Vinkmag ad

گینگرین: ٹشوز کی خاموش موت

Close-up of clinical staff applying a sterile gauze dressing to a patient's foot to manage a gangrene-related wound.

گینگرین (Gangrene) وہ بیماری ہے جس میں جسم کے کچھ ٹشوز خون کی کمی یا شدید بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ یہ بیماری عام طور پر بازوؤں، ٹانگوں، انگلیوں اور پاؤں کے اگلے حصے کو متاثر کرتی ہے۔  پٹھے اور اندرونی اعضا، مثلاً گال بلیڈر بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

خون کی نالیوں کو نقصان پہنچانے والی بیماریاں، مثلاً ذیابیطس یا شریانوں کا سخت ہونا (ایتھیرو سکلروسس)، گینگرین کے خطرے کو بڑھاتی ہیں۔ مرض کی تشخیص اور علاج جتنا جلد شروع کیا جائے، صحت یابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔

علامات

اگر گینگرین جلد کو متاثر کرے تو درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:

٭ جلد کا رنگ بدلنا، جیسے ہلکا سرمئی سے نیلا، جامنی، سیاہ، کانسی یا سرخ

٭ سوجن

٭ چھالے

٭ اچانک شدید درد کے بعد سنسناہٹ

٭ زخم سے بدبو دار رطوبت کا اخراج

٭ پتلی، چمکدار یا بغیر بالوں والی جلد

٭ جلد کا ٹھنڈا یا سرد محسوس ہونا

٭ اگر گینگرین جلد کے نیچے کے ٹشوز کو متاثر کرے (گیس گینگریں یا اندرونی گینگریں)، تو ہلکا بخار یا بے آرامی کا احساس ہو سکتا ہے۔

سیپٹک شاک کی علامات

اگر انفیکشن جسم میں پھیل جائے تو سیپٹک شاک ہو سکتا ہے۔ یہ ایک سنجیدہ اور جان لیوا حالت ہے جو شدید انفیکشن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کی علامات میں شامل ہیں:

٭ بلڈ پریشر کم ہو جانا

٭ بخار یا جسم کا درجہ حرارت معمول سے کم ہونا

٭ دل کی تیز دھڑکن

٭ چکر آنا

٭ سانس لینے میں دشواری

٭ الجھن

ڈاکٹر سے رجوع کب ضروری؟

گینگرین ایک سنگین اور ہنگامی حالت ہے۔  اگر جسم کے کسی حصے میں مستقل درد ہو اور درج ذیل علامات موجود ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں:

٭ مسلسل بخار

٭ جلد میں تبدیلیاں، جیسے رنگت، حرارت، سوجن، چھالے یا زخم جو ختم نہ ہوں

٭ بدبو دار رطوبت کا اخراج

٭ حالیہ سرجری یا چوٹ کے مقام پر اچانک درد

٭ جلد جو پیلی پڑ جائے، سخت ہو، ٹھنڈی لگے اور اس میں سنسناہٹ ہو

وجوہات

گینگرین کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

خون کی فراہمی کی کمی

خلیوں کو آکسیجن اور غذائی اجزاء خون فراہم کرتا ہے۔ خون کی کمی سے خلیے مر جاتے ہیں اور ٹشوز خراب ہو جاتے ہیں۔

انفیکشن

اگر بیکٹیریل انفیکشن کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو گینگرین پیدا ہو سکتا ہے۔

چوٹ یا زخم

حادثات یا شدید زخم بیکٹیریا کو جسم میں داخل ہونے کا موقع دیتے ہیں، جو گینگرین کا سبب بن سکتے ہیں۔

اقسام

خشک گینگرین

خشک، سکڑی ہوئی جلد جو بھوری، جامنی نیلی یا سیاہ نظر آتی ہے۔ یہ آہستہ آہستہ بڑھتی ہے اور ذیابیطس یا خون کی نالیوں کی بیماری والے افراد میں عام ہے۔

گیلی گینگرین

اس میں ٹشوز بیکٹیریا سے متاثر ہو جاتے ہیں، جس سے سوجن، چھالے اور گیلا پن ظاہر ہوتا ہے۔ یہ شدید چوٹ، فروسٹ بائٹ یا ذیابیطس کے چھوٹے زخم کے بعد ہو سکتی ہے۔ فوری علاج ضروری ہے۔

گیس گینگرین

یہ گہرے پٹھوں کو متاثر کرتی ہے۔ ابتدا میں جلد معمول کے مطابق دکھائی دے سکتی ہے، لیکن بیماری بڑھنے پر اس کا رنگ سرمئی یا جامنی مائل سرخ ہو جاتا ہے اور یہ ببل نما نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ کلوسٹریڈیم پرفرنگنز جیسے بیکٹیریا ہیں جو متاثرہ ٹشوز میں گیس پیدا کرتے ہیں۔ اسی گیس کے باعث جلد دبانے پر چٹخنے جیسی آواز بھی محسوس ہو سکتی ہے۔ یہ ایک جان لیوا حالت ہو سکتی ہے۔

