Vinkmag ad

ہاٹ فلیشز: اچانک گرمی، پسینہ اور بے چینی

A woman worried about hot flashes

ہاٹ فلیشز (Hot flashes) جسم کے اوپری حصے میں اچانک گرمی محسوس ہونے کی کیفیت کا نام ہے۔ یہ کیفیت زیادہ تر چہرے، گردن اور سینے پر محسوس ہوتی ہے۔ گرمی کے ساتھ پسینہ بھی آ سکتا ہے، جبکہ بعض افراد کو بعد میں ٹھنڈ بھی لگنے لگتی ہے۔ ہاٹ فلیشز زیادہ تر خواتین میں، اور وہ بھی مینوپاز کے دوران پائے جاتے ہیں۔ رات کے وقت ہونے والے ہاٹ فلیش کو نائٹ سویٹس (Night sweats) کہا جاتا ہے، جو نیند میں خلل پیدا کرتے ہیں۔

علامات

ہاٹ فلیش کی عام علامات درج ذیل ہیں:

٭ سینے، گردن اور چہرے میں اچانک گرمی محسوس ہونا

٭ جلد کا سرخ یا دھبے دار دکھائی دینا

٭ دل کی دھڑکن تیز ہونا

٭ جسم کے اوپرو الے حصے میں زیادہ پسینہ آنا

٭ کیفیت ختم ہونے پر ٹھنڈ محسوس ہونا

٭ بے چینی یا اضطراب کا احساس

یہ کیفیت ہر شخص میں مختلف شدت اور فریکوئنسی کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔ اکثر افراد کو یہ روزانہ محسوس ہوتی ہے، جبکہ ایک دورانیہ عموماً ایک سے پانچ منٹ تک رہتا ہے۔

زیادہ تر لوگوں میں یہ مسئلہ سات سال یا اس سے زائد عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔ بعض میں یہ 10 سال سے بھی زیادہ جاری رہتا ہے۔

یہ کیفیت ہلکی بھی ہو سکتی ہے اور اتنی شدید بھی کہ روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہو جائیں۔ یہ دن یا رات کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔ رات کے اوقات میں یہ نیند کو شدید متاثر کرتی ہے۔

وجوہات

مینوپاز سے پہلے، دوران اور بعد میں ہارمونز میں تبدیلی اس کی بنیادی وجہ ہے۔

اگرچہ مکمل وجہ واضح نہیں، مگر تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسٹروجن کی کمی دماغ کے درجہ حرارت کنٹرول کرنے والے حصے کو حساس بنا دیتی ہے۔ یہ حصہ معمولی تبدیلی کو بھی زیادہ گرمی سمجھ کر جسم کو ٹھنڈا کرنے کا عمل شروع کرتا ہے، جس سے ہاٹ فلیش پیدا ہوتا ہے۔

کبھی کبھار دیگر وجوہات جیسے ادویات کے سائیڈ ایفیکٹس، تھائی رائیڈ کے مسائل، بعض کینسرز یا ان کے علاج کے اثرات بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔

خطرے کے عوامل

ہر فرد میں یہ مسئلہ یکساں نہیں ہوتا، تاہم کچھ عوامل خطرہ بڑھاتے ہیں:

٭ تمباکو نوشی

٭ موٹاپا، کیونکہ زیادہ باڈی ماس انڈیکس اس سے وابستہ ہے

٭ سیاہ فام افراد میں شرح زیادہ جبکہ ایشیائی افراد میں کم دیکھی گئی ہے

پیچیدگیاں

٭ ہاٹ فلیش روزمرہ زندگی اور معیارِ زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں

٭ رات کے ہاٹ فلیش نیند میں بار بار خلل ڈالتے ہیں، جس سے نیند کی طویل مدتی کمی پیدا ہو سکتی ہے

٭ ایسے افراد میں دل کی بیماری اور ہڈیوں کی کمزوری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر ہاٹ فلیش آپ کی روزمرہ زندگی یا نیند کو متاثر کریں تو فوری طور پر طبی مشورہ حاصل کریں۔

