ذہنی دباﺅ‘ کیسے نمٹیں

423

ٹریفک جام کے وقت ہاتھ سے نکلتی قوت برداشت ،دفتر میں کام کی زیادتی کی وجہ سے پیداشدہ مخصوص ذہنی کیفیت ، گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے ہونے والاسر درد اور گلی محلے میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر برپادنگا فساد کا بنیادی سبب معاشرے میں بڑھتا ذہنی دباو¿ ہے۔ا س سے کیسے نپٹا جائے‘ پڑھیے لاہور سے تعلق رکھنے والی سائیکالوجسٹ سحرش احمد سے لیے گئے انٹرویو کی روشنی میںثمانہ سید کی اس معلومات افزاءتحریرمیں

”ریحانہ!تم رات کو چیزیں ترتیب سے رکھ کر کیوں نہیں سوتیں۔ اب میں اتنی جلدی تمہاری کتابیںاور کاپیاں کہاں سے ڈھونڈوں؟ “ ریحانہ کی امی نے صبح صبح غصے میں اسے ڈانٹا اورپھر سر پکڑ کر بیٹھ گئیں: ”اب تو میرا سارا دن خراب گزرے گا۔“
چیزوں کو ترتیب سے رکھنا چاہئے ‘ اس لئے کہ اس سے صبح کے وقت انہیں ڈھونڈنے میں آسانی ہوتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ریحانہ کے ایسا نہ کرنے کی وجہ سے اس کی امی کا سارا دن کیوں خراب گزرے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ پہلے سے ذہنی تناﺅ(stress) کی شکار ہیں لہٰذا چھوٹی چھوٹی باتوں پر بہت زیادہ ٹینشن لیتی ہیں۔

ذہنی دباﺅ کیا ہے
ذہنی دباﺅ ایک ایسی نفسیاتی کیفیت ہے جو دماغ (brain) ذہن(mind)اور جسم‘ تینوں کو متاثر کرتا ہے۔ ایسی کیفیت میں جسم ایڈرینالین (adrenaline)ہارمون خارج کرتا ہے جس سے آنکھ کی پتلی پھیل جاتی ہے، پسینے آنے لگتے ہیں اورفرد خود پر دباﺅ محسوس کرتا ہے۔
تناﺅ یا ذہنی دباﺅ کی مختلف معاشرتی، معاشی اور ذاتی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں ملک کے غیر یقینی حالات، گھریلو جھگڑے ‘ تعلقات میں کھچاﺅ‘ معاشی مشکلات اور کام کا دباﺅ نمایاں ہیں۔

بچاﺅ کی تدابیر
اگر کچھ عادات کواپنے معمولات زندگی میں شامل کرلیا جائے تو ذہنی دباﺅ سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے ۔ وہ درج ذیل ہیں:

جسمانی ورزش
ذہنی دباﺅ سے بچنے کے لیے سب سے ضروری چیز فرد کا جسمانی طور پر صحت مند ہونا ہے جواسے اندرونی مضبوطی بھی فراہم کرتا ہے ۔ اس کے لیے ورزش بہت اہم ہے۔آسان اور موثر ترین ورزش تیز چلنا (brisk walk)ہے جسے ہرکوئی‘ کہیں بھی کر سکتا ہے۔اس مشق میں خراب موڈ کو اچانک ٹھیک کرنے کی صلاحیت موجود ہے‘ اس لئے کہ اس سے دماغی خلیوں میں آکسیجن کی فراہمی بہتر ہو جاتی ہے ۔
ورزش کرنے سے انسانی جسم میں دباﺅ پیدا کر نے والے ہارمونز کی جگہ موڈ ٹھیک کرنے والا ہارمون خارج ہوتا ہے جس سے فرد خود کو بہتر محسوس کرنے لگتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہفتے میںکم از کم پانچ بارآدھے گھنٹے کی ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔
کچھ لوگوں‘ خصوصاً خواتین کاخیال ہے کہ گھریلو کام کاج ورزش کا متبادل ہیں‘ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ورزش کے فوائد تب زیادہ ہوتے ہیں جب فرد کا پورادھیان اسی کی طرف ہو۔ مزید براں اس میں کم از کم 20منٹ تک بغیر وقفے کے جسمانی سرگرمی ضروری ہوتی ہے جو معمول کے کام کاج کے دوران حاصل نہیں ہوتی ۔

