ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشراوردل

ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشراوردل

ذیابیطس ٹائپ ٹوکے شکارافراد کو خون میں جمع شدہ گلوکوزکوتوانائی میں تبدیل کرنے کے لئے زیادہ انسولین درکارہوتی ہے۔ یہ انسولین خون میں نمکیات اورمائع جات کی مقدارکوبڑھاتی ہے جوبلڈپریشربڑھنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ جن کا مرض پرانا ہو ان میں خون کی نالیوں کو نقصان پہنچتا ہے، ان پردباؤ پڑتا ہے اوروہ سخت ہوجاتی ہیں۔

اسی طرح ذیابیطس اورامراض قلب کا بھی گہرا تعلق ہے۔ جب خون میں شوگرکی مقدارمسلسل بڑھتی رہتی ہے توخون کی نالیوں اوران اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے جو دل اورانہیں کنٹرول کرتے ہیں۔ پھروقت کے ساتھ ساتھ فرد امراض قلب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں میں دل کی بیماریوں کے امکانات نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں۔ مزیدبرآں اگردل کے مریضوں کو ذیابیطس ہوجائے توپھرپہلے مرض میں شدت پیدا ہوسکتی ہے۔ اس کےعلاوہ

٭ذیابیطس کے مریضوں کوکارونری شریان کی بیماری ہونے کے زیادہ امکان ہوتے ہیں۔

٭ہارٹ اٹیک بغیرسینے میں درد کے بھی ہو سکتا ہے۔

ایسے مریض خون میں شوگرکی مقدار کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہیں، بلڈپریشر کو قابو میں رکھیں، معالج سے رابطے میں رہیں اوراس کی تجویز کردہ ادویات باقاعدگی سے استعمال کریں۔

diabetes, high blood pressure and heart, effect of diabetes on heart and blood pressure

LEAVE YOUR COMMENTS