Vinkmag ad

بریکیئل پلیکسس انجری: کندھے، بازو اور ہاتھ کے اعصاب کی چوٹ

Patient undergoing a brachial plexus injury examination as a healthcare professional checks the arm for nerve damage and muscle weakness.

بریکیئل پلیکسس اعصاب کا ایک مجموعہ ہے جو سپائنل کارڈ سے کندھے، بازو اور ہاتھ تک سگنلز پہنچاتا ہے۔ بریکیئل پلیکسس انجری (Brachial plexus injury) اس وقت ہوتی ہے جب یہ اعصاب کھچ جائیں، دب جائیں یا شدید صورت میں پھٹ جائیں یا سپائنل کارڈ سے الگ ہو جائیں۔

علامات

بریکیئل پلیکسس انجری کی علامات اس کی شدت اور مقام کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔ عام طور پر صرف ایک بازو متاثر ہوتا ہے۔

کم شدید انجریز

معمولی انجری اکثر فٹ بال یا ریسلنگ جیسے جسمانی ٹکراؤ والے کھیلوں کے دوران ہوتی ہے۔ اس دوران بریکیئل پلیکسس کے اعصاب کھنچ یا دب جاتے ہیں۔ ایسی انجریز کو سٹنگرز یا برنرز کہا جاتا ہے۔ ان کی علامات میں شامل ہیں:

٭ بجلی کا جھٹکا لگنے یا جلن کا احساس جو بازو میں نیچے کی طرف پھیلتا ہے

٭ بازو سن ہونا اور کمزوری

یہ علامات عموماً چند سیکنڈ یا منٹ تک رہتی ہیں۔ تاہم بعض افراد میں یہ کئی دن یا اس سے زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں۔

زیادہ شدید انجریز

زیادہ شدید علامات اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب اعصاب کو بہت زیادہ نقصان پہنچے یا وہ پھٹ جائیں۔ بریکیئل پلیکسس انجری کی سب سے شدید صورت میں اعصاب کی جڑ سپائنل کارڈ سے کٹ یا الگ ہو جاتی ہے۔ شدید انجری کی علامات میں شامل ہیں:

٭ ہاتھ، بازو یا کندھے کے بعض پٹھوں میں کمزوری یا انہیں استعمال نہ کر پانا

٭ کندھے اور ہاتھ سمیت بازو میں حس ختم ہو جانا

٭ شدید درد

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

بریکیئل پلیکسس انجری مستقل کمزوری یا معذوری کا باعث بن سکتی ہے۔ انجری معمولی محسوس ہو تب بھی طبی معائنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ان صورتوں میں ڈاکٹر سے رجوع کریں:

٭ برنرز یا سٹنگرز بار بار ہوں یا علامات جلد ختم نہ ہوں

٭ ہاتھ یا بازو میں کمزوری ہو

٭ گردن میں درد ہو

٭ دونوں بازوؤں میں علامات ہوں

وجوہات

بریکیئل پلیکسس انجری مختلف وجوہات سے ہو سکتی ہے، جن میں شامل ہیں:

جسمانی ٹکراؤ والے کھیل: دوسرے کھلاڑیوں سے ٹکرانے کے دوران بریکیئل پلیکسس کے اعصاب بعض اوقات اپنی معمول کی حد سے زیادہ کھچ سکتے ہیں۔

پیدائش: زیادہ وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں، طویل زچگی یا بریچ پوزیشن (دوران زچگی بچے کے کولہے یا پاؤں پہلے آنا) کی صورت میں اس انجری کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اگر پیدائش کے دوران بچے کے کندھے پیدائشی راستے میں پھنس جائیں تو بریکیئل پلیکسس پالسی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

چوٹیں: موٹر گاڑی یا موٹر سائیکل کے حادثات، گرنے یا گولی لگنے سے بریکیئل پلیکسس کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

رسولیاں اور کینسر کا علاج: رسولیاں بریکیئل پلیکسس کو متاثر کر سکتی ہیں۔ شاذونادر صورتوں میں یہ نیوروفائبرومیٹوسس جیسی بیماری یا ریڈی ایشن تھراپی کے بعد بھی بن سکتی ہیں۔

خطرے کے عوامل

فٹ بال اور ریسلنگ جیسے جسمانی ٹکراؤ والے کھیل کھیلنے یا تیز رفتار موٹر گاڑی کے حادثات کا شکار ہونے سے بریکیئل پلیکسس انجری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

