Vinkmag ad

بریسٹ بائیوپسی

A breast biopsy procedure in progress, where a healthcare professional is carefully collecting a tissue sample from the patient.

بریسٹ بائیوپسی (Breast Biopsy) ایک میڈیکل پروسیجر ہے جس میں چھاتی کے ٹشو کا نمونہ لے کر لیبارٹری میں جانچ کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ یہ طریقہ اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب چھاتی میں کسی مشتبہ تبدیلی، گلٹی یا کینسر کا شبہ ہو۔

ڈاکٹر عام طور پر میموگرام، الٹراساؤنڈ یا جسمانی معائنے میں غیر معمولی نتائج سامنے آنے پر بائیوپسی تجویز کرتے ہیں۔ اس کے نتائج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ متاثرہ حصہ کینسر زدہ ہے یا نہیں، اور مزید علاج کی ضرورت ہے یا نہیں۔

اقسام

فائن نیڈل بائیوپسی

یہ بائیوپسی کی سب سے سادہ اور کم مداخلتی قسم ہے۔ اس میں باریک سوئی کے ذریعے مشتبہ حصے سے مائع یا ٹشو کا نمونہ حاصل کیا جاتا ہے۔ چھاتی میں موجود گلٹی سادہ سسٹ بھی ہو سکتی ہے جو مائع سے بھری نرم تھیلی ہوتی ہے اور عموماً غیر خطرناک ہوتی ہے۔ یہ ٹھوس ماس بھی ہو سکتی ہے جو ٹشو سے بنی نسبتاً سخت گلٹی ہوتی ہے۔ دونوں کا حتمی فرق الٹراساؤنڈ یا بائیوپسی سے ہی واضح کیا جاتا ہے۔

کور نیڈل بائیوپسی

اس طریقے میں کھوکھلی سوئی کے ذریعے ٹشو کے چھوٹے نمونے لیے جاتے ہیں۔ یہ طریقہ میموگرام یا الٹراساؤنڈ میں نظر آنے والی گلٹی کی جانچ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

کئی نمونے حاصل کیے جاتے ہیں، اور ہر نمونہ چاول کے دانے کے برابر ہوتا ہے۔ درست مقام معلوم کرنے کے لیے الٹراساؤنڈ، ایم آر آئی یا ایکس رے کی مدد لی جا سکتی ہے۔

سٹیریوٹیکٹک بائیوپسی

اس طریقے میں میموگرام کے ذریعے چھاتی کے اندر مشتبہ حصے کی درست جگہ معلوم کی جاتی ہے۔ چھاتی کو دو پلیٹوں کے درمیان رکھ کر تصاویر لی جاتی ہیں۔ ان تصاویر کی مدد سے سوئی کو درست مقام تک پہنچا کر ٹشو کے نمونے حاصل کیے جاتے ہیں۔

سرجیکل بائیوپسی

اس طریقے میں چھاتی کے مشتبہ حصے کا کچھ یا مکمل حصہ نکال کر جانچ کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ یہ عمل عام طور پر اس وقت کیا جاتا ہے جب سوئی کے ذریعے بائیوپسی ممکن نہ ہو۔ اس میں مریض کو بے ہوش کیا جاتا ہے اور عمل آپریشن تھیٹر میں کیا جاتا ہے۔ سرجیکل بائیوپسی کی اقسام یہ ہیں:

٭ انسیژنل بائیوپسی میں مشتبہ حصے سے صرف نمونہ لیا جاتا ہے

٭ ایکسیژنل بائیوپسی میں پوری گلٹی نکال دی جاتی ہے

٭ وائڈ لوکل ایکسیژن میں گلٹی کے ساتھ اردگرد کا صحت مند ٹشو بھی نکالا جاتا ہے۔ اسے لمپیکٹومی بھی کہا جاتا ہے

اگر گلٹی محسوس نہ ہو تو ڈاکٹر وائر یا سیڈ لوکلائزیشن استعمال کر سکتا ہے۔ اس میں سرجری سے پہلے چھاتی میں باریک تار یا چھوٹا ریڈیو ایکٹو سِیڈ رکھا جاتا ہے تاکہ درست مقام کی نشاندہی ہو سکے۔

 کیوں کی جاتی ہے

بائیوپسی ان حالات میں تجویز کی جاتی ہے:

٭ چھاتی میں گلٹی یا غیر معمولی سختی محسوس ہو

٭ میموگرام، الٹراساؤنڈ یا ایم آر آئی میں مشتبہ تبدیلی نظر آئے

٭ نپل یا جلد میں غیر معمولی تبدیلی ہو جیسے دھنس جانا، خشکی یا خون آلود رطوبت کا اخراج

