چکن پاکس (Chickenpox) ایک متعدی وائرل بیماری ہے، جو ویریسیلا زوسٹر وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس میں جسم پر شدید خارش کے ساتھ پانی سے بھرے چھوٹے چھالے بن جاتے ہیں۔ یہ بیماری ان افراد میں بہت تیزی سے پھیلتی ہے جنہیں پہلے چکن پاکس نہ ہوا ہو یا جنہوں نے اس کی ویکسین نہ لگوائی ہو۔
علامات
چکن پاکس کی علامات عموماً وائرس سے متاثر ہونے کے 10 سے 21 دن بعد ظاہر ہوتی ہیں، جبکہ جلد پر دانے 5 سے 10 دن تک رہ سکتے ہیں۔ جلد پر دانے نکلنے سے ایک سے دو دن پہلے درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
٭ بخار
٭ بھوک کم لگنا
٭ سر درد
٭ تھکن اور عمومی کمزوری
جلد پر دانے نمودار ہونے کے بعد بیماری تین مراحل سے گزرتی ہے:
٭ ابتدا میں جلد پر سرخ اور ابھرے ہوئے دانے بنتے ہیں
٭ پھر ان دانوں میں پانی بھر جاتا ہے اور چھوٹے چھالے بن جاتے ہیں
٭ آخر میں چھالے خشک ہو کر پپڑی کی شکل اختیار کرتے ہیں اور چند دن میں بھر جاتے ہیں
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں اگر:
٭ دانے ایک یا دونوں آنکھوں تک پھیل جائیں
٭ دانے بہت گرم، سرخ یا دردناک ہو جائیں، کیونکہ یہ بیکٹیریا سے انفیکشن کی علامت ہو سکتی ہے
٭ شدید چکر، ذہنی الجھن، تیز دل کی دھڑکن یا سانس لینے میں دشواری ہو
٭ جسم کانپنے لگے یا حرکت میں دشواری محسوس ہو
٭ کھانسی بڑھ جائے، قے آئے یا گردن اکڑ جائے
٭ بخار 38.9 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو
٭ گھر میں کوئی ایسا فرد ہو جسے کبھی چکن پاکس نہ ہوا ہو اور اس نے ویکسین بھی نہ لگوائی ہو
٭ گھر میں کوئی حاملہ خاتون موجود ہو
٭ گھر میں کوئی ایسا شخص ہو جس کا مدافعتی نظام بیماری یا دواؤں کی وجہ سے کمزور ہو
وجوہات
چکن پاکس ویریسیلا زوسٹر وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ شخص کے دانوں یا چھالوں کے براہ راست رابطے سے منتقل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کھانسی یا چھینک کے دوران خارج ہونے والے باریک قطروں کے ذریعے بھی دوسرے افراد تک پہنچ جاتا ہے۔
خطرے کے عوامل
چکن پاکس کا خطرہ ان افراد میں زیادہ ہوتا ہے جنہیں پہلے یہ بیماری نہ ہوئی ہو یا جنہوں نے اس کی ویکسین نہ لگوائی ہو۔ بچوں کی دیکھ بھال کے مراکز اور سکولوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے ویکسین لگوانا خاص طور پر اہم ہے۔
جن افراد کو پہلے چکن پاکس ہو چکا ہو یا ویکسین لگ چکی ہو، ان میں عموماً اس بیماری کے خلاف قدرتی یا حاصل شدہ مدافعت موجود ہوتی ہے۔ اگر ویکسین کے باوجود بیماری ہو بھی جائے تو علامات زیادہ تر ہلکی رہتی ہیں، دانے کم نکلتے ہیں اور بخار بھی معمولی یا بالکل نہیں ہوتا۔ ایک سے زیادہ بار چکن پاکس ہونا ممکن ہے، لیکن یہ بہت نایاب ہے۔
ممکنہ پیچیدگیاں
اگرچہ چکن پاکس زیادہ تر افراد میں ہلکی بیماری ہوتی ہے، لیکن بعض اوقات یہ سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے، جن میں شامل ہیں:
٭ جلد، نرم ٹشوز، ہڈیوں، جوڑوں یا خون میں بیکٹیریا کا انفیکشن
٭ جسم میں پانی کی شدید کمی
٭ نمونیا
٭ دماغ کی سوزش
٭ ٹاکسک شاک سنڈروم
٭ رے سنڈروم، جس میں دماغ اور جگر متاثر ہو سکتے ہیں
بہت کم صورتوں میں چکن پاکس جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
حمل کے دوران چکن پاکس
اگر حمل کے ابتدائی مہینوں میں چکن پاکس ہو جائے تو بچے میں کم وزن کے ساتھ پیدائش اور ہاتھ یا ٹانگوں کی نشوونما کے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اگر حاملہ خاتون کو زچگی سے ایک ہفتہ پہلے یا بچے کی پیدائش کے چند دن بعد چکن پاکس ہو جائے تو نوزائیدہ میں جان لیوا انفیکشن کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر آپ حاملہ ہیں اور پہلے چکن پاکس نہیں ہوا، تو اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔
