مرگی (Epilepsy) ایک دماغی مرض ہے جس میں فرد کو بار بار دورے پڑتے ہیں۔ یہ بیماری ہر عمر، جنس اور نسل کے افراد کو متاثر کر سکتی ہے۔ زیادہ تر مریضوں میں دوروں کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کو عمر بھر علاج کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ بعض بچوں میں عمر کے ساتھ یہ بیماری ختم ہو جاتی ہے۔
علامات
مرگی کے دوروں کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں کیونکہ ان کا تعلق دماغی سرگرمی سے ہوتا ہے۔ عام علامات میں شامل ہیں:
٭ چند لمحوں کیلئے کنفیوژن کی حالت میں ہونا
٭ خالی نظروں سے دیکھنا
٭ پٹھوں کا سخت ہو جانا
٭ ہاتھوں یا ٹانگوں کا جھٹکے سے ہلنا
٭ بے ہوشی
٭ خوف یا بے چینی جیسے نفسیاتی احساسات
اکثر مریضوں میں ہر بار دورے کی علامات تقریباً ایک جیسی ہوتی ہیں۔ بعض مریضوں میں رویے میں تبدیلی آتی ہے، اور بعض افراد میں سائیکوسس کی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
دورے سے پہلے علامات
کچھ مریضوں کو دورہ شروع ہونے سے پہلے مخصوص علامات محسوس ہوتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
٭ معدے میں کچھ گڑ بڑ محسوس ہونا
٭ اچانک خوف یا خوشی
٭ ایسا محسوس ہونا جیسے کوئی واقعہ پہلے بھی گزر چکا ہو (déjà vu)
٭ کسی بو یا ذائقے کا محسوس ہونا
٭ چمکتی روشنی یا رنگ دیکھنا
٭ چکر آنا یا توازن کھونا
٭ ایسی چیزیں نظر آنا جو حقیقت میں موجود نہ ہوں
دوروں کی اقسام
دوروں کو بنیادی طور پر دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے: فوکل دورے اور جنرلائزڈ دورے۔
فوکل دورے
یہ دماغ کے ایک مخصوص حصے سے شروع ہوتے ہیں۔ بعض اوقات مریض کا ہوش برقرار رہتا ہے مگر جذبات، حواس یا جسم کے کسی حصے کی حرکت متاثر ہو سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں شعور متاثر ہوتا ہے اور مریض خلا میں دیکھتا رہتا ہے یا بار بار ایک ہی حرکت دہراتا ہے۔
جنرلائزڈ دورے
یہ دماغ کے زیادہ حصوں کو متاثر کرتے ہیں۔ ان کی اہم علامات میں شامل ہیں:
٭ چند سیکنڈ کے لیے خلا میں دیکھنا
٭ پٹھوں کا سخت ہونا
٭ پٹھوں کی طاقت ختم ہونا اور گر جانا
٭ بار بار جھٹکے لگنا
٭ اچانک مختصر جھٹکے
٭ شدید دورے، بے ہوشی اور جسم کا اکڑنا
وجوہات
تقریباً نصف مریضوں میں مرگی کی واضح وجہ سامنے نہیں آتی۔ باقی مریضوں میں ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں:
٭ جینیاتی عوامل
٭ سر کی چوٹ
٭ دماغی رسولیاں
٭ دماغی خون کی نالیوں کی خرابی
٭ انفیکشن جیسے میننجائٹس یا وائرل انسیفلائٹس
٭ پیدائش سے پہلے دماغی نقصان
٭ نشوونما سے متعلق بیماریاں
دوروں کے محرکات
کچھ عوامل مرگی کے مریضوں میں دورے کے امکانات کو بڑھا سکتے ہیں، جیسے:
٭ الکحل کا استعمال
٭ تیز چمکتی روشنی
٭ منشیات کا استعمال
٭ دوائیں چھوڑ دینا
٭ نیند کی کمی
٭ ہارمون کی تبدیلیاں
٭ ذہنی دباؤ
٭ پانی کی کمی
٭ کھانا چھوڑ دینا
٭ بیماری
خطرے کے عوامل
کچھ عوامل مرگی کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں:
٭ بچپن یا بڑھاپا
٭ فیملی ہسٹری
٭ سر کی چوٹ
٭ سٹروک یا خون کی نالیوں کی بیماریاں
٭ دماغی انفیکشن
٭ بچپن میں شدید بخار
پیچیدگیاں
دورے بعض اوقات خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ممکنہ پیچیدگیوں میں شامل ہیں:
٭ گرنے سے سر کی چوٹ یا ہڈی ٹوٹنا
٭ پانی میں دورہ آنے سے ڈوبنے کا خطرہ
٭ گاڑی چلاتے وقت حادثہ
٭ نیند کی خرابی
٭ حمل کے دوران پیچیدگیاں
٭ یادداشت کے مسائل
خطرناک پیچیدگیاں
اسٹیٹس ایپی لیپٹیکس: یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب دورہ پانچ منٹ سے زیادہ جاری رہے یا بار بار دورے آئیں اور ہوش مکمل طور پر واپس نہ آئے۔ اس سے دماغی نقصان یا موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
اچانک غیر متوقع موت (SUDEP): مرگی کے مریضوں میں اچانک موت کا خطرہ کم ہوتا ہے مگر ممکن ہے، خاص طور پر شدید اور غیر کنٹرول دوروں میں۔
ذہنی صحت کے مسائل
مرگی کے مریضوں میں ذہنی صحت کے مسائل نسبتاً زیادہ پائے جاتے ہیں، جیسے:
٭ ڈپریشن
٭ بے چینی
٭ خودکشی کے خیالات
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
فوری طبی مدد حاصل کریں اگر:
٭ دورہ پانچ منٹ سے زیادہ جاری رہے
٭ دورہ ختم ہونے کے بعد سانس یا ہوش واپس نہ آئے
٭ ایک کے بعد دوسرا دورہ آئے
٭ مریض کو تیز بخار ہو
٭ مریضہ حاملہ ہو
٭ مریض کو ذیابیطس ہو
٭ دورے کے دوران چوٹ لگ جائے
اگر کسی شخص کو پہلی بار دورہ آئے تو بھی فوری طبی مشورہ ضروری ہے۔
تشخیص
مرگی کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر مریض کی علامات اور میڈیکل ہسٹری کا جائزہ لیتا ہے۔ اس کے بعد مختلف ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں، جیسے:
٭ اعصابی معائنہ
٭ خون کے ٹیسٹ
٭ جینیاتی ٹیسٹ
٭ ای ای جی
٭ سی ٹی سکین
٭ ایم آر آئی
٭ پی ای ٹی سکین
٭ ایس پی ای سی ٹی سکین
٭ نیورو سائیکولوجیکل ٹیسٹ
یہ ٹیسٹ دماغی سرگرمی اور دوروں کی اصل جگہ معلوم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
علاج
مرگی کے علاج کا مقصد دوروں کو کم کرنا یا مکمل روکنا ہوتا ہے۔
ادویات
زیادہ تر مریض اینٹی سیژر ادویات سے بہتر ہو جاتے ہیں۔ بعض مریضوں کو ایک سے زیادہ دوائیں لینا پڑتی ہیں۔ ممکنہ ضمنی اثرات میں شامل ہیں:
٭ تھکن
٭ چکر
٭ وزن میں اضافہ
٭ جلدی ری ایکشن
٭ ہم آہنگی میں کمی
٭ یادداشت کے مسائل
سرجری
اگر ادویات مؤثر نہ ہوں تو سرجری کے ذریعے دماغ کے اس حصے کو ہٹایا جا سکتا ہے جہاں سے دورے شروع ہوتے ہیں۔
دیگر علاج
٭ ویگس نرو سٹیمولیشن
٭ ڈیپ برین سٹیمولیشن
٭ ریسپانسیو نیورو سٹیمولیشن
یہ طریقے دماغ کو برقی سگنل دے کر دوروں کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
کیٹو جینک ڈائٹ
زیادہ چکنائی اور کم کاربوہائیڈریٹ والی کیٹو جینک غذا بعض بچوں اور بالغوں میں دوروں کو کم کر سکتی ہے۔ یہ غذا طبی نگرانی میں اپنانا ضروری ہے کیونکہ اس کے کچھ ممکنہ مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
طرز زندگی اور گھریلو احتیاطیں
مرگی کے مریض اپنی بیماری کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرنے کے لیے یہ احتیاطیں اختیار کر سکتے ہیں:
٭ دوائیں باقاعدگی سے لینا
٭ مناسب نیند حاصل کرنا
٭ میڈیکل الرٹ بریسلٹ پہننا
٭ باقاعدہ ورزش کرنا
٭ صحت مند طرز زندگی اپنانا
٭ ذہنی دباؤ کم کرنا
٭ الکحل محدود رکھنا
٭ سگریٹ نوشی سے پرہیز کرنا
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