بڑی آنت کا سرطان

103

ڈاکٹر قمرحفیظ‌ کیانی
کولون اینڈ ریکٹل سرجن، شفا انٹرنیشنل ہسپتال، اسلام آباد
پوری بڑی آنت اوراس کے آخری حصے یعنی ریکٹم(rectum) میں پیدا ہونے والے کینسر کوبڑی آنت کا کینسر کہا جاتا ہے۔اس آنت کی اندرونی تہہ یعنی ایپی تھیلیم(epithelium) میں تبدیلیوں کی وجہ سے ایک دانہ پولپ(polyp) بنتا ہے جو رفتہ رفتہ (کئی سالوں میں) کینسر کی شکل اختیارکرلیتا ہے۔

مرض کی وجوہات
بڑی آنت کے کینسر کی بہت سی وجوہات ہیں جنہیں درج ذیل ذیلی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔
غذائی اثرات: پاخانے کے دیگر امراض کی طرح بڑی آنت کے کینسرکی بڑی وجہ بھی غذائی عادات میں تبدیلیاںہیں۔ بڑے گوشت ‘بنی بنائی اورپکا کر خشک کئی گئی(baked) غذائوں اور زیادہ چکنائی اور کم فائبر والی چیزوں کا زیادہ استعمال اس کا سبب بنتا ہے۔ عام طور پر جدید مغربی طرز کی غذا ئوں کا زیادہ استعمال کرنے والے لوگوں میں اس کی شرح زیادہ ہوتی ہے ۔
خاندانی اثرات: اس کینسرکی شرح اُن لوگوں میں زیادہ ہے جن کے خاندان میں کچھ لوگ پہلے سے اس بیماری کاشکاررہے ہوں۔
جسمانی مشقت کا کم ہونا: باقاعدہ ورزش کی کمی اور کم جسمانی مشقت کرنے والے لوگوں میں بھی اس کی شرح زیادہ ہے۔
پیدائشی بیماریاں: بڑی آنت کی کچھ پیدائشی بیماریاں مثلاً بڑی آنت کے دانے(polyposis)‘کینسر کے جینز کا پیدائشی طور پروالدین سے بچوں میں منتقل ہونا وغیرہ بھی اس کا سبب بنتا ہے ۔
دیگر امراض : آنتوں کی سوزش(ulcerative colitis) اور کچھ دیگر بیماریاں بھی اس کی وجوہات میں شامل ہیں۔
یہ مرض مردوں میں زیادہ پایا جاتا ہے تاہم خواتین میں بھی اس کی شرح کچھ کم نہیں ہے۔ یہ 40سال سے زائد عمر کے لوگوں میں زیادہ پایاجاتا ہے لیکن والدین سے اولاد میں موروثی طور پر منتقل ہونے والا کینسر20 سال تک کی عمر کے لوگوں میں بھی ہوسکتا ہے۔
بڑی آنت کے کینسر کی علامات
یہ علامات بڑی آنت میں کینسر کی پوزیشن کے لحاظ سے مختلف ہوسکتی ہیں تاہم ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
خون کی کمی :(anemia) خون کی کمی کی متعدد وجوہات ہیں تاہم سرطان زدہ حصے سے خون مسلسل ضائع ہوجانے کی وجہ سے بھی مریض میںخون کی کمی ہو جاتی ہے ۔اس علامت کے ظاہر ہونے کی صورت میں یہ امکان ہوتاہے کہ کینسر بڑی آنت کے ابتدائی حصے میں ہو۔
قبض کا ہونا یا پیٹ کا پھول جانا: بڑی آنت کے کینسر کی وجہ سے مریض کو دائمی قبض یا پیٹ میں گیس ہونے کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔ آنتوں کی مکمل رکاوٹ(intestinal obstruction) کی شکایت کے ساتھ بعض مریض ہسپتال کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں آتے ہیں۔اس صورت میں کینسر آنتوں کو مکمل طور پر بند کردیتا ہے۔
