاتا ہے۔ اگر بچہ خوش، مطمئن اور مناسب انداز میں بڑھ رہا ہو تو بالعموم فکر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ عمر بڑھنے کے ساتھ یہ مسئلہ خود ہی کم ہو جاتا ہے۔ البتہ 18 ماہ کی عمر کے بعد اس کا برقرار رہنا غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔

بعض اوقات ریفلکس کی وجہ سے بچے کا وزن نہیں بڑھتا یا اس کی نشوونما ہم عمر بچوں کے مقابلے میں سست ہو جاتی ہے۔ ایسی علامات کسی طبی مسئلے کی نشاندہی ہو سکتی ہیں۔

علامات

زیادہ تر صورتوں میں بچوں میں ریفلکس تشویش کا باعث نہیں بنتا۔ عموماً معدے کا تیزاب اتنا زیادہ نہیں ہوتا کہ وہ غذائی نالی یا گلے میں جلن پیدا کرے۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر بچے میں درج ذیل علامات ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں:

٭ بچے کا وزن مناسب انداز میں نہ بڑھ رہا ہو

٭ ہر بار زور سے قے آئے اور دودھ یا خوراک منہ سے تیزی سے باہر نکلے

٭ سبز یا پیلے رنگ کا مادہ منہ سے نکلے

٭ خون یا کافی کی تلچھٹ جیسا مواد قے میں آئے

٭ دودھ یا خوراک پینے سے انکار کرے

٭ پاخانے میں خون آئے

٭ سانس لینے میں دشواری ہو یا مسلسل کھانسی رہے

٭ چھ ماہ یا اس سے زیادہ عمر میں بار بار دودھ واپس آنا شروع ہو

٭ بچہ دودھ پینے کے بعد بہت زیادہ چڑچڑا ہو جائے

٭ غیر معمولی طور پر سست یا کمزور محسوس ہو

وجوہات

شیر خوار بچوں میں غذائی نالی اور معدے کے درمیان موجود پٹھوں پر مشتمل انگوٹھی نما عضو مکمل طور پر نشوونما نہیں پاتا۔ اس عضو کو لوئر ایسوفیجیل سفنکٹر (ایل ای ایس) کہا جاتا ہے۔ جب یہ مکمل مضبوط نہ ہو تو معدے کا مواد واپس غذائی نالی میں آ سکتا ہے۔

بعض اوقات بچوں میں ریفلکس درج ذیل زیادہ سنگین مسائل کی وجہ سے بھی ہوتا ہے:

٭ معدے کے تیزاب کا غذائی نالی کی اندرونی جھلی میں جلن اور نقصان پیدا کرنا

٭ پائلورک سٹینوسس، جس میں معدے سے خوراک کو چھوٹی آنت میں جانے دینے والا عضلاتی والو غیر معمولی طور پر موٹا ہو جاتا ہے۔ اس سے خوراک معدے میں پھنس جاتی ہے اور آگے نہیں جا پاتی

٭ خوراک کی عدم برداشت، بعض بچوں کو گائے کے دودھ میں موجود پروٹین سے حساسیت یا عدم برداشت ہوتی ہے

٭ ایوسینوفیلک ایسوفیجائٹس، یعنی خون کے خاص سفید خلیوں کی تعداد کا بڑھ جانا۔ یہ غذائی نالی کی اندرونی جھلی کو نقصان پہنچاتا ہے۔

٭ سینڈیفر سنڈروم، ایک نایاب پیچیدگی جس میں بچے کا سر غیر معمولی انداز میں جھکتا یا گھومتا ہے اور بعض حرکات دورے جیسی لگ سکتی ہیں۔ یہ گرڈ کی ایک نایاب پیچیدگی ہے۔

خطرے کے عوامل

بچوں میں ریفلکس عام ہے، لیکن درج ذیل عوامل اس کے امکانات بڑھا سکتے ہیں:

٭ بچے کی وقت سے پہلے پیدائش

٭ پھیپھڑوں کی بیماریاں، جیسے سسٹک فائبروسس

٭ اعصابی نظام کی بیماریاں، جیسے سیریبرل پالسی (دماغی فالج)

٭ غذائی نالی کی پہلے سے کی گئی سرجری

پیچیدگیاں

زیادہ تر بچوں میں ریفلکس خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے اور عموماً کوئی پیچیدگی پیدا نہیں کرتا

اگر بچے کو گرڈ ہو تو اس کی جسمانی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔ کچھ تحقیقات کے مطابق جن بچوں کو بار بار دودھ واپس آنے کا مسئلہ ہو، ان میں بعد کی عمر میں گرڈ ہونے کا امکان نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے۔

