Vinkmag ad

فلو (انفلوئنزا)

A young woman with the flu sits on her bed, holding her head in pain. Medicine, water, and tissues are on the bedside table.

انفلوئنزا (influenza) جسے فلو (flu) بھی کہا جاتا ہے، ناک، گلے اور پھیپھڑوں کا وائرل انفیکشن ہے۔ اس کے وائرس ایک خاص موسم میں زیادہ پھیلتے ہیں، جسے فلو سیزن بھی کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر افراد اس سے خود بخود صحت یاب ہو جاتے ہیں، تاہم بعض صورتوں میں یہ مہلک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے تما افراد، بالخصوص بزرگوں اور بیمار افراد کو ہر سال اس موسم سے قبل فلو ویکسین لگوانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

علامات

٭ عام علامات میں گلے میں درد، ناک بہنا یا بند ہونا، بخار، کھانسی، سر درد، پٹھوں میں درد، شدید تھکن، اور پسینہ آنا یا سردی لگنا شامل ہیں

٭ زکام (کامن کولڈ) آہستہ آہستہ شروع ہوتا ہے، جبکہ فلو چند دنوں میں تیزی سے شدت اختیار کر لیتا ہے

٭ بچوں میں علامات چڑچڑے پن یا بے آرامی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ فلو کی صورت میں کان کا درد، معدے کی خرابی، الٹی یا دست بھی ہو سکتے ہیں

٭ بعض افراد میں آنکھوں میں درد، پانی آنا یا روشنی سے حساسیت بھی دیکھی جا تی ہے

ہنگامی علامات

بالغوں میں سانس لینے میں دشواری، چھاتی میں درد یا دباؤ، مسلسل چکر آنا، ذہنی الجھن، پانی کی کمی، شدید کمزوری یا عضلات میں درد شامل ہیں۔

بچوں میں تیز یا غیر معمولی سانس، ہونٹوں یا ناخنوں کا نیلا یا گرے ہو جانا، خشک منہ، پیشاب کا نہ آنا، اور علامات کا دوبارہ ظاہر ہونا یا بگڑ جانا شامل ہیں۔

وجوہات

فلو وائرس کھانسی، چھینک یا بات چیت کے دوران ہوا میں پھیلتا ہے، یا آلودہ سطح کو چھونے کے بعد آنکھ، ناک یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔ یہ وائرس علامات ظاہر ہونے سے تقریباً ایک دن پہلے سے لے کر 5 سے 7 دن بعد تک دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ بچوں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد میں یہ مدت زیادہ ہو سکتی ہے۔

انفلوئنزا وائرس مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں، اسی لیے ہر سال کی ویکسین اس موسم میں زیادہ پھیلنے والے وائرس کے مطابق تیار کی جاتی ہے۔

خطرے کے عوامل

٭ 2 سال سے کم عمر کے بچے اور 65 سال سے زائد افراد زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں

٭ نرسنگ ہومز یا مشترکہ رہائش گاہوں میں رہنے والے افراد میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے

٭ کمزور قوت مدافعت وائرس کو جلد ختم نہیں کر پاتی، جس سے پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

٭ طویل مدتی بیماریاں، جیسے دمہ، پھیپھڑوں کی بیماریاں، ذیابیطس، دل کی بیماری، اعصابی بیماریاں، اسٹروک کی ہسٹری، میٹابولک مسائل، گردے، جگر یا خون کی بیماریاں خطرہ بڑھاتی ہیں

٭ طویل عرصے تک اسپرین لینے والے نوجوانوں میں پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

٭ حاملہ خواتین کو دوسری اور تیسری سہ ماہی میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے

٭ بی ایم آئی 40 یا اس سے زیادہ ہونے پر بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے

پیچیدگیاں

فلو عام طور پر صحت مند نوجوانوں میں سنگین نہیں ہوتا، تاہم خطرے والے افراد میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں

٭ کان یا پھیپھڑوں کا انفیکشن

٭ دل کے پٹھے یا جھلی کا انفیکشن

٭ مرکزی اعصابی نظام کا انفیکشن

٭ سانس لینے میں شدید دقت

٭ پٹھوں میں سجن

٭ طویل مدتی بیماریوں کی حالت بگڑنا

ڈاکٹر سے رجوع

زیادہ تر لوگ فلو کو گھر پر مینج کر لیتے ہیں، لیکن خطرے والے افراد کو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ اینٹی وائرل ادویات علامات کے شروع ہونے کے دو دن کے اندر لینے سے بیماری کی مدت کم ہو سکتی ہے اور پیچیدگیوں سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔

تشخیص

٭ ڈاکٹر جسمانی معائنہ کرتے ہیں اور علامات کا جائزہ لیتے ہیں

٭ بعض صورتوں میں وائرس کی شناخت کے لیے ٹیسٹ تجویز کیے جاتے ہیں

٭ کچھ ٹیسٹ فلو کے ساتھ دیگر سانس کی بیماریوں، جیسے کووڈ-19، کی تشخیص کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں

علاج

٭ شدید یا پیچیدہ کیسز میں اینٹی وائرل ادویات دی جاتی ہیں

٭ ہسپتال میں ضرورت پڑنے پر ورید کے ذریعے دوا دی جا سکتی ہے

ویکیسن

٭ 6 ماہ اور اس سے بڑی عمر کے افراد کے لیے سالانہ فلو ویکسین دستیاب ہے

٭ ویکسین فلو لگنے، شدید بیماری، ہسپتال میں داخلے اور موت کے خطرے کو کم کرتی ہے

٭ انڈے سے الرجی والے افراد بھی ویکسین لگوا سکتے ہیں

٭ پہلی بار 6 ماہ سے 8 سال کے بچوں کو دو خوراکیں دی جاتی ہیں، بعد میں سالانہ ایک خوراک کافی ہوتی ہے

انفیکشن کا پھیلاؤ روکنا

٭ ہاتھوں کو کم از کم 20 سیکنڈ تک صابن اور پانی سے دھوئیں یا 60 فیصد الکحل والے ہینڈ سینیٹائزر استعمال کریں

٭ چہرے کو ہاتھوں سے چھونے سے گریز کریں تاکہ وائرس جسم میں داخل نہ ہو

٭ کھانسی یا چھینک کے دوران ٹشو یا کہنی کا استعمال کریں اور بعد میں ہاتھ دھوئیں

٭ بار بار چھوئی جانے والی سطحوں کو صاف رکھیں

٭ ہجوم اور بیمار افراد سے دور رہیں

٭ بیماری کی صورت میں گھر پر رہیں اور بخار ختم ہونے کے 24 گھنٹے بعد تک بغیر دوا کے باہر نہ نکلیں

گھریلو علاج

٭ زیادہ مقدار میں پانی، جوس اور گرم سوپ استعمال کریں

٭ آرام کریں اور مناسب نیند لیں تاکہ جسم کی قوت مدافعت بہتر ہو

٭ بخار یا درد کے لیے بغیر نسخے کی ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں، تاہم بچوں کو اسپرین نہیں دینی چاہیے

٭ بیماری کے دوران گھر پر رہیں اور بخار ختم ہونے کے 24 گھنٹے بعد ہی باہر نکلیں

٭ باہر نکلتے وقت ماسک پہنیں اور ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

Gangrene

Read Next

Flu (Influenza)

Leave a Reply

Most Popular