خون میں آکسیجن کی کم سطح کو ہائپوکسیمیا (Hypoxemia) کہا جاتا ہے۔ ہائپوکسیمیا خود کوئی بیماری نہیں بلکہ سانس یا خون کی گردش سے جڑے کسی مسئلے کی علامت ہوتا ہے۔
علامات
ہائپوکسیمیا یہ مسائل پیدا کر سکتا ہے:
٭ سانس کی کمی، یعنی پھولنا
٭ تیز سانس آنا
٭ دل کی دھڑکن تیز ہونا یا دل کا زور سے دھڑکنا
٭ واضح انداز میں سوچنے میں دشواری
شریانوں میں آکسیجن کی صحت مند سطح تقریباً 75 سے 100 ملی میٹر مرکری (mm Hg) ہوتی ہے۔ ڈاکٹر آکسیجن اور فاضل گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار جانچنے کے لیے شریان سے خون کا نمونہ لیتے ہیں۔ اس ٹیسٹ کو آرٹیریل بلڈ گیس ٹیسٹ کہا جاتا ہے۔
زیادہ تر صورتوں میں پہلے خون کے سرخ خلیوں میں موجود آکسیجن کی مقدار دیکھی جاتی ہے، جسے ”آکسیجن سیچوریشن” کہا جاتا ہے۔ انگلی پر لگایا جانے والا طبی آلہ (پلس آکسی میٹر) آکسیجن سیچوریشن کی پیمائش کرتا ہے۔ صحت مند پلس آکسی میٹر کی ویلیوز 95 سے 100 فیصد تک ہوتی ہیں۔ 90 فیصد سے کم سطح خطرناک سمجھی جاتی ہے۔
وجوہات
ہائپوکسیمیا کی ممکنہ وجوہات یہ ہو سکتی ہیں:
٭ ہوا میں آکسیجن کی کمی، جیسے سطح سمندر سے بہت زیادہ بلندی پر ہونا
٭ سانس کا بہت آہستہ یا ہلکا ہونا، جس سے آکسیجن کی ضرورت پوری نہ ہو
٭ پھیپھڑوں تک خون یا آکسیجن کی ناکافی فراہمی
٭ آکسیجن کے خون میں داخل ہونے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کوئی رکاوٹ
٭ دل میں خون کی روانی سے متعلق کوئی مسئلہ
٭ ہیموگلوبن نامی پروٹین میں تبدیلی، جو سرخ خلیوں میں آکسیجن لے کر جاتا ہے
خون یا خون کی روانی
٭ انیمیا – ایسی کیفیت جس میں خو کے صحت مند سرخ خلیوں کی کمی کے باعث جسم کو مناسب آکسیجن نہیں ملتی
٭ بچوں میں دل کی پیدائشی خرابیاں
٭ بالغوں میں دل کی پیدائشی بیماری – دل کی ساخت کے ایک یا زیادہ مسائل جو پیدائش سے ہی موجود ہوں
سانس سے متعلق بیماریاں
٭ اے آر ڈی ایس -پھیپھڑوں میں پانی جمع ہونے سے سانس کی شدید کمی
٭ کاربن مونو آکسائیڈ زہر
٭ سی او پی ڈی – پھیپھڑوں سے ہوا کے بہاؤ کو روکتی ہے
٭ گیلین بیری سنڈروم – ایسی بیماری جس میں جسم کا مدافعتی نظام اعصاب پر حملہ کرتا ہے
٭ انٹرسٹیشل لَنگ ڈیزیز (Interstitial lung disease) – بیماریوں کا بڑا مجموعہ جو پھیپھڑوں میں داغ پیدا کرتا ہے
٭ مایاستھینیا گریوس (Myasthenia gravis) – ایسی بیماری جو اُن پٹھوں کو کمزور کرتی ہے جنہیں انسان اپنی مرضی سے حرکت دیتا ہے
٭ نمونیا – ایک یا دونوں پھیپھڑوں کا انفیکشن
٭ نیوموتھوریکس (Pneumothorax) – پھیپھڑے کا سکڑ جانا
٭ پلمونری ایڈیما – پھیپھڑوں میں اضافی پانی جمع ہونا
٭ پلمونری ایمبولزم -پھیپھڑوں کی شریان میں خون کا کلاٹ
٭ پلمونری فائبروسس – ایسی کیفیت جس میں پھیپھڑوں کا ٹشو خراب اور داغ دار ہو جاتا ہے
٭ سیپسس – جان لیوا کیفیت جس میں مدافعتی نظام انفیکشن پر غیر معمولی شدید ردعمل دیتا ہے
٭ سلیپ اپنیا- ایسی حالت جس میں نیند کے دوران سانس بار بار رکتی اور چلتی رہتی ہے