مراقبہ(meditation)
مراقبہ بظاہر تصوف کی اصطلاح ہے جس میں ایک فرد آنکھیں بند کر کے اپنا دھیان دل پر دیتا ہے۔ ماہر ین نفسیات اس مشق کو ذہنی سکون حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ سکون کی خاطر مراقبے کا بنیادی مقصد ذہن کو تمام سوچوں سے پاک کر کے ایک نقطے پر مرکوز کرنا ہوتاہے۔اس سے منفی سوچیں مردہ ہونے لگتی ہیں اور ذہن تازہ ہو جاتا ہے۔ عبادات بھی اس میں مفید ہیں‘ اس لئے کہ ان کے دوران فرد اپنے دماغ کو دنیاوی سوچوں سے خالی کرلیتا ہے۔ اس سے نہ صرف ذہن بلکہ جسم بھی دوبارہ سے توانا(rejuvenate) ہوجاتا ہے ۔

مرغن غذا سے پرہیز
مرغن غذائیں ذہنی دباﺅ پیدا کرتی ہیں لہٰذا ان کا استعمال کم سے کم کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ کولا ڈرنکس کی بجائے پانی زیادہ پئیں۔ اس سے دماغی خلئے سکڑتے نہیں اور منفی سوچیں بھی کم پید اہوتی ہیں۔

مثبت سوچیں
جب انسان کی سوچ مثبت ہوتی ہے تو اس پر ذہنی دباﺅ کا اثرنہ صرف کم ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات مثبت بھی ہوجاتا ہے۔ دباﺅ کے وقت خود کو سمجھائیں کہ اس وقت آپ جس وجہ سے پریشان ہیں‘ اس کی شدت اتنی زیادہ نہیں جتنی آپ محسوس کر رہے ہیں۔ جب آپ اپنی سوچ کا دھارا اس طرف موڑیں گے توخودبخود مثبت انداز میں سوچنے لگیں گے اور دباﺅ محسوس نہیں کریں گے۔نیز دباﺅ کی حالت میں فوراً جواب یاردِعمل دینے سے پرہیز کریں۔

مثبت پڑھیں اور دیکھیں
ذہنی دباﺅ کی بڑھوتری میں میڈیا کا بھی بہت ہاتھ ہے۔ اکثر ٹی وی چینلزپرہر وقت ایسی خبریںاور ڈرامے دکھائے جاتے ہیں جو پریشانی میں اضافہ کرتے ہیں۔ ایسی چیزیں کم دیکھیں اور ان کے اثرات بھی کم لیں۔ مزید براں اخبارات، رسائل ،کتابوں میں بھی مثبت چیزیں زیادہ پڑھیں۔ سوشل میڈیا پرایسی پوسٹوں سے بھی بچنا چاہیے جو آپ پر منفی اثر ڈال رہی ہوں۔ ان کی بجائے موڈ کو اچھا کرنے والی چیزیں مثلاًہلکا پھلکا طنزومزاح اورکہانیاں وغیرہ پڑھیں۔

