Vinkmag ad

ورجینیٹی ٹیسٹ کرنے پرخاتون ڈاکٹر ملازمت سے برطرف

ورجینیٹی ٹیسٹ کرنے پر ایک خاتون ڈاکٹر کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ یہ بات پنجاب سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے لاہور ہائی کورٹ کو بتائی۔ ٹیسٹ ایک 10 سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق کے لیے کیا گیا تھا۔

ورجینیٹی ٹیسٹ کیا ہے؟

ورجینیٹی ٹیسٹ کو ”ٹو فنگر ٹیسٹ” بھی کہا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں خاتون کے پردہ بکارت کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اس کی بنیاد پر کنوارے ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق کی جاتی ہے۔ بہت سے ممالک میں یہ ٹیسٹ غیر قانونی ہے۔ 2020 میں اس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ نے بھی فیصلہ دیا تھا۔ فیصلے میں کسی بھی صورت میں جنسی زیادتی کی شکار خواتین کے کنوار پن ٹیسٹ سے منع کیا گیا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ ٹیسٹ کنوارپن کی تصدیق کے لیے ناکافی ہے۔ پردہ بکارت ورزش کے علاوہ کچھ اور وجوہات کی بنا پر بھی پھٹ سکتا ہے۔

ڈپارٹمنٹ کی طرف سے کہا گیا کہ پنجاب میڈیکولیگل سرجن نے معاملے کی جانچ کی۔ اس میں ایڈہاک ڈاکٹر علیزہ گل کو ”ٹو فنگر ٹیسٹ” کی بنیاد پر میڈیکل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا قصوروار پایا گیا۔ اس پر خاتون ڈاکٹر کی تقرری یکم جولائی سے ختم کر دی گئی۔

سروسز ہسپتال کے اے ایم ایس ڈاکٹر حماد اور سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری عبدالمنان بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ڈاکٹر نے بوگس اور غیرقانونی میڈیکل سرٹیفکیٹ جاری کیا۔ جسٹس فاروق حیدر نے پابندی کے باوجود ٹو فنگر ٹیسٹ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے خلاف میڈیکل سرٹیفکیٹ جاری کرنا بہت سنگین معاملہ ہے۔

محکمہ کے قانونی مشیر راج مقصود نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب کے سرجن میڈیکل آفیسر نے نیا میڈیکل بورڈ بنانے کی سفارش کی ہے۔

Vinkmag ad

Read Previous

گرمیوں کے لیے بہترین مشروبات

Read Next

دوائیں سالانہ بنیادوں پر 23 فیصد مہنگی

Leave a Reply

Most Popular