مرگی کی سرجری (Epilepsy surgery) ایک میڈیکل پروسیجر ہے جس کا مقصد دوروں کو کم کرنا اور مریض کی زندگی بہتر بنانا ہوتا ہے۔ یہ سرجری زیادہ مؤثر تب ہوتی ہے جب دورے ہمیشہ دماغ کے ایک ہی حصے سے شروع ہوں۔ یہ ابتدائی علاج نہیں ہوتا بلکہ اس پر غور اس وقت کیا جاتا ہے جب کم از کم دو ادویات مؤثر ثابت نہ ہوں۔
سرجری سے پہلے مختلف ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ مریض سرجری کے لیے موزوں ہے یا نہیں اور کون سی سرجری سب سے بہتر رہے گی۔
کیوں کی جاتی ہے
٭ جب ادویات سے دورے کنٹرول نہ ہو سکیں۔ اس حالت کو دوا سے مزاحم مرگی کہا جاتا ہے۔ اس سرجری کا بنیادی مقصد دوروں کو مکمل طور پر روکنا یا ان کی شدت کم کرنا
٭ سرجری کے بعد بھی مریض کو کم از کم دو سال تک ادویات جاری رکھنی پڑتی ہیں۔ وقت کے ساتھ خوراک کم یا ادویات بند کی جا سکتی ہیں
دوروں کو کنٹرول کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ علاج نہ ہونے کی صورت میں سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں:
٭ دورے کے دوران جسمانی چوٹ
٭ نہاتے یا تیرتے وقت ڈوبنے کا خطرہ
٭ ڈپریشن اور بے چینی
٭ بچوں میں نشوونما میں تاخیر
٭ یادداشت یا سوچنے کی صلاحیت میں کمی
٭ اچانک موت، جو ایک نایاب مگر ممکنہ پیچیدگی ہے
سرجری کی اقسام
مرگی کے دورے دماغی خلیوں کی غیر معمولی سرگرمی کے باعث ہوتے ہیں، جنہیں نیورون کہا جاتا ہے۔ سرجری کی قسم اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ دورے دماغ کے کس حصے سے شروع ہوتے ہیں اور مریض کی عمر کیا ہے۔
اہم اقسام درج ذیل ہیں:
ریسیکٹو سرجری: سب سے عام طریقہ، جس میں دماغ کے متاثرہ حصے کو نکالا جاتا ہے، اکثر ٹیمپورل لوب، جو یادداشت، زبان اور جذبات کو کنٹرول کرتا ہے
لیزر انٹرسٹیشل تھرمل تھراپی: کم تکلیف دہ طریقہ جس میں لیزر کے ذریعے دماغ کے چھوٹے متاثرہ حصے کو ختم کیا جاتا ہے
ڈیپ برین سٹیمولیشن: دماغ میں الیکٹروڈ اور سینے میں ایک آلہ نصب کیا جاتا ہے جو برقی سگنلز کے ذریعے دوروں کو کم کرتا ہے
کارپس کیلوسوٹومی: دماغ کے دونوں حصوں کو جوڑنے والے اعصابی راستے کو جزوی یا مکمل طور پر کاٹا جاتا ہے، زیادہ تر بچوں میں کی جاتی ہے
ہیمی سفیئرکٹومی: دماغ کے ایک سفیئر کو نکالا جاتا ہے، عموماً بچوں میں استعمال ہوتی ہے
فنکشنل ہیمی سفیئرکٹومی: اعصابی رابطے ختم کیے جاتے ہیں مگر دماغ کا حصہ نہیں نکالا جاتا
خطرات
مرگی کی سرجری کے خطرات دماغ کے حصے اور سرجری کی نوعیت پر منحصر ہوتے ہیں۔ ممکنہ خطرات یہ ہیں:
٭ یادداشت اور زبان سے متعلق مسائل
٭ دیکھنے کی صلاحیت متاثر ہونا
٭ ڈپریشن یا مزاج میں تبدیلی
٭ سر درد
٭ سٹروک
سرجری کی تیاری
سرجری سے پہلے مختلف ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ:
٭ معلوم کیا جا سکے کہ مریض سرجری کے لیے موزوں ہے یا نہیں
٭ دماغ کے اس حصے کی نشاندہی کی جا سکے جہاں سے دورے شروع ہوتے ہیں
٭ اس حصے کے افعال کو تفصیل سے سمجھا جا سکے
دوروں کی جگہ معلوم کرنے کے ٹیسٹ
بیس لائن ای ای جی: کھوپڑی پر الیکٹروڈ لگا کر دماغ کی برقی سرگرمی ریکارڈ کی جاتی ہے
ویڈیو ای ای جی: دورے کے دوران ویڈیو اور دماغی سرگرمی بیک وقت ریکارڈ کی جاتی ہے
ایم آر آئی: دماغ کی تفصیلی تصاویر فراہم کر کے خراب خلیوں یا ٹیومر کی نشاندہی کی جاتی ہے
