ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فیٹی لیور برسوں تک بغیر واضح علامات کے جگر کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کئی افراد کو اس وقت تک بیماری کا علم نہیں ہوتا، جب تک جگر شدید متاثر نہ ہو جائے۔
متحدہ عرب امارات کے ماہرینِ امراضِ جگر کے مطابق جگر میں درد محسوس کرنے والے اعصابی ریشے موجود نہیں ہوتے۔ اسی لیے اس کی بیماریاں اکثر دیر سے سامنے آتی ہیں۔ ماہرین نے بتایا کہ جگر 70 سے 80 فیصد متاثر ہونے کے باوجود بھی اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے کئی مریضوں میں بیماری کی تشخیص دیر سے ہوتی ہے۔
ان کے مطابق بروقت تشخیص نہ ہونے پر فیٹی لیور سروسس یا جگر کے ناکارہ ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ بعض مریضوں کو جگر کی پیوندکاری کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ماہرین نے کہا کہ موٹاپا، ٹائپ ٹو ذیابیطس، ہائی کولیسٹرول، غیر متحرک طرزِ زندگی اور الکحل کا زیادہ استعمال خطرہ بڑھاتے ہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ مسلسل تھکاوٹ، کمزوری، بھوک میں کمی یا پیٹ کی سوجن کو نظر انداز نہ کریں۔ جلد یا آنکھیں زرد ہونے کی صورت میں فوری معائنہ کرائیں۔ ان کے مطابق بروقت تشخیص اور صحت مند طرزِ زندگی جگر کو زیادہ عرصہ صحت مند رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