Vinkmag ad

کان کا انفیکشن (درمیانی کان)

A South Asian boy winces in pain while a doctor uses an otoscope to examine his inflamed ear in a clinical setting

کان کا انفیکشن (Ear infection) کان کے پردے کے پیچھے والے حصے یعنی درمیانی کان میں ہوتا ہے۔ اسے ایکیوٹ اوٹائٹس میڈیا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ انفیکشن بچوں میں بالغوں کے مقابلے زیادہ عام ہے۔

اکثر صورتوں میں انفیکشن خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے، لیکن بعض اوقات اینٹی بائیوٹکس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ بار بار انفیکشن سننے کی صلاحیت میں کمی یا دیگر پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔

علامات

کان کے انفیکشن کی علامات اکثر اچانک ظاہر ہوتی ہیں۔

بچوں میں علامات

٭ کان میں درد

٭ کان کو کھینچنا

٭ نیند میں دشواری

٭ زیادہ رونا یا چڑچڑا پن

٭ آواز سننے یا جواب دینے میں مشکل

٭ کان سے مائع آنا

٭ بھوک میں کمی

بالغوں میں علامات

٭ کان میں درد یا دباؤ

٭ کان سے مائع آنا

٭ سننے میں مشکل

وجوہات

کان کے انفیکشن کی بنیادی وجہ درمیانی کان میں بیکٹیریا یا وائرس کی موجودگی ہے۔ اکثر یہ نزلہ، زکام، فلو یا الرجی کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ اس سے ناک، حلق اور کان کے اندر سوجن اور رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

یوسٹیشین ٹیوبز کا کردار

یوسٹیشین ٹیوبز (eustachian tubes) درمیانی کان کو حلق سے جوڑتی ہیں، ہوا کا دباؤ برابر رکھتی ہیں اور مائع نکالتی ہیں۔ ٹیوبز کی سوجن یا بندش سے مائع جمع ہو کر انفیکشن پیدا ہو سکتا ہے۔ چھوٹے بچوں میں یہ ٹیوبز تنگ اور افقی ہوتی ہیں، جس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ایڈنوائڈز کا کردار

ناک کے پیچھے موجود ایڈنوائڈز انفیکشن سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ سوجن کی صورت میں ٹیوبز بند ہو سکتی ہیں، جس سے بچوں میں انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

متعلقہ حالتیں

اس سے مراد کان کے انفیکشن یا درمیانی کان کی بیماری سے وابستہ کیفیات ہیں، تاہم ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ عام انفیکشن کی علامات بھی ظاہر کریں۔ یہ حالتیں مندرجہ ذیل ہیں:

٭ درمیانی کان میں مائع جمع ہونا، انفیکشن کی علامات کے بغیر

٭ مائع بار بار یا مسلسل جمع رہنا، جس سے نئے انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے

٭ طویل مدتی انفیکشن، کان کے پردے میں سوراخ، پیپ آنا

خطرے کے عوامل

٭ عمر (6 ماہ–2 سال)

٭ گروپ چائلڈ کیئر میں رہنا

٭ بوتل کے ذریعے فیڈنگ، خاص طور پر جب فیڈنگ کے دوران وہ لیٹے ہوئے ہوں

٭ موسم (خزاں اور سردی)

٭ آلودہ ہوا یا تمباکو کے دھوئیں کے اثرات

٭ ہونٹ یا منہ کے پیدائشی مسائل، جیسے کلیفٹ پیلیٹ

پیچیدگیاں

اکثر انفیکشن طویل پیچیدگیاں پیدا نہیں کرتے، لیکن بار بار یا دیرپا انفیکشن سے:

٭ سماعت میں کمی (عارضی یا مستقل)

٭ بولنے میں تاخیر

٭ انفیکشن کا پھیلاؤ

٭ کان کے پردے کا پھٹنا (اکثر 72 گھنٹوں میں ٹھیک ہو جاتا ہے، بعض اوقات سرجری کی ضرورت پڑتی ہے)

ڈاکٹر سے رجوع کی ضرورت

کان کے انفیکشن کی علامات دیگر بیماریوں میں بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں اگر:

٭ علامات 2-3 دن سے زیادہ برقرار رہیں

٭  6ماہ سے کم عمر بچے میں علامات ظاہر ہوں

٭ علامات بگڑ رہی ہوں

نزلہ زکام یا سانس کی بیماری کے بعد بچے میں بے چینی یا نیند کی کمی ہو

٭ کان سے مائع، پیپ یا خون آنا

٭ سماعت میں کمی

تشخیص

معالج اکثر اوقات اوٹوسکوپ کے ذریعے انفیکشن کی تشخیص کرتے ہیں۔ کان کے پردے کی سرخی یا پھولا ہونا انفیکشن کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایکیوٹ اوٹائٹس میڈیا (Acute Otitis Media): درمیانی کان میں مائع ہوتا ہے اور انفیکشن کی واضح علامات ظاہر ہوتی ہیں، جیسے کان سے اچانک مائع آنا یا شدید درد۔

ایفیوژن کے ساتھ اوٹائٹس میڈیا (Otitis Media with Effusion): درمیانی کان میں مائع موجود ہوتا ہے، لیکن انفیکشن کی علامات نہیں ہوتیں۔ یعنی درد، بخار یا کان سے مائع نہیں آ رہا ہوتا۔

کرونک سپیوریٹیو اوٹائٹس میڈیا (Chronic Suppurative Otitis Media): طویل عرصے سے جاری انفیکشن، جس میں کان کے پردے میں سوراخ ہو چکا ہوتا ہے اور پیپ آ سکتی ہے۔

علاج

دیکھ بھال کے ساتھ انتظار: اکثر انفیکشن چند دنوں میں بہتر ہو جاتے ہیں

پین مینجمنٹ: اوور دی کاؤنٹر ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔ احتیاط کے ساتھ کان کو سن کرنے والے ڈراپس بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں

اینٹی بائیوٹکس: ضرورت پڑنے پر اینٹی بایوٹکس دی جا سکتی ہیں، خاص طور پر شدید علامات یا کم عمر بچوں میں۔ دوا کی تمام خوراک مکمل لینا ضروری ہے۔

کان کی ٹیوبز: بار بار یا طویل مدتی انفیکشن والے بچوں میں درمیانی کان سے مائع نکالنے کے لیے چھوٹی ٹیوبز لگائی جاتی ہیں۔ یہ ٹیوبز عموماً 6 ماہ سے 2 سال تک رہتی ہیں۔

کرونک سپیوریٹیو اوٹائٹس میڈیا: کان کے پردے میں سوراخ والے طویل انفیکشن میں اینٹی بایوٹک ڈراپس استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

مانیٹرنگ: بار بار انفیکشن والے بچوں کی سماعت کا باقاعدہ معائنہ ضروری ہے۔

احتیاطی تدابیر

کان کے انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے کے لیے:

٭ ہاتھ دھونا، ذاتی برتن استعمال کرنا، کھانسی یا چھینک کہنی میں کرنا

٭ سیکنڈ ہینڈ سموک سے بچاؤ

٭ ماں کا دودھ کم از کم 6 ماہ تک

٭ فیڈنگ کے دوران بچے کو سیدھا رکھنا

٭ ضروری ویکسین لگوانا (مثلاً فلو اور دیگر حفاظتی ٹیکے)

نوٹ: یہ مضمون صرف معلومات کے لیے ہے۔ صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے میں اپنے معالج سے رجوع کریں

Vinkmag ad

Read Previous

E. Coli infection

Read Next

Ear Infection (Otitis Media)

Leave a Reply

Most Popular