پیچیدگیاں

بریکیئل پلیکسس کی بہت سی معمولی انجریز وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جاتی ہیں اور بہت کم یا کوئی مسئلہ باقی نہیں رہتا۔ تاہم بعض انجریز مختصر یا طویل مدتی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہیں، مثلاً:

٭ ہاتھ یا بازو مفلوج ہونے کی صورت میں جوڑ اکڑ سکتے ہیں

٭ اعصاب کو نقصان پہنچنے کے باعث درد ہو سکتا ہے، جو بعض افراد میں زندگی بھر برقرار رہتا ہے

٭ بازو یا ہاتھ کی حس ختم ہونے پر جلنے یا دوسری چوٹ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور متاثرہ شخص کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا

٭ اعصاب بہت آہستہ دوبارہ بڑھتے ہیں اور انجری کے بعد صحت یاب ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اس دوران پٹھے استعمال نہ ہونے کی وجہ سے کمزور اور سکڑ سکتے ہیں

٭ شدید بریکیئل پلیکسس انجری سے صحت یابی کا انحصار عمر اور انجری کی قسم، مقام اور شدت سمیت کئی عوامل پر ہوتا ہے۔ سرجری کے باوجود بعض افراد میں پٹھوں کی کمزوری یا فالج زندگی بھر برقرار رہ سکتا ہے

احتیاطی تدابیر

بریکیئل پلیکسس انجری سے ہمیشہ بچنا ممکن نہیں۔ تاہم انجری کے بعد بعض اقدامات پیچیدگیوں کا خطرہ کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

اپنے لیے

٭ روزانہ جوڑوں کو حرکت دینے کی ورزشیں اور فزیوتھراپی

٭ اگر بازو یا ہاتھ سن ہو تو جلنے یا کٹ لگنے سے بطور خاص بچیں

٭ کھیل کے دوران متاثرہ حصے کی حفاظت کے لیے پیڈنگ استعمال کی جا سکتی ہے

بچے کے لیے

اگر بچے کو بریکیئل پلیکسس پالسی ہے تو اس کے جوڑوں اور فعال پٹھوں کی روزانہ ورزش ضروری ہے۔ یہ ورزش بچے کی عمر چند ہفتے ہونے پر شروع کی جا سکتی ہے۔ اس سے جوڑوں کو مستقل طور پر اکڑنے سے روکنے اور فعال پٹھوں کو مضبوط اور صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

تشخیص

تشخیص کے لیے ڈاکٹر علامات کا جائزہ لیتا اور جسمانی معائنہ کرتا ہے۔ بریکیئل پلیکسس انجری کی شدت معلوم کرنے کے لیے ایک یا زیادہ ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں، مثلاً:

ایکس رے: کندھے اور گردن کا ایکس رے ہڈی ٹوٹنے یا اس سے متعلق دوسری چوٹوں کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

الیکٹرومایوگرافی (ای ایم جی): یہ ٹیسٹ پٹھوں کے سکڑنے اور آرام کی حالت میں ان کی برقی سرگرمی کا جائزہ لیتا ہے۔

نرو کنڈکشن سٹڈیز: ان ٹیسٹوں سے معلوم کیا جاتا ہے کہ برقی سگنلز اعصاب میں کتنی تیزی اور مؤثر انداز میں سفر کرتے ہیں۔ اس سے اعصاب کی کارکردگی کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔

ایم آر آئی: ایم آر آئی سے بریکیئل پلیکسس کو پہنچنے والے نقصان کی شدت معلوم کی جا سکتی ہے۔ اس سے متاثرہ عضو کی شریانوں کو پہنچنے والے نقصان کا بھی پتا چل سکتا ہے، جو ری کنسٹرکشن کے لیے اہم ہے۔

سی ٹی مائیلوگرافی: اس ٹیسٹ میں سپائنل ٹیپ کے دوران کنٹراسٹ ڈائی داخل کی جاتی ہے تاکہ سپائنل کارڈ اور اعصاب کی جڑوں میں مسائل کا جائزہ لیا جا سکے۔ بعض صورتوں میں یہ ٹیسٹ اس وقت کیا جاتا ہے جب ایم آر آئی سے کافی معلومات نہ ملیں۔

