ای کولی (E. coli) بیکٹیریا عام طور پر صحت مند انسانوں اور جانوروں کی آنتوں میں رہتے ہیں۔ اس کی زیادہ تر اقسام بے ضرر ہوتی ہیں یا مختصر مدتی اسہال پیدا کرتی ہیں۔ تاہم چند اقسام، جیسے ای کولی O157:H7 شدید پیٹ درد، خونی اسہال اور قے کا سبب بن سکتی ہیں۔
ای کولی آلودہ پانی یا خوراک کے ذریعے پھیلتا ہے۔ کچی سبزیاں اور اچھی طرح نہ پکایا گیا قیمہ اس کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ صحت مند بالغ افراد عموماً ایک ہفتے میں تندرست ہو جاتے ہیں، لیکن چھوٹے بچوں اور بزرگ افراد میں گردوں کی خرابی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
علامات
ای- کولی O157:H7 انفیکشن کی علامات بیکٹیریا کے ساتھ رابطے کے تین سے چار دن بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ بعض افراد میں بیماری ایک دن یا ایک ہفتے بعد بھی شروع ہو سکتی ہے۔ اس کی اہم علامات درج ذیل ہیں:
٭ اسہال، جو ہلکے سے شدید اور خونی ہو سکتا ہے
٭ پیٹ میں شدید مروڑ یا درد
٭ بعض افراد میں متلی اور قے
وجوہات
٭ ای- کولی کی صرف چند اقسام اسہال پیدا کرتی ہیں۔ ای- کولی O157:H7 طاقتور زہریلا مادہ پیدا کرتا ہے، جو چھوٹی آنت کی اندرونی تہہ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ انفیکشن اس وقت ہوتا ہے جب انسان اس بیکٹیریا کو نگل لیتا ہے
٭ ای- کولی کم مقدار میں بھی بیماری پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے معمولی کچا برگر کھانے یا آلودہ سوئمنگ پول کا پانی نگلنے سے بھی انفیکشن ہو سکتا ہے
٭ اس انفیکشن کے اہم ذرائع آلودہ خوراک، آلودہ پانی اور متاثرہ افراد سے رابطہ ہیں
آلودہ خوراک
ای- کولی انفیکشن کا سب سے عام ذریعہ آلودہ خوراک ہے، جیسے:
گوشت کا قیمہ: ذبح یا پروسیسنگ کے دوران آنتوں کے بیکٹیریا گوشت پر منتقل ہو سکتے ہیں
نان پاسچرائزڈ دودھ: گائے کے تھنوں یا دودھ نکالنے والے آلات پر موجود بیکٹیریا کچے دودھ میں شامل ہو سکتے ہیں
تازہ سبزیاں اور پھل: کیٹل فارموں سے بہنے والا پانی کھیتوں کو آلودہ کر سکتا ہے، خاص طور پر پتوں والی سبزیاں جیسے پالک
آلودہ پانی
٭ انسانوں اور جانوروں کا فضلہ زیر زمین اور سطحی پانی کو آلودہ کر سکتا ہے
٭ سرکاری پانی عام طور پر کلورین وغیرہ کے ذریعے جراثیم سے پاک کیا جاتا ہے، مگر بعض اوقات آلودہ پانی کی وجہ سے وبائیں پھیل جاتی ہیں
٭ نجی کنویں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں، اس لیے کہ اکثر اوقات ان میں پانی صاف کرنے کا نظام نہیں ہوتا۔ دیہی علاقوں میں آلودگی کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ بعض افراد آلودہ جھیلوں یا پولز میں تیرنے کے بعد بھی انفیکشن کا شکار ہو جاتے ہیں
ذاتی رابطہ
٭ای- کولی آسانی سے ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر متاثرہ افراد ہاتھ صحیح طرح نہ دھوئیں
٭ بچوں کے خاندان میں بھی انفیکشن پھیل سکتا ہے، اور یہ بیماری میلوں یا مویشی منڈیوں میں جانے کے بعد بھی دیکھی گئی ہے
خطرے کے عوامل
ای- کولی ہر اس شخص کو متاثر کر سکتا ہے جو بیکٹیریا کے ساتھ رابطے میں آئے۔ تاہم کچھ افراد میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے:
عمر: چھوٹے بچے اور بزرگ افراد زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں
کمزور مدافعتی نظام: ایڈز یا کینسر کے علاج کے باعث مدافعت کمزور افراد زیادہ بیمار ہو سکتے ہیں
مخصوص غذائیں: اچھی طرح نہ پکا ہوا برگر، نان پاسچرائزڈ دودھ، اور سیب کا جوس اس کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں
موسم: پاکستان میں گرمیوں اور مون سون کے دوران، خاص طور پر جون سے ستمبر تک، انفیکشن بڑھ جاتے ہیں
معدے کے تیزاب میں کمی: معدے کا تیزاب ای- کولی سے جزوی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ تیزاب کم کرنے والی ادویات استعمال کرنے سے خطرہ بڑھ سکتا ہے
ممکنہ پیچیدگیاں
زیادہ تر صحت مند بالغ افراد ایک ہفتے میں تندرست ہو جاتے ہیں۔ تاہم بعض افراد، خاص طور پر بچے اور بزرگ، گردوں کی خطرناک خرابی کے شکار ہو سکتے ہیں، جسے ہیمولائٹک یوریمک سنڈروم کہتے ہیں۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر اسہال مسلسل جاری رہے، شدید ہو جائے یا اس میں خون نظر آئے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
تشخیص
٭ ای- کولی انفیکشن کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر پاخانے کا نمونہ لیبارٹری میں بھیجتا ہے
٭ لیبارٹری میں بیکٹیریا کی موجودگی کی جانچ کی جاتی ہے
٭ بعض صورتوں میں بیکٹیریا کو کلچر کر کے مخصوص زہریلے مادوں کی شناخت بھی کی جاتی ہے
علاج
ای- کولی انفیکشن کے لیے کوئی مخصوص دوا موجود نہیں جو فوری علاج کرے۔ زیادہ تر افراد میں علاج کا مقصد جسم کو توانا رکھنا اور پانی کی کمی سے بچانا ہوتا ہے۔ علاج میں شامل ہیں:
٭ آرام کرنا
٭ مناسب مقدار میں پانی پینا
٭ اسہال روکنے والی ادویات سے پرہیز
٭ اینٹی بایوٹکس عام طور پر تجویز نہیں کی جاتیں
٭ شدید انفیکشن میں ہسپتال میں داخلہ، IV ڈرپس، خون کی منتقلی اور گردوں کے ڈائلیسز کی ضرورت پڑ سکتی ہے
گھر پر نگہداشت
٭ زیادہ مقدار میں شفاف مشروبات (پانی، صاف سوپ، سادہ سوڈا، جیلٹن، جوس) پیئیں۔ سیب یا ناشپاتی کے جوس، کیفین اور الکحل سے پرہیز کریں
٭ بعض غذاؤں مثلاً دودھ کی مصنوعات، چکنائی والی غذائیں، زیادہ فائبر یا مصالحہ دار خوراک سے پرہیز کریں
٭ جب طبیعت بہتر ہو جائے تو آہستہ آہستہ معمول کی غذا دوبارہ شروع کریں
احتیاطی تدابیر
فی الحال ای- کولی کے لیے کوئی ویکسین یا مخصوص دوا دستیاب نہیں ہے، مگر اس پر تحقیق ہو رہی ہے۔
٭ جھیلوں یا پولز کا پانی نگلنے سے بچیں
٭ ہاتھ باقاعدگی سے دھوئیں
٭ کھانا اچھی طرح پکائیں
٭ کچی اور پکی خوراک کے درمیان جراثیم کی منتقلی سے بچیں
غذاؤں سے متعلق احتیاطیں
٭ برگر کو کم از کم 160° (71°C) تک پکائیں، اور گوشت میں گلابی رنگ نہ رہے
٭ گوشت کا رنگ ہمیشہ مکمل پکنے کی درست علامت نہیں، لہٰذا تھرما میٹر سے درجہ حرارت چیک کریں
٭ پاسچرائزڈ دودھ استعمال کریں، بغیر پاسچرائز دودھ یا جوس سے پرہیز کریں
٭ کچی سبزیوں اور پھلوں کو اچھی طرح دھوئیں
کراس آلودگی سے بچاؤ
٭ برتن، چاقو، کاؤنٹر اور کٹنگ بورڈ کو استعمال سے پہلے اور بعد میں گرم پانی اور صابن سے دھوئیں
٭ کچی اور پکی خوراک الگ رکھیں۔ پکی غذا کو کچے گوشت والی پلیٹ میں نہ رکھیں
٭ ہاتھ اچھی طرح سے دھوئیں۔ بچوں کو بھی کھانے سے پہلے اور جانوروں سے رابطے کے بعد ہاتھ دھونے کی عادت ڈالیں
نوٹ: یہ مضمون صرف معلومات کے لیے ہے۔ صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے میں اپنے معالج سے رجوع کریں