کچھ دوائیں سانس کو آہستہ اور ہلکا کر سکتی ہیں، جس سے ہائپوکسیمیا پیدا ہو سکتا ہے۔ ان میں بعض سکون آور درد کش ادویات شامل ہیں۔ سرجری اور دیگر طبی عمل کے دوران درد روکنے والی ادویات، جنہیں اینستھیٹکس کہا جاتا ہے، بھی ہائپوکسیمیا کا سبب بن سکتی ہیں۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
آپ کو ہائپوکسیمیا کا علم اس وقت ہو سکتا ہے جب آپ سانس کی تکلیف یا سانس سے جڑی کسی بیماری کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بعض اوقات گھر میں کیے گئے پلس آکسی میٹری ٹیسٹ کے نتائج بھی اس مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اگر آپ گھر میں پلس آکسی میٹر استعمال کرتے ہیں تو یاد رکھیں کہ یہ عوامل نتائج کو کم درست بنا سکتے ہیں:
٭ خون کی کم روانی
٭ تمباکو کا استعمال
٭ ناخنوں پر نیل پالش
اگر آپ کو ہائپوکسیمیا ہو تو اگلا مرحلہ اس کی اصل وجہ معلوم کرنا ہوتا ہے۔
فوری توجہ
اگر آپ کو سانس پھولنے کی یہ علامات ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کریں:
٭ سانس اچانک پھولنا، روزمرہ کام متاثر ہونا، یا سینے میں درد جیسی علامات ظاہر ہونا
٭ 8,000 فٹ (تقریباً 2,400 میٹر) سے زیادہ بلندی پر سانس پھولنا، ساتھ میں کھانسی، دل کی تیز دھڑکن یا کمزوری ہونا۔ یہ پھیپھڑوں میں پانی جمع ہونے کی علامات ہیں، جسے ہائی آلٹی ٹیوڈ پلمونری ایڈیما کہا جاتا ہے۔ یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے
عمومی رابطہ
اپنے ڈاکٹر سے بلا تاخیر رجوع کریں، اگر آپ:
٭ معمولی جسمانی کوشش یا آرام کے دوران بھی سانس پھولنے لگیں
٭ اپنی صحت اور جسمانی حالت کے مطابق سرگرمی کے دوران غیر متوقع طور پر سانس پھولے
٭ رات کو ہانپتے ہوئے یا گھٹن محسوس کرتے ہوئے آنکھ کھل جائے۔ یہ سلیپ اپنیا کی علامت ہو سکتی ہے، جس میں نیند کے دوران سانس رکتی اور چلتی رہتی ہے
سیلف کیئر اور علاج
یہ مشورے سانس پھولنے کے مسئلے سے نپٹنے میں مدد دے سکتے ہیں:
٭ اگر آپ سگریٹ نوشی کرتے ہیں تو اسے چھوڑ دیں۔ اگر آپ کو ہائپوکسیمیا ہے تو یہ سب سے اہم اقدامات میں سے ایک ہے۔ سگریٹ نوشی بیماری کو زیادہ شدید اور علاج کو مشکل بنا دیتی ہے۔ چھوڑنے میں مدد کے لیے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں
٭ دوسرے لوگوں کے سگریٹ کے دھوئیں سے دور رہیں۔ ایسے افراد کے قریب نہ رہیں جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ یہ پھیپھڑوں کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے
٭ باقاعدگی سے ورزش کریں۔ اپنے ڈاکٹر سے پوچھیں کہ کون سی سرگرمیاں آپ کے لیے محفوظ ہیں۔ باقاعدہ ورزش جسمانی طاقت بڑھاتی ہے اور مشقت برداشت کرنے کی صلاحیت بہتر بناتی ہے
اکثر ہائپوکسیمیا کے علاج میں اضافی آکسیجن دی جاتی ہے۔ اس طریقہ علاج کو سپلیمنٹری آکسیجن یا آکسیجن تھراپی کہا جاتا ہے۔ دیگر علاج ہائپوکسیمیا کی اصل وجہ کے مطابق کیے جاتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=pulmonologist