ممکنہ خطرات

بائیوپسی کے بعد چند مسائل پیش آ سکتے ہیں:

٭ چھاتی میں سوجن اور نیل پڑنا

٭ بایوپسی کی جگہ پر انفیکشن یا خون بہنا

٭ جلد یا ٹشو میں داغ یا تبدیلی

٭ بعض صورتوں میں مزید سرجری کی ضرورت

اگر بخار ہو یا بائیوپسی کی جگہ پر سرخی، گرمی یا غیر معمولی رطوبت ظاہر ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ یہ انفیکشن کی علامت ہو سکتی ہے

تیاری

بائیوپسی سے پہلے ڈاکٹر کو آگاہ کریں اگر:

٭ آپ کو کسی دوا یا چیز سے الرجی ہو

٭ آپ نے حال ہی میں اسپرین یا خون پتلا کرنے والی دوا استعمال کی ہو

٭ آپ زیادہ دیر تک پیٹ کے بل نہیں لیٹ پاتے

اگر ایم آر آئی کرانا ہو تو یہ بھی بتائیں:

٭ اگر آپ کے جسم میں پیس میکر یا کوئی الیکٹرانک ڈیوائس ہے

٭ اگر آپ حاملہ ہیں یا حمل کا امکان ہے

پروسیجر

بائیوپسی سے پہلے مریض کو مخصوص لباس پہننے اور زیورات اتارنے کو کہا جاتا ہے۔ خوشبو دار مصنوعات سے بھی پرہیز کیا جاتا ہے تاکہ پروسیجر میں رکاوٹ نہ ہو۔ پروسیجر کے دوران مریض کو بٹھایا یا لٹایا جاتا ہے، اور بعض صورتوں میں چھاتی کو مخصوص پوزیشن میں رکھا جاتا ہے۔

زیادہ تر بائیوپسی میں لوکل اینستھیزیا دیا جاتا ہے، جبکہ سرجیکل بائیوپسی میں مکمل بے ہوشی کی جاتی ہے۔

امیجنگ ٹیسٹ کی مدد سے درست جگہ تلاش کی جاتی ہے اور سوئی کے ذریعے ٹشو کے نمونے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اکثر 3 سے 12 نمونے لیے جاتے ہیں۔

بعض اوقات بائیوپسی کے دوران دھاتی کلپ چھاتی کے اسی مشتبہ حصے میں رکھا جاتا ہے جہاں سے ٹشو کا نمونہ لیا گیا ہو تاکہ مستقبل میں اس جگہ کی شناخت آسان ہو سکے۔ یہ کلپ محفوظ ہوتا ہے اور عام طور پر ایم آر آئی سکین یا ایئرپورٹ کے میٹل ڈیٹیکٹر میں کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتا۔

بائیوپسی کے بعد

زیادہ تر مریض اسی دن گھر جا سکتے ہیں اور اگلے دن معمول کی سرگرمیاں شروع کر سکتے ہیں۔ ہلکا درد اور نیل پڑنا بائیوپسی کے بعد چھاتی میں عام طور پر دیکھے جانے والے عارضی اثرات ہیں۔ درد کم کرنے کے لیے سادہ درد پین کلرز اور کولڈ پیک استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سرجیکل بائیوپسی میں ٹانکے لگ سکتے ہیں جو وقت کے ساتھ خود جذب ہو کر ختم ہو جاتے ہیں۔ کچھ دن تک زخم کو پانی میں بھگونے اور بھاری ورزش سے پرہیز ضروری ہوتا ہے۔

نتائج

بائیوپسی کا نمونہ لیبارٹری میں پیتھالوجسٹ کے ذریعے جانچا جاتا ہے۔ نتائج آنے میں چند دن لگ سکتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا جاتا ہے کہ ٹشو میں کینسر ہے، غیر سرطانی تبدیلی ہے یا قبل از کینسر حالت ہے۔ اگر سرجری ہوئی ہو تو مارجن کی رپورٹ بھی دی جاتی ہے کہ کینسر مکمل طور پر نکلا ہے یا نہیں۔

اگر نتائج اور دیگر ٹیسٹوں میں فرق ہو تو مزید تشخیص کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ نتائج کی بنیاد پر علاج کا مکمل منصوبہ بنایا جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=oncologist

Vinkmag ad

Read Previous

کینسر کے لیے بائیولوجیکل تھراپی

Read Next

اے پلاسٹک انیمیا: خون کے نئے خلیے نہ بننا

Leave a Reply

Most Popular