تشخیص

اگر بچہ معمول کے مطابق بڑھ رہا ہو اور خوش نظر آتا ہو تو عموماً کسی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بعض صورتوں میں ڈاکٹر درج ذیل ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے:

٭ الٹراساؤنڈ، پائلورک سٹینوسس کی تشخیص

٭ خون اور پیشاب کے ٹیسٹ، وزن نہ بڑھنے یا بار بار قے کی ممکنہ وجوہات کی جانچ

٭ غذائی نالی میں تیزابیت کی پیمائش

٭ ایکس رے، ہاضمے کی نالی میں رکاوٹ یا دیگر مسائل کی جانچ

٭ اوپری اینڈوسکوپی، کیمرے کی مدد سے غذائی نالی، معدے اور اوپری ہاضمے کا معائنہ

علاج

زیادہ تر بچوں میں صرف دودھ پلانے کے طریقے میں چند تبدیلیاں کرنے سے ریفلکس خود ہی بہتر ہو جاتا ہے۔

ادویات

ڈاکٹر معدے کی تیزابیت کم کرنے والی دوا تجویز کر سکتا ہے، اگر:

٭ بچے کا وزن مناسب طور پر نہ بڑھ رہا ہو

٭ بچہ دودھ پینے سے انکار کرتا ہو

٭ اس کی غذائی نالی میں سوزش یا جلن ہو

٭ طویل عرصے سے دمے کا مریض ہو

سرجری

سرجری بہت ہی کم صورتوں میں کی جاتی ہے۔ جب تمام طریقے استعمال کرنے کے باوجود بچے کا وزن مناسب نہ بڑھ رہا ہو یا ریفلکس کی وجہ سے سانس لینے میں شدید دشواری ہو۔ اس سرجری میں ایل ای ایس کو مضبوط کیا جاتا ہے۔

گھریلو احتیاط اور طرزِ زندگی

ریفلکس کم کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات مفید ہیں:

٭ بچے کو سیدھی حالت میں دودھ پلائیں۔ دودھ پلانے کے بعد تقریباً 30 منٹ تک اسے سیدھا یا بیٹھنے جیسی حالت میں رکھیں

٭ بچے کو ایک وقت میں کم مقدار میں دودھ پلائیں، لیکن زیادہ بار دودھ دیں۔ اگر بوتل سے دودھ پلا رہے ہیں تو معمول سے تھوڑا کم دودھ دیں۔ اگر ماں کا دودھ پلا رہی ہیں تو ہر بار دودھ پلانے کا دورانیہ کچھ کم کریں

٭ دودھ پلانے کے دوران اور بعد میں بچے کو ڈکار ضرور دلوائیں

٭ بچے کو ہمیشہ کمر کے بل سلائیں۔ ریفلکس ہونے کے باوجود زیادہ تر بچوں کے لیے یہی محفوظ پوزیشن ہے

یاد رکھیں کہ بچوں میں ریفلکس عموماً تشویش کی بات نہیں ہوتی۔ اکثر یہ عمر کے ساتھ خود ہی ختم ہو جاتا ہے۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا بچوں میں دودھ واپس آنا معمول کی بات ہے؟

جی ہاں، اگر بچہ صحت مند ہو، اس کا وزن بڑھ رہا ہو اور وہ بالعموم خوش ہو تو یہ اکثر معمول کی بات ہوتی ہے۔

بچوں میں ریفلکس کب ختم ہوتا ہے؟

زیادہ تر بچوں میں یہ مسئلہ ایک سال کے اندر کافی حد تک کم ہو جاتا ہے اور عموماً 18 ماہ کی عمر تک ختم ہو جاتا ہے۔

کیا ریفلکس کی وجہ سے بچے کو ہر بار دوا دینی چاہیے؟

نہیں، زیادہ تر بچوں کو دوا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دوا صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر دی جانی چاہیے۔

کیا ریفلکس والے بچے کو پیٹ کے بل سلانا چاہیے؟

نہیں، ریفلکس ہونے کے باوجود بچے کو کمر کے بل سلانا ہی سب سے محفوظ طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=pediatric-gastroenterologist

Vinkmag ad

Read Previous

ایڈرینالیکٹومی: ایڈرینل غدود نکالنے کی سرجری

Read Next

لیوکوسائٹوسس: خون کے سفید خلیے بڑھ جانا

Leave a Reply

Most Popular