پاخانے میں تازہ خون آنا: آنتوں کے آخری حصے میں کینسرکی صورت میں مریض کو پاخانے میں تازہ خون آتا ہے اور اسے بار بار پاخانہ کرنے کی حاجت ہو سکتی ہے۔
پاخانے کی عادات میں تبدیلی: بڑی آنت کے کینسر کی وجہ سے مریض کے پاخانہ کرنے کے معمول میں تبدیلی واقع ہوسکتی ہے۔ اگر مریض دن میں ایک بار اس کے لئے جاتاتھا تواب اسے دن میں کئی بار اس کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔اس کے ساتھ ہی مریض کے پاخانے کی ہیئت میں بھی تبدیلی واقع ہوسکتی ہے۔
وزن کا گرنا: مریض کے وزن میں کمی واقع ہونا بھی اس مرض کی ایک علامت ہوسکتی ہے۔ان مریضوں کو ترجیحاً’’ کولون اینڈ ریکٹل سرجن‘‘ یاکسی تجربہ کار جنرل سرجن سے رجوع کرنا چاہیے۔

مرض کی تشخیص
ڈاکٹر مریض کی تفصیلاً ہسٹری لینے اور کلینک میں اس کے معائنے کے علاوہ مندرجہ ذیل ٹیسٹ بھی تجویز کر سکتاہے:
کولونو سکوپی :(colonoscopy)اسعمل میں کیمرے کے ذریعے پوری بڑی آنت کا معائنہ کیاجاتا ہے اور بڑی آنت کے دانے یا کینسر کی موجودگی کا شبہ ہونے کی صورت میں اس کا ایک ٹکڑا (biopsy)لے کر اس کو ٹیسٹ کروایا جاتا ہے۔
سی ٹی سکین(CT-scan): یہ جدید کے ایکسرے ہیں جو بڑی آنت میں کسی عام یا کینسرزدہ رسولی کا پتہ دیتے ہیں۔اگر بڑی آنت کا کینسرجسم کے باقی حصوں میں پھیل جائے تو سی ٹی سکین اس کی تشخیص میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے ۔
ایم آر آئی (MRI): یہ ٹیسٹ بڑی آنت کے آخری حصے یعنی ریکٹم کے کینسر کی صورت میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
خون کے ٹیسٹ: بڑی آنت کے کینسرکی صورت میں جسم میں کچھ مخصوص کیمیکلز زیادہ ہوجاتے ہیں۔ ان کی موجودگی کی تصدیق یا تردید کے لئے خون کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔
پاخانے کاٹیسٹ: بعض اوقات پاخانے میں نظر نہ آنے والے خون (occult blood)کی موجودگی کا علم ہو جانا بھی اس کینسر کے تشخیص میں مدد گار ثابت ہوتاہے۔اس لئے پاخانے کا ٹیسٹ بھی تجویز کیا جاتا ہے۔
مرض کا علاج
بڑی آنت کا کینسر مکمل طورپر قابل علاج بیماری ہے لیکن شرط یہ ہے کہ یہ کینسر ابتدا میں ہی تشخیص ہوجائے۔اگر یہ بہت زیادہ بگڑ نہ جائے تو اس کے علاج کے نتائج دیگر اعضاء کے مقابلے میں انتہائی اچھے ہیں۔البتہ کینسرخطرناک مرحلے میں داخل ہو جائے تو پھراس کے نتائج حوصلہ افزاء نہیں ہیں۔عام طور پر اس کینسر کو چارمراحل میں تقسیم کیاجاتا ہے۔اس کا علاج ہر مرحلے پر مختلف ہوتا ہے اوراسی نسبت سے نتائج بھی مختلف ہوتے ہیں۔
