اینڈو سکوپک الٹراساؤنڈ (Endoscopic ultrasound) یا ”ای یو ایس” ایک میڈیکل پروسیجر ہے۔ اس میں اینڈوسکوپی اور الٹراساؤنڈ کو ملا کر نظام انہضام اور قریبی اعضاء اور ٹشوز کی تفصیلی تصاویر فراہم کی جاتی ہیں۔ اس دوران ایک پتلی، لچکدار ٹیوب (اینڈوسکوپ) معدے میں داخل کی جاتی ہے۔
ٹیوب کے سرے پر موجود الٹراساؤنڈ اعلیٰ فریکوئنسی کی ساؤنڈ ویوز کی مدد سے تصاویر بناتا ہے۔ یہ تصاویر پھیپھڑوں، لبلبے، گال بلیڈر، جگر اور لمف نوڈز سمیت دیگر قریبی اعضاء کی ہوتی ہیں۔ ای یو ایس ان اعضاء اور نظام انہضام سے متعلق بیماریوں کی تشخیص میں مدد فراہم کرتا ہے۔
کبھی کبھار ٹیوب کے ساتھ ایک چھوٹی سی سوئی منسلک کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد سیال یا ٹشو کو نکالنا ہوتا ہے تاکہ اسے لیب میں ٹیسٹ کیا جا سکے۔ اس قسم کے نمونے کو بائیوپسی کہتے ہیں۔ ای یو ایس بعض اوقات سیال نکالنے یا جسم کے کسی مخصوص حصے میں دوا پہنچانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
یہ کیوں کیا جاتا ہے
ای یو ایس نظام انہضام اور قریبی اعضاء و ٹشوز کی بیماریوں کی تشخیص میں مددگار ہے۔ گلے کے ذریعے ٹیوب غذائی نالی، معدے اور چھوٹی آنت کے کچھ حصوں کی تصاویر لیتی ہے۔ بعض اوقات ٹیوب مقعد کے ذریعے داخل کی جاتی ہے تاکہ مقعد اور بڑی آنت کے حصوں کی تصاویر حاصل کی جا سکیں۔
ای یو ایس دیگر قریبی اعضاء اور ٹشوز کی تصاویر بھی لے سکتا ہے، جن میں شامل ہیں:
٭ پھیپھڑے
٭ سینے کے وسط میں لمف نوڈز
٭ جگر
٭ گال بلیڈر
٭ بائل ڈکٹس
٭ لبلبہ
کبھی کبھار سوئی قریبی اعضاء کی جانچ یا علاج کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، یہ سوئی غذائی نالی کی دیوار سے لمف نوڈز تک یا معدے کی دیوار سے لبلبہ میں دوا پہنچانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔
ای یو ایس اور ای یو ایس کے ذریعے باریک سوئی کے ذریعے نمونہ لینے کے طریقے درج ذیل کے لیے مفید ہیں:
٭ ٹشوز میں سوجن یا بیماری کی وجہ سے نقصان کی جانچ
٭ کینسر کی موجودگی اور لمف نوڈز میں اس کا پھیلاؤ معلوم کرنا
٭ کینسر زدہ ٹیومر کے پھیلاؤ کی جانچ
٭ کینسر کے مرحلے کا تعین
٭ دیگر امیجنگ ٹیکنالوجیز سے حاصل شدہ معلومات کو مزید تفصیلی بنانا
٭ ٹیسٹ کے لیے سیال یا ٹشو نکالنا
٭ سسٹ (cysts) سے سیال نکالنا
* کسی مخصوص علاقے جیسے کینسر زدہ ٹومیر میں دوا پہنچانا
خطرات
یہ پروسیجر عموماً ماہرین امراض معدہ انجام دیتے ہیں، جو ای یو ایس میں تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ اس لئے ای یو ایس عام طور پر محفوظ ہے۔ یو ایس کے ممکنہ خطرات (خاص طور پر باریک سوئی کے ذریعے نمونہ لینے سے متعلق) میں شامل ہو سکتے ہیں:
٭ خون بہنا
٭ انفیکشن
٭ اعضاء کی دیوار پھٹ جانا
٭ لبلبہ کی سوجن
پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ای یو ایس کی تیاری کے دوران معالج کی ہدایات پر عمل کریں۔ اگر پروسیجر کے بعد درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر معالج سے رابطہ کریں یا ایمرجنسی میں جائیں:
٭ بخار
٭ شدید یا مسلسل پیٹ میں درد
٭ گردن یا سینے میں درد
٭ شدید متلی یا قے
٭ خون آنا
٭ کالا یا بہت گہرا رنگ کا فضلہ
تیاری
صحت کی ٹیم ای یو ایس کے لیے تیاری کے بارے میں درج ذیل ہدایات دے گی:
٭ کم از کم چھ گھنٹے کچھ نہ کھائیں یا پئیں تاکہ معدہ خالی ہو
٭ اگر ای یو ایس مقعد کے ذریعے کیا جائے تو کولون صاف کرنا ضروری ہے۔ اس کیلئے محلول، لیکوڈ ڈائیٹ یا قبض کش ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں
٭ کچھ ادویات لینے سے روک دیا جا سکتا ہے۔ اس لیے زیر استعمال تمام نسخہ، بغیر نسخہ ادویات، ہربل پراڈکٹس اور سپلیمنٹس کی تفصیل دیں
٭ سکون آور دوا استعمال کرنے کے بعد حرکت یا سوچنے کے عمل میں دشواری ہو سکتی ہے۔ اس لیے کسی کو گھر لے جانے اور دن بھر ساتھ رہنے کے لیے کہیں
پروسیجر
اگر آپ کو انستھیزیا دیا جائے تو دورانِ پروسیجر آپ ہوش میں نہیں ہوں گے۔ سکون آور دوا کے استعمال سے ہلکی تکلیف ہو سکتی ہے، لیکن زیادہ تر لوگ اس دوران سو جاتے ہیں یا مکمل ہوش میں نہیں رہتے۔
آپ عموماً بائیں طرف لیٹیں گے۔ ڈاکٹر پتلی، لچکدار ٹیوب گلے یا مقعد کے ذریعے داخل کرے گا، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ کون سے اعضاء یا ٹشوز کی جانچ کرنی ہے۔
ای یو ایس عام طور پر ایک گھنٹے سے کم میں مکمل ہو جاتا ہے۔ ای یو ایس کے ذریعے باریک سوئی کے طریقے زیادہ وقت لے سکتے ہیں۔
ای یو ایس کے بعد گلے میں خراش یا درد ہو سکتا ہے، جس کے لیے ٹافیاں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
نتائج
٭ خصوصی تربیت یافتہ ماہرین تصاویر کا جائزہ لیتے ہیں
٭ باریک سوئی کے ذریعے نمونہ لینے کے بعد پیتھالوجسٹ نتائج دیکھے گا
٭ ہیلتھ کیئر ٹیم رزلٹس اور آئندہ اقدامات آپ کے ساتھ شیئر کرے گی
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