اندرونی گینگرین

اندرونی اعضا جیسے آنت، گال بلیڈر یا اپینڈکس متاثر ہوتے ہیں۔ یہ خون کی فراہمی میں رکاوٹ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور اگر علاج نہ کیا جائے تو مہلک ہو سکتی ہے۔

فورنیئر کی گینگرین

یہ زیادہ تر مردوں کے جنسی اعضا کو متاثر کرتی ہے، تاہم خواتین بھی اس کا شکار ہو سکتی ہیں۔

میلینی گینگرین

یہ ایک نایاب قسم ہے، جو عموماً سرجری کے بعد پیچیدگی کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔

خطرے کے عوامل

ذیابیطس: زیادہ شوگر خون کی نالیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور خون کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے

خون کی نالیوں کی بیماری: سخت یا تنگ شریانیں اور خون کے لوتھڑے خون کے بہاؤ کو روک سکتے ہیں

شدید چوٹ یا سرجری: جلد اور ٹشوز کو نقصان پہنچانے والی چوٹیں گینگریں کے خطرے کو بڑھاتی ہیں

سگریٹ نوشی: طویل المدتی سگریٹ نوشی خون کی نالیوں کو کمزور کر کے خطرہ بڑھاتی ہے

موٹاپا: اضافی وزن شریانوں پر دباؤ ڈال کر خون کے بہاؤ کو سست کرتا ہے اور انفیکشن کا خطرہ بڑھاتا ہے

مدافعتی کمزوری: کیمو تھیراپی، ریڈییشن یا ایچ آئی وی جیسے عوامل مدافعت کمزور کر کے انفیکشن کا خطرہ بڑھاتے ہیں

انجیکشنز: بہت کم صورتوں میں انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی ادویات بیکٹیریل انفیکشن کا سبب بن سکتی ہیں

کووڈ-19 کی پیچیدگیاں: کچھ افراد میں وائرس سے متعلق خون جمنے کی مشکلات کے بعد انگلیوں اور پیروں میں خشک گینگرین دیکھی گئی ہے

پیچیدگیاں

اگر فوری علاج نہ کیا جائے تو بیکٹیریا دیگر ٹشوز اور اعضا میں پھیل سکتے ہیں۔ بعض اوقات جان بچانے کے لیے متاثرہ عضو کو کاٹنا پڑتا ہے۔ انفیکشن شدہ ٹشو ہٹانے سے زخم کے نشانات یا مزید سرجری کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔

تشخیص

٭ انفیکشن کی نشاندہی کے لیے خون کے ٹیسٹ

٭ بیکٹیریا کی موجودگی جانچنے کے لیے ٹشو یا رطوبت کا کلچر

٭ ایکس رے، سی ٹی یا ایم آر آئی

٭ انفیکشن کی شدت جانچنے کے لیے سرجری

علاج

٭ گینگریں سے متاثرہ ٹشو کو بچایا نہیں جا سکتا، لیکن مناسب علاج سے مزید نقصان روکا جا سکتا ہے۔

ادویات: بیکٹیریل انفیکشن کے لیے اینٹی بایوٹکس اور درد کم کرنے والی دوائیں

سرجری: متاثرہ ٹشو ہٹانا تاکہ انفیکشن پھیلنے سے روکا جا سکے

ویسکولر سرجری: خون کی نالیوں کی مرمت کر کے متاثرہ حصے میں خون کا بہاؤ بحال کرنا

ایمپیوٹیشن: شدید صورت میں متاثرہ عضو (جیسے انگلی، پیر یا بازو) کو سرجری کے ذریعے ہٹانا

سکن گرافٹ: خراب شدہ جلد کی مرمت یا زخم کے نشانات بہتر بنانے کے لیے صحت مند جلد کا استعمال

ہائپر بیرک آکسیجن تھیراپی: پریشر چیمبر میں خالص آکسیجن فراہم کی جاتی ہے تاکہ خون میں آکسیجن کی مقدار بڑھے۔ یہ طریقہ انفیکشن کو کم کرتا ہے اور زخموں کو جلد بھرنے میں مدد دیتا ہے۔ ہر سیشن تقریباً 90 منٹ کا ہوتا ہے، اور روزانہ 2–3 سیشن انفیکشن ختم ہونے تک دیے جا سکتے ہیں۔

بچاؤ کی تدابیر

٭ ذیابیطس کو کنٹرول کریں اور ہاتھوں اور پاؤں کا روزانہ معائنہ کریں

٭ وزن کم کریں تاکہ خون کا بہاؤ بہتر ہو

٭ سگریٹ نوشی اور تمباکو سے پرہیز کریں

٭ ہاتھ صاف رکھیں اور زخموں کو اچھی طرح دھوئیں

٭ فروسٹ بائٹ کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

Fever

Read Next

Gangrene

Leave a Reply

Most Popular