بیماریوں کی مافوق الفطرت علامات…جنات کو معاف ہی رکھیں

347

بچوں کو کسی کام سے روکنے کے لیے مائیں بالعموم جنوں کا ڈراوا دیتی ہیں ۔ یہی ڈر اور خوف بچوں کے ذہنوں میں کنڈلی مار کر بیٹھ جاتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑا بھی ہوتا جاتا ہے ۔لوگوں کی اکثریت اس بات کو مانتی ہے کہ جنات کسی فرد کوپڑ کر اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں جبکہ سائیکاٹرسٹ حضرات کچھ اور ہی کہتے ہیں ۔ شالمیارمیڈیکل کالج لاہور ماہرِ نفسیات ڈاکٹر سعد ملک سے گفتگو کی روشنی میں ثنا ظفر کی معلوماتی تحریر


جنات کے بارے میں مختلف تصورات پائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے نزدیک یہ ایک غیر مرئی مخلوق ہے جو حقیقت میں وجود رکھتی ہے جس کے ساتھ انسان کا تعلق بہت پرانا ہے۔ کبھی وہ ویران اور آباد‘ دونوں طرح کے گھروں میں بسیرا کرلیتے ہیں تو کبھی انسانوں کے ذہنوں پرحاوی ہو کر ان کا سکون برباد کر دیتے ہیں ۔کسی کے قبضے میں جن ہیں تو کسی پر جنوں کا قبضہ ہے۔ دوسری طرح عقلیت پرست ہیں جو اسے انسانی ذہن کی کارستانی بتاتے ہیں۔
بات یہ ہے کہ انسانوں کی زندگی نہ جانے کن کن الجھنوں میںگھری ہوئی ہے۔ بہت سے لوگ کسی سے ان کا اظہار نہیں کرتے لہٰذا یہ الجھنیں انہیں اندر ہی اندر متاثر کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ ایسی ہی کہانی سرگودھا کی رہنے والی ایک لڑکی مدیحہ (فرضی نام ) کی ہے جو اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی اورلاڈلی ہے۔
مدیحہ کو معدے اور بخارکے مسائل تو رہتے ہی تھے لیکن دوا کھانے کے بعد وہ اکثرٹھیک ہو جاتی تھی۔ پھر ایک دن اچانک اس کے ہاتھ مڑنے لگے اور اس نے چیخنا چلانا شروع کر دیا۔ مدیحہ کے بھائی یاسر سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو اس کا کہنا تھا:
”مدیحہ کو اچانک دورے پڑتے تھے اور اس کی آواز بدل جاتی تھی۔ وہ دوسروں کو اور بعض اوقات اپنے آپ کو مارنے کی کوشش کرتی تھی۔ اس صورتحال میں اسے سنبھالنا بہت مشکل ہوتا تھا۔ میں ساری رات جاگ کر پہرہ دیتا کہ کہیں وہ خود کو نقصان نہ پہنچا لے۔“
جب صورتحال شدت اختیار کر گئی تو انہیں کسی نے مشورہ دیا کہ آپ فلاں عامل سے رابطہ کریں کیونکہ یہ کوئی عام معاملہ نہیں لگ رہا بلکہ اس پر کسی جن کا سایہ ہے۔لوگوں کے مشوروں اور اس معاملے کو مافوق الفطرت سمجھتے ہوئے انہوں نے قریبی گاﺅں کے ایک ایسے شخص سے رابطہ کیا جو لوگوں کے بقول جن نکالنے میں ماہرتھا ۔مدیحہ کی والدہ کا کہنا تھا:
”جب ہم اس کے پاس پہنچے تو اس نے کچھ عمل وغیرہ کیے اور پھر کہاکہ کسی قریبی عزیز نے تعویزوں کے ذریعے اس کے پیچھے جن لگائے ہیں جو اسے چین سے بیٹھنے نہیں دیتے۔اس کا کہنا تھا کہ وہ کل عمل کرے گاجس سے جن بھاگ جائے گا۔ اس پر کچھ خرچ بھی آئے گا۔“
پریشانی میں گھری مدیحہ کی ماں فوراً مان گئی اوراس نے رقم کا بھی انتظام کر لیا گیا ۔یہ عمل اگلے کئی دن ہوتا رہا لیکن جن تھا کہ نکلنے کا نام ہی نہیںلیتا تھا ۔دوسری طرف مدیحہ کا سرخ و سفید رنگ سیاہ ہوگیا تھا۔ وہ اتنی کمزور تھی کہ اس پر کسی ڈھانچے کا گمان ہوتا تھا۔ ان کے ہمسائے میں ایک خاتون رہتی تھیں جو تعلیم یافتہ بھی تھیں۔ جب کافی وقت گزرنے کے باوجود مدیحہ کی حالت میں کوئی تبدیلی نہ آئی تواس خاتون نے اسے کسی اچھے ماہرِ نفسیات کو دکھانے کا مشورہ دیا۔
علاج میں کچھ وقت لگا۔اس دوران اس کے گھر والوں نے بھی صبر سے اس سارے مرحلے کو دیکھا۔ علاج اور گھروالوں کے تعاون سے اس میں آہستہ آہستہ بہتری آرہی ہے۔
بچپن سے ہی جنوں بھوتوں سے ڈرائے جانے کی وجہ سے ہمارے ذہنوں میں جن کی کوئی خاص شکل بیٹھ جاتی ہے لیکن اگر بچے کی صحیح رخ پر تربیت کی جائے تو پھر ایسا نہیں ہو گا۔ ایسے معاملات میں اچھے ماہرِ نفسیات سے ضرور رابطہ کرنا چاہیے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of