انویسیو ای ای جی مانیٹرنگ: سرجری کے ذریعے الیکٹروڈ دماغ پر یا اس کے اندر لگائے جاتے ہیں
ویڈیو ای ای جی مع انویسیو الیکٹروڈ: سرجری کے بعد دوروں کی ریکارڈنگ
پی ای ٹی سکین: دوروں کے بغیر دماغی فعالیت کا جائزہ
سپیکٹ سکین: دورے کے دوران دماغ میں خون کے بہاؤ کی پیمائش
دماغی افعال سمجھنے کے ٹیسٹ
٭ فنکشنل ایم آر آئی: مخصوص کام کے دوران دماغی سرگرمی دکھاتا ہے
٭ واڈا ٹیسٹ: دماغ کے ایک حصے کو عارضی طور پر غیر فعال کر کے زبان اور یادداشت کی جانچ
٭ برین میپنگ: دماغ کی سطح پر الیکٹروڈ لگا کر برقی سرگرمی کا جائزہ
٭ میگنیٹو اینسیفالوگرافی: دماغی میگنیٹک فیلڈ کا تجزیہ
نیورو سائیکالوجیکل ٹیسٹ
یہ ٹیسٹ یادداشت، سیکھنے اور سوچنے کی صلاحیت کو جانچتے ہیں اور سرجری سے پہلے اور بعد میں دماغی کارکردگی کا موازنہ کرنے میں مدد دیتے ہیں
سرجری کے مراحل
سرجری سے پہلے
٭ انفیکشن سے بچاؤ کے لیے سر کے مخصوص حصے کے بال کاٹے یا صاف کیے جاتے ہیں
٭ ایک باریک نلکی رگ میں ڈالی جاتی ہے تاکہ سیال اور ادویات دی جا سکیں
سرجری کے دوران
٭ دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور آکسیجن کی سطح مسلسل مانیٹر کی جاتی ہے
٭ ای ای جی کے ذریعے دماغی لہریں ریکارڈ کی جاتی ہیں تاکہ دوروں کی جگہ معلوم ہو سکے
٭ یہ سرجری عموماً مکمل بے ہوشی میں کی جاتی ہے۔ بعض اوقات سرجن جزوی طور پر مریض کو بیدار کر سکتا ہے تاکہ دماغی افعال کی درست نشاندہی ہو
٭ سرجن کھوپڑی میں چھوٹا سا حصہ کھولتا ہے اور سرجری مکمل ہونے کے بعد اسے دوبارہ اپنی جگہ لگا دیتا ہے
سرجری کے بعد
٭ مریض کو ریکوری ایریا میں رکھا جاتا ہے جہاں اس کی حالت پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے
٭ اکثر مریض کو پہلی رات انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں گزارنی پڑتی ہے
٭ زیادہ تر مریض تین سے چار دن کے اندر ہسپتال سے فارغ ہو جاتے ہیں
٭ ابتدا میں سر میں سوجن اور درد ہو سکتا ہے، چند ہفتوں میں یہ علامات کم ہو جاتی ہیں
٭ کام یا تعلیم کی واپسی میں ایک سے تین ماہ لگ سکتے ہیں
٭ ابتدائی ہفتوں میں آرام ضروری ہوتا ہے اور بعد میں سرگرمی بتدریج بڑھائی جاتی ہے
٭ بعض مریضوں کو بحالی کی تھیراپی کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے
نتائج
مرگی کی سرجری کے نتائج سرجری کی قسم اور مریض کی حالت پر منحصر ہوتے ہیں، تاہم بنیادی مقصد دوروں کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنا ہے
٭ سب سے عام سرجری، یعنی ٹیمپورل لوب سے متاثرہ حصہ نکالنے کے بعد تقریباً دو تہائی مریض دوروں سے آزاد ہو جاتے ہیں
٭ تحقیقی جائزوں کے مطابق اگر سرجری کے بعد پہلے سال میں دورہ نہ ہو تو اگلے دو سال میں دوروں سے مکمل نجات کا امکان 87 سے 90 فیصد ہوتے ہیں
٭ اگر دو سال تک دورے نہ آئیں تو پانچ سال میں یہ امکان 95 فیصد اور 10 سال میں تقریباً 82 فیصد ہوتا ہے
٭ اگر مریض ایک سال تک دوروں سے محفوظ رہے تو ڈاکٹر ادویات کی مقدار کم کرنے پر غور کر سکتا ہے اور بعض صورتوں میں مکمل بند بھی کی جا سکتی ہیں
٭ اگر ادویات بند کرنے کے بعد دوبارہ دورہ ہو جائے تو عموماً ادویات دوبارہ شروع کر کے دوروں کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