خود کو وقت دیں
آج کل ہر شخص وقت کی کمی کا شکار نظر آتا ہے۔وہ اپنے گھربار،دفتر اورخاندان کے لیے تو وقت نکال لیتا ہے مگر خود کو بھول جاتا ہے۔اس سے رفتہ رفتہ اس پر منفی سوچوں کا غلبہ ہو جاتا اور ذہنی دباﺅ بڑھنے لگتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جو وہ جسمانی طور پر بھی بیمار پڑ جاتا ہے۔ لہٰذا دن میں کم از کم 10منٹ خود کو ضرور دیں۔
اس کے لئے اکیلے بیٹھیں اور تہیہ کرلیں کہ اس دوران آپ چیزوں‘ رویوں یاافراد کے بارے میں غلط یاصحیح کافیصلہ نہیں کریں گے۔ اس وقت اگرکوئی شخص آپ کے کمرے میں بغیر اجازت گھس آیا ہے تو آپ اس پر ناک بھوں چڑھائیں گے اور نہ اس کے بارے میں کوئی منفی رائے قائم کریں گے۔ اس دوران صحیح اور غلط کے درمیان کی راہ پر سوچیں اور پھر اس دورانیے کو روز بروز بڑھاتے جائیں۔ اس سے آپ کو بہت سی پریشانیوں سے خوبخود نجات مل جائے گی۔

اپنی غلطی کو تسلیم کریں
لوگوں کی بڑی تعداد اپنی غلطی تسلیم نہ کرنے کی عادت کا شکار ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک غلطی تسلیم کرنا کمزوری کی علامت ہے حالانکہ یہ ایک طاقت ہے اور بہت دفعہ ذہنی دباﺅ کا شکار ہونے یا پریشانی میں پڑنے سے بچاتی ہے۔ اس کے برعکس غلطی تسلیم نہ کرنا فساد پھیلنے کابڑا ذریعہ ہے۔اس سے بحث طویل ہوتی چلی جاتی ہے‘ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور بات دنگا فساد یاقتل تک جا پہنچتی ہے۔ مزید براں ہمیشہ مثبت سوچ رکھنے والے لوگوں کواپنادوست بنائیں اور منفی ذہنیت والے لوگوں سے ہر ممکن حد تک بچیں۔
مختصراً یہ کہ ہم مثبت سوچ اور صحت مندطرز زندگی اپنا کر بڑی حد تک ذہنی تناﺅ سے بچ سکتے ہیں۔
_________________

ڈپریشن اور ذہنی دباﺅ
     ڈپریشن اور ذہنی دباﺅ کو اکثر اوقات ایک ہی چیز سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ دو مختلف حالتیں ہیں۔ڈپریشن کی علامات میں مایوسی ، خود کشی کے خیالات پیدا ہونااور مستقلاً اداسی شامل ہیںجبکہ ذہنی دباﺅ میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ ڈپریشن کی علامات لمبے عرصے تک برقراررہتی ہیں جبکہ ذہنی دباﺅ عارضی مدت کے لئے ہوتا ہے۔ ڈپریشن کے مریض پر مستقلاًپژمردگی سی طاری رہتی ہے اورفردکی کسی چیز میں دلچسپی باقی نہیں رہتی اورنہ کوئی کام کو کرنے کو جی چاہتا ہے۔اس کی بھوک اور نیند متاثر ہوتی ہے یعنی یا تو بہت زیادہ بھوک لگنے لگتی ہے یا پھر بالکل نہیں لگتی۔بعض اوقات اسے بہت زیادہ رونا آتا ہے جسے نفسیات کی زبان میں رونے کا دورہ (crying spells)کہتے ہیں۔ایسے میں غصہ زیادہ آنے لگتاہے اور فرد کو منفی سوچیں گھیرے رکھتی ہیں۔ یہ ایک بیماری ہے جس کا باقاعدہ علاج کیا جانا چاہئے۔ اس کے برعکس ذہنی دباﺅ کوئی بیماری(disorder)نہیں ہے۔
    اضطرب(anxiety)،ڈپریشن اور دباﺅ کو جمع کیا جائے تو اسے نفسیاتی دباﺅ (psychological stress)کہا جاتا ہے۔یہ ڈپریشن نہیں ہوتا‘ اس لئے کہ یہ ایک الگ نفسیاتی حالت ہے۔ذہنی دباﺅ کی صورت میں کچھ علامات اضطراب اور ڈپریشن کی بھی شامل ہوجاتی ہیں جن میں ہاتھوں میں یا جسم پر پسینہ آنا،دل کی دھڑکن تیز ہو جانااور خوف محسوس ہونا شامل ہیں ۔