ننھے دلوں کے مسائل

0

ننھے دلوں کے مسائل

دل کے امراض کچھ عرصہ قبل تک صرف بڑی عمرکے افراد تک ہی محدود تھے لیکن اب نوجوانوں میں ہی نہیں، بچوں میں بھی اس کی شرح روزبروزبڑھتی جا رہی ہے۔ ماہرین صحت کے اندازوں کے مطابق دنیا میں ہر100 میں سے اوسطاًایک بچہ پیدائش کے وقت دل کی کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے۔

بچوں میں امراض قلب کی اقسام

ان کودوحصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان کی ایک قسم وہ ہے جس میں دل کی خرابی آکسیجن کی مقدارکوکم کرتی ہے۔ اس میں نوزائیدہ بچے نیلے ہوجاتے ہیں ۔

 دوسری قسم وہ ہے جس میں پھیپھڑوں تک خون کا بہاؤزیادہ ہوجاتا ہے۔ ایسے میں بچے کو نمونیا یا چھاتی کا انفیکشن ہوسکتا ہے۔ یہ عموماً دل میں سوراخ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ وہ بیماریاں ہیں جوپیدائش کے وقت موجو دہوتی ہیں جبکہ کچھ اس کے بعد بھی ظاہرہوسکتی ہیں۔ ان میں دل کے پٹھوں کا کمزورہونا قابل ذکرہے۔

وجوہات کیا ہیں

ننھے بچوں میں ان مسائل کے بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں سے زیادہ ترکا تعلق حمل کے دوران ماں میں پائے جانے والے کچھ مسائل ہیں جیسے

٭ماں میں وٹامنزاورفولک ایسڈ کی کمی۔

٭ماں کوانفیکشن ہونا۔

٭ماں کوشوگرہونا۔

٭ماں کا مرگی کی ادویات استعمال کرنا۔

٭سگریٹ نوشی اورنشہ آورچیزیں استعمال کرنا۔

٭جینیاتی نقص۔

مرض کی علامات

٭بچے کا پیدائش کے وقت نیلا ہوجانا اورسانس لینے میں دشواری محسوس کرنا۔

٭بار بارچھاتی کا انفیکشن ہونا۔

٭وزن نہ بڑھنا۔

٭دل کی دھڑکن کا غیرمعمولی طور پر تیز ہونا۔

٭کھیلتے ہوئے یا دودھ پیتے ہوئےغیرمعمولی طورپرتھک جانا۔

جب یہ بچے بڑے ہو جاتے ہیں توان کےسینے میں درد ہوتا ہے اوربعض اوقات یہ بیہوش بھی ہو جاتے ہیں۔

علاج کے طریقے

٭دل کے کچھ امراض ایسے ہیں جن کا علاج بغیرآپریشن کے بھی ممکن ہے۔ مثلاً رحم مادرمیں بچے کی دل کی دواہم شریانیں درمیان سے کھلی ہوتی ہیں۔ یہ پیدائش کے بعد قدرتی طورپربند ہوجاتی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتو اس کے لئےادویات تجویز کی جاتی ہیں۔

٭انجیوپلاسٹی کے ذریعے دل کی کھلی ہوئی رگوں اوردل میں سوراخ کو بند کیا جاتا ہے۔علاوہ ازیں دل کےبند والوکوبھی کھولا جاتا ہے۔

٭وہ تمام بیماریاں جن میں انجیوپلاسٹی کامیاب نہ ہو وہ بائی پاس کے ذریعے ٹھیک کی جاتی ہیں جیسے دل میں سوراخ ، دل کا آدھا بنا ہونااور کسی چیمبرکا بہت زیادہ چھوٹا ہونا وغیرہ۔

احتیاط

اگرخاندان میں پہلے بھی کوئی بچہ دل کا مریض ہو تواحتیاطاً ایک ہی خاندان میں شادیاں نہ کی جائیں۔اس کے علاوہ حمل کے دوران ماں کا مکمل علاج کرایا جائے۔

بعض بچے پیدا ہونے کے بعد ویسے ہی نیلے دکھائی دیتے ہیں جس کا سبب انہیں ٹھنڈ لگنا ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے انہیں گرم کریں یعنی کسی چیز سے ڈھانپ دیں اورایک گھنٹے بعد دوبارہ دیکھیں۔ اگر ان کا رنگ ٹھیک ہو جائے تو پریشانی کی بات نہیں ۔ تاہم اگر ان کےناخن اورزبان نیلی ہو تو ممکن ہے وہ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔اس لئے پیدائش کے بعد ہر بچے کا معائنہ کرائیں۔

بچے کی پیدائش والدین کے لئے خوشی کا سبب ہوتی ہے مگران کو پہنچنے والی چھوٹی سی تکلیف بھی ان کے لئے کوہ گراں ثابت ہوتی ہے۔ لہٰذان سے جڑے مسائل سے آگاہی حاصل کریں تاکہ وقت پڑنے پرپریشانی سے بچا جا سکے۔

cyanotic heart diseases, gene mutation, rubella, heart diseases in children

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x