چہراگلاب یا گلابیہ

186

کبھی آپ نے نوٹ کیا کہ کچھ لوگوں کا چہرہ دھوپ میں نکلتے ہی گرم اور سرخ ہونے لگتاہے۔دھوپ ہی نہیںبعض اوقات کچھ خاص اشیاءکھانے پینے سے بھی ایسا ہوجاتا ہے ۔ آپ کا دھیان یقیناً الرجی یا ایکنی کی طرف گیا ہو گا حالانکہ یہ اس سے بالکل الگ ایک بیماری ہے جسے روزیشیا (Rosacea)یادوسرے لفظوںمیں گلابیہ کہا جاتا ہے۔
’روزیشیا‘کے متعلق ڈاکٹر جوناتھن ولکن نے1994ءمیں یہ نظریہ پیش کیا کہ یہ خون کی رگوں سے متعلق ایک مرض ہے جس میں دورانِ خون تیز ہو نے کے باعث چہرہ گلاب کی طرح سرخ ہونے لگتا ہے۔اسی وجہ سے اس بیماری کو’روزیشیا‘ کا نام دیا گیا۔

یہ ایک طویل المعیاد اوربار بار پلٹ آنے والی جلدی بیماری ہے جو بالعموم درمیانی عمر کے لوگوں‘ خصوصاً 30سال سے زائد عمر کی خواتین میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ایکنی‘الرجی اور روزیشیا کی علامات تقریباً ایک جیسی ہوتی ہیں لہٰذا اکثر صورتوں میں اسے ایکنی یا الرجی سمجھ کر علاج کیا جاتا ہے جس سے مسئلہ حل نہیں ہوپاتا۔

روزیشیا میں چہرہ ‘خصوصاً اس کا ٹی زون (t-zone) یعنی ماتھا‘ناک اورگال متاثر ہوتے ہیں۔اس کی اہم علامت چہرے پر سرخی اور بعض صورتوں میں دانوں کا نمودار ہونا ہے ۔یہ سرخی چہرے پرخون کی نالیوںکے پھول جانے سے نمودار ہوتی ہے اور اس سے خارش بھی ہوتی ہے۔دانوں کی رنگت سرخ ہوتی ہے اور ٹھیک ہونے کے بعد متاثرہ جگہ خشک ہونے لگتی ہے اوربعض صورتوں میں اس پر مختلف سرخ یا بھورے دھبے(patches) بن جاتے ہیں۔ مزیدبرآں چہرے کی جلدکھردری اور موٹی بھی ہو سکتی ہے۔

چہرے پر آنے والی سرخی اور دانے دونوں ہی مریض کے لیے پریشان کن ہوتے ہیں‘ اس لئے کہ اس سے نہ صر ف مریض کو درد ہوتا ہے بلکہ چہرے کی خوبصورتی بھی متاثر ہوتی ہے۔
روزایشیاکی اصل‘ حقیقی اور بنیادی وجوہات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکیں‘ تاہم اس بارے میں کچھ اندازے ضرور لگائے گئے ہیں۔ مثلاً ایک خیال یہ ہے کہ ایسا چہرے پر موجود خون کی نالیوں میں غیر معمولی تبدیلی کے باعث ہو سکتا ہے۔کچھ ماہرین کے مطابق اس کا تعلق موروثیت سے ہے جبکہ کچھ کے نزدیک اس کا سبب چہرے کی جلدپر رہنے والا انتہائی چھوٹا سا کیڑا ہے۔

روزیشیا کی ایک اہم قسم کا تعلق آنکھ سے بھی ہے جس میں چہرے کے ساتھ ساتھ مریض کی آنکھیں بھی متاثرہونے لگتی ہیں۔ ایسے میں اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا آنکھوں میں کچھ چلا گیا ہو۔ اس سے آنکھوں دردہونے کے علاوہ آنکھ کا خشک (dry eyes)یا سرخ ہو جانا بھی ہے ۔ اس سے پپوٹوں میںسوزش بھی ہو سکتی ہے۔