چکن پاکس اور شنگلز
چکن پاکس سے صحت یاب ہونے کے بعد بھی ویریسیلا زوسٹر وائرس اعصابی خلیوں میں غیر فعال حالت میں موجود رہ سکتا ہے۔ کئی سال بعد یہی وائرس دوبارہ متحرک ہو کر شنگلز کا سبب بن سکتا ہے، جس میں شدید درد کے ساتھ چھالے بن جاتے ہیں۔
شنگلز کا خطرہ زیادہ عمر کے افراد اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ بعض مریضوں میں چھالے ختم ہونے کے بعد بھی درد طویل عرصے تک برقرار رہتا ہے۔
بچاؤ کی تدابیر
چکن پاکس سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ ویریسیلا ویکسین ہے۔
عام طور پر بچوں کو ویکسین کی دو خوراکیں دی جاتی ہیں۔ پہلی خوراک 12 سے 15 ماہ کی عمر میں اور دوسری 4 سے 6 سال کی عمر میں لگائی جاتی ہے۔ جن بچوں یا بڑوں نے ویکسین نہیں لگوائی، وہ بھی ڈاکٹر کے مشورے سے عمر کے مطابق دو خوراکیں لگوا سکتے ہیں۔
درج ذیل افراد کو ویکسین لگوانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے:
٭ حاملہ خواتین
٭ کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد
٭ جیلیٹن یا نیومائسین سے شدید الرجی والے افراد
٭ کینسر کے مریض یا زیر علاج افراد
٭ وہ افراد جنہیں حال ہی میں خون یا خون سے تیار کردہ مصنوعات دی گئی ہوں
تشخیص
زیادہ تر صورتوں میں ڈاکٹر جلد پر دانوں کی شکل دیکھ کر چکن پاکس کی تشخیص کر لیتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر خون کے ٹیسٹ یا جلد کے نمونے کا لیبارٹری معائنہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
علاج
زیادہ تر صحت مند بچوں میں چکن پاکس کے لیے کسی خاص علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور بیماری وقت کے ساتھ خود ہی ٹھیک ہو جاتی ہے۔
اگر پیچیدگیاں پیدا ہوں تو ڈاکٹر مریض کی حالت کے مطابق علاج تجویز کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن کے لیے اینٹی بایئوٹک، جبکہ دماغ کی سوزش کی صورت میں اینٹی وائرل ادویات دی جا سکتی ہیں۔ شدید حالت میں مریض کو ہسپتال میں داخل ہونا پڑ سکتا ہے۔
گھریلو احتیاط اور دیکھ بھال
ہلکی علامات میں آرام کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر مفید ثابت ہو سکتی ہیں:
٭ چھالوں کو کھجانے سے گریز کریں
٭ ٹھنڈے پانی سے نہائیں
٭ نہانے کے پانی میں بیکنگ سوڈا یا باریک پسا ہوا اوٹس شامل کریں
٭ خارش والی جگہ پر کیلامین لوشن لگائیں
٭ اگر منہ میں زخم ہوں تو نرم اور ہلکی غذا کھائیں
٭ ڈاکٹر کے مشورے سے خارش کم کرنے کے لیے اینٹی ہسٹامین استعمال کریں
٭ ہلکے بخار کے لیے پیراسیٹامول استعمال کی جا سکتی ہے
٭ اگر بخار چار دن سے زیادہ برقرار رہے یا 38.9 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
چکن پاکس کے دوران بچوں اور نوجوانوں کو ہرگز اسپرین نہ دیں، کیونکہ اس سے رے سنڈروم نامی خطرناک بیماری پیدا ہو سکتی ہے۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا چکن پاکس دوبارہ ہو سکتا ہے؟
ہاں، لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ زیادہ تر افراد میں ایک بار بیماری ہونے کے بعد اس کے خلاف مدافعت پیدا ہو جاتی ہے۔
چکن پاکس کتنے دن میں ٹھیک ہوتا ہے؟
زیادہ تر مریض پانچ سے دس دن میں صحت یاب ہو جاتے ہیں، جبکہ تمام پپڑیاں خشک ہونے میں چند دن مزید لگ سکتے ہیں۔
کیا چکن پاکس متعدی بیماری ہے؟
جی ہاں، یہ انتہائی متعدی بیماری ہے اور متاثرہ شخص سے دوسروں میں آسانی سے منتقل ہو جاتی ہے۔
چکن پاکس کے دوران سکول یا دفتر کب جانا چاہیے؟
جب تمام چھالے خشک ہو کر پپڑی بن جائیں اور نئے دانے نکلنا بند ہو جائیں، تو عموماً دوسروں میں بیماری منتقل ہونے کا خطرہ بہت کم رہ جاتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=pediatrician