اسہال‘ کرے بے حال

2

اسہال‘ کرے بے حال

اسہال ایک ایسی بیماری ہے جو ہمارے ہاں اتنی زیادہ ہے کہ یہاں شاید ہی کوئی فرد ایسا ہو جو کبھی اس کا شکار نہ ہوا ہو۔ اس کی مختلف کیفیتیں ہیں۔ مثلاً یہ ہلکا ،عارضی اور کچھ حالتوں میں شدید اور جان لیوا بھی ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً دو ارب لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان میں بچوں کی تعداد 19لاکھ ہے جن کی اکثریت کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہوتاہے۔ ڈائریا کی وجہ خاص قسم کے بیکٹیریا،وائرس یا پیراسائیٹس ہوتے ہیں۔

ڈائریا کیا ہے

ڈائریا ایک ایسی حالت ہے جس میں مائع شکل کا پاخانہ دن میں 10سے 12 بار مریض کے جسم سے خارج ہوتا ہے۔اس کے نتیجے میں مریض کے جسم میں پانی کی شدیدکمی،جسمانی کمزوری اورکبھی کبھی بخار کی شکایت بھی ہوجاتی ہے۔

اسہال کی عام علامات میں پیٹ میں دردیا مڑور،اپھار اور مریض کے وزن میں کمی شامل ہیں۔ زیادہ سنگین حالت میں خونی پیچش یاپیچش میں پیپ کا آنا بھی اس کی علامات میں شامل ہیں۔

اینٹی بائیوٹکس اور پیچش

بعض لوگوں کو مخصوص اینٹی بائیوٹکس کھانے کی وجہ سے پانی کی طرح پتلے پاخانے آسکتے ہیں۔ایسی صورت میں یہ تکلیف عموماً ایک سے سات دن تک رہتی ہے۔ انسانی آنتوں میں ایک خاص تناسب سے بہت چھوٹے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں۔ جب کوئی مریض کسی نقصان دہ بیکٹیریا کو مارنے کے لئے اینٹی بائیوٹیکس کھاتا ہے تو آنتوں میں موجود ان(صحت مند) بیکٹیریاکا توازن بھی بگڑ جاتا ہے۔ یہ پہلے آنتوں میں انفکشن اور پھر پیچش کا باعث بنتا ہے۔

گندم سے الرجی

یہ نظام انہظام سے متعلق ایک ایسی بیماری ہے جو چھوٹی آنت کو نقصان پہنچا کر خوراک کے اجزاء کو ہضم ہونے سے روکتی ہے۔ جن لوگوں کو یہ بیماری ہوجائے‘ وہ گلوٹن جو پروٹین کی ایک خاص قسم ہے کو ہضم نہیں کر سکتے ۔ گلوٹن زیادہ تر گندم،رائی اور جو میں پایا جاتا ہے۔ جن لوگوں کی غذا میں یہ پروٹین شامل رہے، انہیں مستقلاً دست لگے رہتے ہیں۔

علامات

اس بیماری کی علامات ہر شخص میں مختلف ہوتی ہیں۔ بچوں میں جو علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ان میں اسہال ، پیٹ میں مڑور اور درد اٹھنا، دست، قے، قبض،وزن کی کمی،چڑچڑاپن‘ د یر سے بلوغت کے آثار ظاہر ہونا، چھوٹا قد اور دانتوں کے مسائل وغیرہ اہم ہیں۔ اس بیماری کا واحد علاج گلوٹین سے پاک غذا ہے۔

احتیاطی تدابیر

مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس بیماری سے آسانی سے بچا جا سکتا ہے

٭پینے کے لئے ابلا ہوا صاف پانی استعمال کریں۔

٭ ہمیشہ صابن سے ہاتھ دھونے کی عادت کو یقینی بنائیں ۔ خاص طور پر کھانا پکانے اور کھانے سے پہلے،کھانا کھانے کے بعد۔ بچے کو صاف کرنے سے پہلے اور صاف کرنے کے بعد اچھی طرح سے ہاتھ دھوئیں ۔

٭ بچے کو دودھ پلانے والی مائیں صفائی کا خاص خیال رکھیں۔

٭خود کو اور باورچی خانے کو حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق بیماریوں سے پاک رکھنے کی کوشش کریں۔

٭غیر معیاری اشیاء کی خوردونوش سے سختی سے پرہیز کریں ۔

جسم میں پانی کی کمی

اچانک ہونے والے ڈائریا کی صورت میں عموماًکسی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ البتہ اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ مریض کے جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے پائے۔ اس کمی کو مائع جات (مثلاً پانی، نمکول اور دیگر مشروبات) کے ذریعے پورا کیا جائے۔ اس کے علاوہ دہی میں کیلا یا اسپغول کا چھلکا ڈال کر بھی مریض کو دیا جا سکتا ہے۔ ڈائریا کے مر یضوں کے لئے ابلے چاولوں کی پچ(پانی) کافی فائدہ مند ہوتی ہے۔ اگر مریض میں پانی کی شدید کمی یا پیچش کی مقدار میں اضافہ ہو جائے یا دو ہفتوں تک یہ مرض ٹھیک نہ ہوتو بلاتاخیر امراض ِ معدہ اور چھوٹی آنت کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔

Diarrhea, causes, symptoms, treatment, dehydration

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x