نفسیاتی اثرات
دیگر طویل المعیاد امراض کی طرح روزیشیا بھی مریض پر اپنے نفسیاتی اثرات چھوڑ سکتا ہے ۔ اس کا تعلق فرد کے چہرے سے ہے جو فرد کے خوبصورت ہونے یا نہ ہونے کا تاثر پیدا کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کرتاہے۔ اس لئے اس کی وجہ سے متعلقہ فرد میں خود اعتمادی میں کمی اور شرمندگی کے احساسات جنم لے سکتے ہیں۔

علاج
عام الرجی یاایکنی کی نسبت روزیشیا کو ایک آدھ بار کریم لگا کر ٹھیک کرنا آسان نہیں ۔اس بیماری کی تشخیص اور علاج ذرا لمبا اور پیچیدہ ہے اور بعض اوقات 10سال تک بھی نہیں جاتی ۔روزیشیاکی وجہ سے آنے والی سرخی کا علاج لیزر کی مدد سے کیا جا سکتا ہے جس میں خون کی نالیوں کو سکیڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ کم نظر آئیں۔

اہم احتیاطیں
اگرچہ یہ ایک طویل المعیاد اوردوبارہ پلٹ آنے والا مرض ہے مگربروقت علاج اور احتیاط برتنے سے اس کی شدت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کی احتیاطیں درج ذیل ہیں:
٭چہرے پر اس طرح کی سرخی لانے والے عوامل(triggers) ہر ایک کے لیے مختلف ہو سکتے ہیں‘ اس لیے اپنے عوامل کو نوٹ کرنے کے لیے ایک ڈائری بنانی چاہئے ۔اس میں جو چیزیں کھانے پینے‘ کرنے یا لگانے سے چہرہ سرخ ہونے لگتا ہو‘ وہ درج کریں۔یہ عوامل ڈاکٹر کے نوٹس میں لائیں اور اگر وہ ان سے بچنے کا مشورہ دے تو اس پر لازماً عمل کریں۔ مثلاًکچھ افراد کو تلی ہوئی اور چٹخارے دارچیزیں کھانے اور الکوحل یا کیفین کے استعمال سے بھی اس کی شکایت ہو جاتی ہے۔ ایسے افراد کو ان سے پرہیز کرنی چاہئے ۔

٭مریض کو چاہئے کہ گرما گرم چیزیں مثلاً چائے‘کافی اورقہوہ وغیرہ ذرا ٹھنڈا کر کے پئیں۔
٭روزیشیا میں سورج کی شعاعیں خاص طور پر چہرے کو متاثر کرتی ہیں۔اس لئے ان سے بچنے کے لیے چہرے پرچھتری‘ سفید حجاب یا دوپٹہ اور سن بلاک استعمال کریں۔
٭بعض اوقات ذہنی تناﺅ بھی مرض کی علامات بڑھا سکتا ہے ۔اس لیے اس سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کریں۔
٭ بہت سے سی کریموں سے فائدے کی بجائے نقصان ہوتا ہے لہٰذا ان کو ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہئے۔سٹیرائیڈز والی کریموں سے خاص طور پر احتیاط کریں ۔
٭ زیادہ ورزش کرنے سے دورانِ خون تیز ہونے لگتا ہے جس سے روزیشیا ہو سکتا ہے۔اس لیے اس میں بھی احتیاط برتیں۔

٭اس سے جلد خشک ہونے لگتی ہے ‘اس لیے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق کوئی موئسچرائزر استعمال کریں۔
٭خواتین مریضوں کو چاہئے کہ میک اَپ کم سے کم کریں۔ میک اَپ کے لئے غیرمعیاری اشیاءاستعمال کرنے سے مرض بڑھ سکتا ہے ۔اس لیے ماہرِ امراضِ جلد کے مشورے کے بغیرچہرے پر کچھ مت لگائیں۔
٭چہرے کو انتہائی احتیاط اور نرمی سے دھونا اور صاف کرنا چاہئے۔ اس کے لیے نیم گرم پانی استعمال کریں۔تیز کیمیکل والے صابن اور کلینزرز کے استعمال سے اجتناب کرنا بھی بہتر ہے۔
٭بالوں پر اگر ڈائی استعمال کرتے ہوں تو چاہئے کہ اس سے پہلے ماہرِامراضِ جلدسے مشورہ کر لیں۔نیز کسی بھی قسم کا فیشئل یا فیس ماسک وغیرہ اپنے ڈرماٹالوجسٹ کے مشورے کے بغیر مت کریں۔