تشخیص

٭ ڈاکٹر عموماً علامات کی بنیاد پر اس کی تشخیص کرتے ہیں

٭ بعض اوقات خون کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ ماہواری کے اختتام یا دیگر ممکنہ وجوہات کی تصدیق کی جا سکے۔

علاج

٭ ہاٹ فلیش کم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ایسٹروجن کا استعمال ہے، تاہم اس کے ساتھ کچھ خطرات بھی وابستہ ہوتے ہیں

٭ اگر یہ علاج مناسب وقت پر شروع کیا جائے تو اس کے فوائد زیادہ ہو سکتے ہیں۔ دیگر ادویات جیسے اینٹی ڈپریسنٹ اور اینٹی سیژر بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، مگر ان کا اثر ہارمون علاج جتنا نہیں ہوتا

٭ اگر علامات ہلکی ہوں تو علاج کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ اکثر افراد میں یہ وقت کے ساتھ خود کم ہو جاتی ہیں

ہارمون سے علاج

٭ ایسٹروجن سب سے عام ہارمون ہے جو اس مقصد کے لیے استعمال ہوتا ہے

٭ جن خواتین کا یوٹرس نکالا جا چکا ہو وہ صرف ایسٹروجن استعمال کر سکتی ہیں، جبکہ دیگر کو پروجیسٹرون بھی لینا ہوتا ہے تاکہ رحم کے کینسر سے بچاؤ ممکن ہو

٭ علاج میں صرف اتنی دوا دی جاتی ہے جتنی علامات کم کرنے کے لیے کافی ہو، اور علاج کی مدت ہر فرد کی صحت اور ضروریات کے مطابق مقرر کی جاتی ہے

٭ اگر کسی کو چھاتی یا رحم کا کینسر، دل کی بیماری، فالج یا خون جمنے کا خطرہ ہو تو علاج سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے

دیگر ادویات

٭ ہاٹ فلیش کے لیے ہارمون کے بغیر کچھ ادویات بھی استعمال کی جا سکتی ہیں

٭ یہ ادویات عموماً ہلکی یا درمیانی شدت کے ہاٹ فلیش میں مددگار ہوتی ہیں، لیکن شدید علامات میں اتنی مؤثر نہیں ہوتیں

٭ ممکنہ سائیڈ ایفیکٹس میں متلی، نیند کے مسائل، وزن میں اضافہ، منہ یا آنکھوں کا خشک ہونا، چکر اور تھکن شامل ہو سکتے ہیں

٭ کچھ ادویات جسم میں حرارت کے نظام یا اعصابی نظام پر اثر ڈال کر ہاٹ فلیش کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں

 اعصاب کو بلاک کرنا

ایک طریقہ جسے سٹیلیٹ گینگلیون بلاک کہا جاتا ہے، درمیانی اور شدید علامات میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اس میں گردن کے اعصاب کے قریب دوا دی جاتی ہے۔ اس کے ممکنہ اثرات میں درد اور سوجن شامل ہیں، جبکہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

احتیاطی تدابیر

ہلکی علامات کی صورت میں طرزِ زندگی میں تبدیلی مفید ہو سکتی ہے:

٭ ہلکے کپڑے پہنیں اور کمرے کا درجہ حرارت کم رکھیں

٭ مصالحہ دار غذا، کیفین اور الکحل سے پرہیز کریں

٭ ذہنی سکون کی مشق کریں، جیسے میڈی ٹیشن اور گہری سانسیں

٭ تمباکو نوشی ترک کریں

٭ وزن کم کریں اگر وزن زیادہ ہو

یہ تدابیر ہر فرد میں یکساں اثر نہیں دکھاتیں، مگر عمومی طور پر محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

ایبسنس سیژر: غیرحاضر دماغی کا دورہ

Read Next

پیشاب کی بو

Leave a Reply

Most Popular