لتھوٹرپٹر کی دریافت

1

لتھوٹرپٹر کی دریافت

 ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی زوردار دھماکہ ہوتا ہے تو بعض اوقات( محض تیز آواز کی وجہ سے) لوگوں کے کان کے پردے پھٹ جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی کے کان کے پاس فائر کیا جائے تو اسے گولی نہیں لگتی۔ تاہم محض آواز کی قوت سے اس کے کان کاپردہ متاثر ہوتا ہے ۔ اسی طرح اگر جہازکسی بلڈنگ کے پاس سے زیادہ گزریں تواس کے شیشے میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ حالانکہ جہاز اس سے ٹکرایا نہیں ہوتا۔ گردے کی پتھری توڑنے کے لئے آواز کی اسی صلاحیت کو ’’شاک ویوز‘‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔

پہلا لتھو ٹرپٹر

سن 1980ء کی دھائی میں ڈورنئیر نامی کمپنی کے افراد نے مشاہدہ کیا کہ جہاز کے دو انجن ایک خاص سپیڈ سے چلیں تو جہاز کے شیشے ٹوٹ جاتے ہیں۔ اس سے انہیں خیال آیا کہ اس طرح پیداشدہ’’ شاک ویوز‘‘ کو میڈیسن سمیت دیگر شعبوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس پر مزید تحقیق ہوئی تو’’ایچ ایم تھری‘‘ کے نام سے پہلا لتھو ٹرپٹر سامنے آ گیا۔ پہلی مشین سائز میں کافی بڑی تھی ۔اس میں مریض کو پانی کے ایک ٹب میں لٹا کر گردے کی پتھری کو توڑا جاتا تھا ۔

مشین میں تبدیلیاں

ابتدائی طور پر تیار ہونے والے لتھوٹرپٹر میں تیزی سے تبدیلیاں آئیں۔ اب پانی کا ٹب غائب ہو چکا ہے اور اس کی جگہ ایک واٹر کشن نے لے لی ہے ۔ابتدائی طور پرزیرآب برقی شعاعیں پیدا کی جاتی تھیں جن کی جگہ اب برق مقناطیسیت نے لے لی ہے۔ یہ طبی طور پر زیادہ محفوظ ہے۔ اس کی مدد سے پتھری بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر ختم ہو جاتی ہے ۔ اس سے معمولی سا نقصان ہوتا ہے جو ایک ہی دن میں ٹھیک ہوجاتا ہے۔

جب بھی کوئی نئی چیز آتی ہے تو اس کے مضر ضمنی اثرات جاننے کے لئے مختلف سٹڈیز کی جاتی ہیں ۔اب تک جو بھی سٹڈیذ ہوئیں‘ ان میں یہ بات سامنے آئی کہ پتھری نکالنے کے لئے اختیار کردہ تمام پروسیجرز میں سے سب سے کم نقصان لتھو ٹرپسی میں ہوتا ہے۔ بلکہ یہ کہنا بھی مبالغہ نہ ہوگا کہ اس میں کوئی نقصان نہیں ہوتا ۔ پیشاب میں ہلکا ساخون آتا ہے جو ایک آدھ دن میں ختم ہوجاتا ہے ۔

lithotripter, discovery, effective stone removal

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x