غیبی آوازیں

3

غیبی آوازیں

ہماراعمومی رویہ ہے کہ کائنات میں بکھرے علم کا جو حصہ ہماری دسترس میں آجائے، اسے ہم ’’موجود‘‘ کہتے ہیں۔  جبکہ جو تجربے یا مشاہدے کے ذریعے ہمارے احاطۂ علم میں نہ آئے‘ اس کو ’’غیر موجود‘‘ قرار دیتے ہیں۔ یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ دنیا ایک بہت بڑا عجوبہ ہے جس کے بہت سے راز اوراسرار ابھی ہم پر کھلنا باقی ہیں ۔ بعض لوگوں کی زندگیوں میں کبھی کبھی کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جاتا ہے جو عام لوگوں کو ہی نہیں‘ سائنس کے شعبے سے وابستہ افراد کوبھی حیران کر دیتا ہے۔ اس سے سوچ کے نئے نئے زاوئیے بھی سامنے آتے ہیں جو بعض اوقات آگے چل کر نئی دریافتوں کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔

ایسا ہی ایک واقعہ میڈیسن سے متعلق ہے اور برطانیہ سے جاری ہونے والے مشہور ومعروف اورمستند طبی میگزین ’’بی ایم جے‘‘ یعنی ’’برٹش میڈیکل جرنل‘‘ میں شائع ہو چکا ہے۔ ایک سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر ازونی نے 1997ء میں اس مؤقر جریدے میں ایک خاتون کے بارے میں ایک بہت ہی دلچسپ رپورٹ شائع کی۔

واقعے کی تفصیل

مذکورہ خاتون یورپ کے کسی ملک سے اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ نقل مکانی کرکے لندن میں مستقلاً قیام پذیر تھی۔ ہجرت کے کئی سال بعد 1984ء کی ایک صبح جب وہ اخبار پڑھ رہی تھی تو اسے یوں لگا جیسے کوئی خاتون اس سے مخاطب ہے۔ اسے اس کی آواز اپنے دماغ میں سنائی دے رہی تھی ۔خاتون کو ایسے محسوس ہوا جیسے مخاطب ہونے والی خاتون کے ساتھ ایک اورخاتون بھی ہے۔ آواز دینے والی خاتون کا لہجہ بہت مشفقانہ اور نرم تھا جسےخاتون نے بالکل واضح طور پرسنا۔ وہ کہہ رہی تھی

گھبرائو مت، ہم تمہاری خیر خواہ ہیں اور تمہاری مدد کرنا چاہتی ہیں۔ ہم دونوں  چلڈرن ہسپتال میں بحیثیت نرس کام کرتی رہی ہیں۔ ہمیں میڈیسن کے بارے میں تھوڑا بہت علم ہے۔ ہمیں ایسے لگ رہا ہے کہ ایک دماغی بیماری کی وجہ سے آپ کی صحت اور جان خطرے میں پڑنے والی ہے۔آپ کو چاہیے کہ اپنا طبی معائنہ کروائیں تاکہ بروقت علاج ہوجائے اور آپ خطرے سے بچ جائیں۔

اس غیبی آواز کے ذریعے خاتون کو بتایا گیا کہ اس کے سرمیں ایک رسولی پیدا ہوگئی ہے جو دماغ کے پیچھے، نچلے حصے میں اس جگہ پر ہے جہاں اہم ترین مراکز واقع ہیں۔ یہ مراکز خون کی گردش‘ سانس کے عمل اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتے ہیں اور ان کے بغیر جیناممکن نہیں۔

علاج

خاتون کوپہلے تویہ غیبی آوازیں وہم لگیں اس لئے نفسیاتی امراض کے ماہر ڈاکٹر ازونی کے پاس چلی گئی۔ ڈاکٹر نے اسے ذہنی امراض سے متعلق ایک دوا کا استعمال شروع کرادیا۔ میڈیسن شروع ہونے کے تقریباًدوہفتوں بعد تک اس طرح کا کوئی واقعہ رونما نہ ہوا۔ جب آوازیں آنا بند ہوگئیں تو سمجھاگیا کہ ’مرض‘ کاشافی علاج ہو گیاہے۔تاہم یہ خیال غلط ثابت ہوا اوروہ آوازیں دوبارہ آناشروع ہوگئیں جن میں اسے زیادہ جوش و خروش سے اوراصرارکے ساتھ ہدایت کی جاتی کہ وہ فلاں ہسپتال جا کر اپنے دماغ کا سی ٹی سکین کروائے۔ اسے کہا جاتا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے لہٰذا اسے نظرانداز مت کرے ۔

مریضہ ایک دفعہ پھر ڈاکٹر ازونی کے پاس گئی اور اسے اس ’’پیغام ‘‘ کے بارے میں بتایاجوزور دے کر اس تک پہنچایا جا رہا تھا۔یہ اُن دنوں کی بات ہے جب سی ٹی سکین ابھی نیا نیا ایجاد ہوا تھا اور اس کا ٹیسٹ بہت مہنگا تھا۔ایسے میں اس کے اخراجات برطانوی حکومت ادا کرتی تھی ۔ڈاکٹر ایک حساس انسان تھا لہٰذااُس نے حکومت کو سکین کے اخراجات کے لئے درخواست دے دی۔ اس خاتون میں ایسی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی تھی جس سے یہ شبہ ہوتا کہ اس کے دماغ میں کوئی رسولی ہے۔ شبہے کی بنیاد محض آوازیں تھیں جو اس خاتون کا محض وہم بھی ہوسکتا تھا۔ لہٰذا حکومت نے سکین کے اخراجات برداشت کرنے سے انکار کر دیا۔ ڈاکٹر نے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور بالآخرحکومت کو اس پر آمادہ کر لیا ۔

رپورٹ

جب سکین کی رپورٹ آئی تو سب حیران رہ گئے کہ  دماغ میں عین اُسی جگہ رسولی تھی جہاں اُن’آوازوں‘ نے اسے بتایا تھا۔ یہ دماغ کی جھلی کے گرد ریشہ دار رسولی تھی اور ایسی رسولیوں میں سے تقریباً پانچ فی صد کینسر والی ہوتی ہیں۔ اس رسولی نے دماغ کے ایک خاص حصے کو گھیر رکھا تھا۔ اگر یہ ذرا اور بڑی ہوجاتی تو مریضہ کی جان بھی لے سکتی تھی۔

نیوروسرجن نے مریضہ اور اس کے شوہر سے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو سرجری کو اس وقت تک ملتوی کیاجاسکتاہے جب تک کہ وہ دماغ پر دبائو ڈالنا شروع نہ کردے۔ دوسری طرف غیبی آوازوں کا مشورہ تھا کہ رسولی کو فوراً ہی ہٹایا جائے ، اور مریضہ نے انہی کے مشورے پر عمل کیا۔ آپریشن کے بعد جب پوری طرح سے صحت یاب ہوگئی تو ان غیبی آوازوں نے انہیں صرف ایک بار مخاطب کیااور کہا ہمیں خوشی ہے کہ ہم تمہاری مدد کرپائیں۔ سلامت رہو

ڈاکٹر ازونی نے 1997ء میں یہ کیس ایک میڈیکل کانفرنس میں انوکھے واقعے کے طور پرپیش کیا۔ اُس وقت مریضہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھی اوراس کانفرنس میں موجود تھی۔ اس میں شرکت کرنے والے ڈاکٹروں نے اس سے سوالات کئے اور اس کامعائنہ بھی کیا۔

Brain tumor, hidden voices, diagnosis, treatment

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x