محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس کے 24 سے 26 ملین مریض رمضان میں روزہ رکھتے ہیں۔ ان کی اکثریت اس سے قبل طبی مشورہ نہیں لیتی جس سے پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مناسب منصوبہ بندی سے زیادہ تر مریض روزہ رکھ سکتے ہیں۔ یہ بات بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈایابیٹالوجی اینڈ اینڈوکرائنالوجی میں منعقدہ کانفرنس میں کہی گئی۔
پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے سابق صدر پروفیسر جاوید اکرم کانفرنس کے مہمان خصوصی تھے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے تقریباً 34.5 ملین مریض ہیں۔ ٹائپ ون کے مریضوں کی تعداد تقریباً تین لاکھ ہے۔ انہوں نے رمضان سے پہلے رسک اسیسمنٹ، ادویات کی روزوں کے مطابق ایڈجسٹمنٹ اور شوگر کی باقاعدہ جانچ پر زور دیا۔
ماہرین نے کہا کہ دن میں 3 سے 5 بار شوگر چیک کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق شوگر چیک کرنے سے روزہ نہیں توڑتا۔ اگر شوگر 70 سے کم یا 300 سے زیادہ ہو تو روزہ توڑنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ایپس بھی روزے میں ذیابیطس کی مانٹرنگ میں مدد دے سکتی ہیں۔