ٹائیفائیڈ کی وجوہات، علامات اور علاج

پانچ سالہ عمار کو بخار ہو گیا۔ جب وہ کچھ دنوں تک ٹھیک نہ ہوا تو اس کی ماں سارہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئی جس نے اسے خون کا ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دیا۔ رپورٹ کی روشنی میں ڈاکٹر نے بتایا کہ بچے کو ٹائیفائڈ ہو گیا ہے۔ ماں یہ سن کر پریشان ہوگئی اور ڈاکٹر سے ٹائیفائیڈ کی وجوہات، علامات اور علاج کے بارے میں سوال کیا۔

ٹائیفائیڈ کی وجہ بتاتے ہوئے ڈاکٹر نے کہا کہ یہ مضر صحت خوراک اور آلودہ پانی سے پھیلتا ہے:

ہمارے ہاں اکثر جگہوں پر پینے کا پانی محفوظ نہیں جو ٹائیفائیڈ سمیت دیگر مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ جو لوگ زیادہ تر ڈھابوں پر کھانا کھاتے ہیں، وہ بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر صورتوں میں وہاں کھانا ایسے ماحول میں بنتا ہے جس میں حفظان صحت کے اصولوں کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اب تو بڑے ہوٹلوں کا حال بھی اونچی دکان پھیکا پکوان والا ہے۔

ٹائیفائیڈ کی علامات

سارہ نے اسے عام بخار سمجھ کر خود ہی دوائیں دے رہی تھیں۔ ڈاکٹر نے انہیں کہا:

دیکھیں! بخار کوئی بیماری نہیں بلکہ کسی بیماری کی علامت ہے جسے مریض خود نہیں سمجھ سکتا۔ اس کے لئے ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لئے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ خود علاجی سے بچیں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم یہ مشورہ پیسہ بنانے کے لئے دیتے ہیں۔

ٹائیفائیڈ کا وائرس جب خون میں شامل ہوتا ہے تو اس کا بخار اچانک نہیں ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور پھر یکساں رہتا ہے۔ مثلاً پہلے دن مریض کو 99 ڈگری فارن ہائٹ کا بخار ہو گا۔ پھر وہ بتدریج 100، 101 اور 104 ڈگری تک پہنچ جائے گا۔ پھر اس پر مسلسل رہے گا۔یہ اس کی پہلی علامت ہے۔

اس کی دوسری علامت یہ ہے کہ یہ سردی اور پسینے والا بخار نہیں، اسی لئے کہ یہ بتدریج بڑھتا ہے۔ بخار کے علاوہ اس کی دیگر علامات میں پیٹ میں درد، ڈائریا، قبض اور جسم پر ریشز شامل ہیں۔ تاہم علامات معلوم ہوں تب بھی خودعلاجی سے بچنا چاہئے، اس لئے کہ بہت سی بیماریوں کی علامات ملتی جلتی ہوتی ہیں۔

ٹائیفائیڈ کی تشخیص

ٹائیفائیڈ کی تشخیص پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کے لئے ڈاکٹر مریض کے دیگر حالات بھی معلوم کرتا ہے۔ مثلاً وہ یہ پوچھ سکتا ہے کہ پچھلے دنوں کوئی سفر تو نہیں کیا تاکہ دیکھا جاسکے کہ اس دوران اس نے باہر سے کچھ کھایا پیا تو نہیں۔

ضرورت محسوس ہونے پر وہ خون کا ٹیسٹ تجویز کرتا ہے جس کی روشنی میں اس مرض کی تصدیق یا تردید ہوتی ہے۔ بعض اوقات الٹراساؤنڈ بھی کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ جگر کا سائز بڑھا ہوا تو نہیں۔ اس سے بھی ٹائیفائیڈ بخار کے ہونے یا نہ ہونے کی اطلاع ملتی ہے۔

علاج کیا ہے

اس کا علاج اینٹی بائیوٹک ادویات سے کیا جاتا ہے۔ معالج مریض کی حالت کو دیکھتے ہوئے دوا تجویز کرتا ہے۔ یہ ادویات ایک سے دو ہفتوں تک تجویز کی جاتی ہیں۔

اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو کچھ پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات آنت میں سوزش ہوتی ہے اور وہ سوزش اتنی بڑھ جاتی ہے کہ آنت میں سوراخ ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی خون بھی جاری ہو سکتا ہے۔ اس صورت حال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی غیر معمولی علامت کو نظر انداز مت کریں۔

انسانوں کو لاحق ہونے والی بہت سی بیماریاں ایسی ہیں جو ان کی اپنی غفلت کا نتیجہ ہوتی ہیں۔اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ اپنے طرز زندگی پر غور کریں اور اسے صحت بخش بنانے کی کوشش کریں۔ ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے لئے بھی کچھ معمولی احتیاطیں ہوتی ہیں۔ ان پر عمل کر کے تکلیف سے بچا جاسکتا ہے۔

typhoid fever, causes of typhoid, typhoid treatment and diagnosis, typhoid ka ilaj, typhoid bukhaar, shifanews, health

Vinkmag ad

Read Previous

لاہوری مچھلی Lahori Fish

Read Next

کاجن مچھلی

Leave a Reply

Most Popular