پہلے اور دوسرے مرحلے کے کینسر بڑی آنت یا ریکٹم کی دیوار تک محدود ہوتے ہیں۔پہلے مرحلے کے کینسر میں عام طور پرآپریشن کے ذریعے کینسر کو جسم سے نکال دیاجاتا ہے۔اس میںر یڈیوتھیراپی یا کیموتھیراپی کی ضرورت نہیں ہوتی۔اس آپریشن میں بڑی آنت یا ریکٹم کا متاثرہ حصہ نکال کر آنت کو دوبارہ جوڑ دیا جاتا ہے۔ جدید طریقہ علاج میں کیمرے کے ذریعے آنت کے اندر سے کینسر کوہٹا دیا جاتا ہے ۔دوسرے مرحلے میں بھی بنیادی طور پر سرجری ہی علاج کا بہترین طریقہ ہے لیکن بعض اوقات کینسر زیادہ ہونے کی صورت میں شعاعوں یا ادویات کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔
تیسرے مرحلے میں کینسر بڑی آنت یا ریکٹم کے اردگرد کے حصوں اور غدود میں داخل ہوجاتا ہے۔اس مرحلے میں عام طورپر سرجری سے پہلے مریض کا شعاعوں یا ادویات کے ذریعے علاج کیاجاتا ہے تاکہ کینسر کا سائز کم کرکے اسے سرجری کے قابل بنایا جاسکے۔ اس کے بعد آپریشن کرکے کینسر کو جسم سے نکال لیاجاتا ہے۔عام طور پر بڑی آنت کے کینسر میں ادویات جبکہ ریکٹم کے کینسر میں شعاعیںدی جاتی ہیں۔
چوتھے مرحلے کا کینسر بڑی آنت کے علاوہ دیگر اعضاء مثلاً جگر‘ پھیپھڑوں‘ہڈیوں یا دماغ تک پھیل جاتا ہے لہٰذا بالعموم علاج کی حدود سے باہر ہو جاتاہے۔اس مرحلے پر مریضوں کی اکثریت میں کینسر کو مکمل طور پر ختم نہیں کیاجاسکتااور علاج محض علامتوں کے دور کرنے تک محدود ہو جاتا ہے ۔مثال کے طور پر اس کے درد کو دور یا آنتوں کی رکاوٹ کو ختم کیا جاتا ہے۔اس سے کینسر کے مریض پر اثرات ضرور کم ہوتے ہیں لیکن کینسر مکمل طورپر ختم نہیں ہوتا۔
علاج کی کامیابی کو آئندہ پانچ سال کے دوران کینسر کے دوبارہ ہونے یا کینسر کی وجہ سے مریض کی موت واقع ہونے کی شرح کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے ۔ پہلے مرحلے میں مکمل علاج کی صورت میں80سے90فی صد مریض اگلے پانچ سال تک ٹھیک رہتے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں60سے70فی صد مریضوں کو اگلے پانچ سال میں کینسر دوبارہ نہیں ہوتا یا کینسر کی وجہ سے اُن کی موت کے امکانات نہیں ہوتے۔تیسرے مرحلے میں30سے40فی صد مریضوں کے علاج میں اگلے پانچ سال کے لئے کامیابی ہوتی ہے جبکہ چوتھے مرحلے میں10فی صد سے کم مریضوں کو علاج سے فائدہ ہوتا ہے۔
پاکستان میں بہت سے لوگ پاخانے کے امراض کی صورت میں نیم حکیموں اور اتائیوں سے علاج کرواتے ہیں جوبالعموم بڑی آنت کے کینسر اور پاخانے کی دیگر بیماریوں میں امتیاز کرنے کے قابل نہیں ہوتے ۔وہ اکثر اوقات ان سب کو بواسیر قراردے کر ان کا علاج کرتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ پیچیدہ ہوتی چلی جاتی ہیں۔ خصوصاً بڑی آنت کا کینسربہت جلد ابتدائی مرحلے سے آخری مرحلے میں منتقل ہوجاتا ہے اور قابل علاج نہیں رہتا۔لہٰذا مشورہ یہ ہے کہ پاخانے سے متعلق بیماریوں کی علامات ظاہر ہونے پر ابتدا میں ہی متعلقہ شعبے کے ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x