علاج

علاج کا انحصار انجری کی شدت اور قسم، اسے گزرنے والے وقت اور پہلے سے موجود طبی مسائل سمیت کئی عوامل پر ہوتا ہے۔

اعصاب کا کھچ جانا بعض اوقات خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ جوڑوں اور پٹھوں کی کارکردگی اور حرکت کی حد برقرار رکھنے کے لیے ڈاکٹر فزیوتھراپی تجویز کر سکتا ہے۔ اس سے جوڑوں کی اکڑن روکنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

سرجری

اعصاب کی شدید انجریز میں بالعموم سرجری مؤثر علاج ہوتی ہے۔ ماضی میں بعض اوقات سرجری مؤخر کی جاتی تھی تاکہ دیکھا جا سکے کہ اعصاب خود ٹھیک ہوتے ہیں یا نہیں۔ تاہم نئی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ انجری کے بعد سرجری میں دو سے چھ ماہ سے زیادہ تاخیر علاج کے نتائج کو متاثر کر سکتی ہے۔ امیجنگ کی نئی تکنیکیں ڈاکٹر کو سرجری کے مناسب وقت کا فیصلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

اعصابی ٹشو آہستہ بڑھتا ہے، اس لیے سرجری کے حتمی نتائج سامنے آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ صحت یابی کے دوران ورزشیں جوڑوں کو لچک دار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ ہاتھ کو اندر کی طرف مڑنے سے روکنے کے لیے سپلنٹ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سرجری کی اقسام

نیورولائسز: اس میں اعصاب کو سکار ٹشو سے آزاد کیا جاتا ہے۔

نرو ریپئر: اس میں تیز دھار چیز سے زخمی ہونے والے اعصاب کی براہ راست مرمت کی جاتی ہے۔ بہت کم صورتوں میں کھچے ہوئے اعصابی ریشوں کی بھی اس طریقے سے مرمت کی جا سکتی ہے۔

نرو گرافٹ: اس میں جسم کے کسی دوسرے حصے سے اعصاب لے کر بریکیئل پلیکسس کے خراب حصے کی جگہ لگائے جاتے ہیں۔ اس طرح نئے اعصاب کو بڑھنے کے لیے راستہ ملتا ہے۔

نرو ٹرانسفر: اگر اعصاب کی جڑ سپائنل کارڈ سے الگ ہو گئی ہو تو سرجن نسبتاً کم اہم لیکن فعال اعصاب کو زیادہ اہم مگر غیر فعال اعصاب سے جوڑ سکتا ہے۔ اس سے نئے اعصاب کی نشوونما میں مدد ملتی ہے۔

مسل ٹرانسفر: اس سرجری میں جسم کے کسی دوسرے حصے، مثلاً ران سے نسبتاً کم اہم پٹھا یا ٹینڈن لے کر بازو میں منتقل کیا جاتا ہے۔ پھر اس پٹھے کے اعصاب اور خون کی نالیوں کو دوبارہ جوڑا جاتا ہے۔

درد پر قابو پانا

بریکیئل پلیکسس کی شدید انجریز بہت زیادہ درد کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ درد شدید دباؤ، کچلنے یا مسلسل جلن جیسے احساس کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر افراد میں یہ درد تین سال کے اندر ختم ہو جاتا ہے۔ اگر ادویات سے درد پر قابو نہ پایا جا سکے تو ڈاکٹر سپائنل کارڈ کے متاثرہ حصے سے آنے والے درد کے سگنلز کو روکنے کے لیے سرجری تجویز کر سکتا ہے۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا بریکیئل پلیکسس کے کھچے ہوئے اعصاب خود ٹھیک ہو سکتے ہیں؟

جی ہاں۔ اگر اعصاب صرف کھچے ہوئے ہوں اور انہیں شدید نقصان نہ پہنچا ہو تو وہ بعض اوقات خود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اس دوران جوڑوں اور پٹھوں کی حرکت برقرار رکھنے کے لیے فزیوتھراپی دی جا سکتی ہے۔

بریکیئل پلیکسس انجری کی شدت معلوم کرنے کے لیے کون سے ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں؟

اس کے لیے ایکس رے، ای ایم جی، نرو کنڈکشن سٹڈیز، ایم آر آئی اور بعض صورتوں میں سی ٹی مائیلوگرافی استعمال کی جا سکتی ہیں۔

بریکیئل پلیکسس سرجری کے نتائج سامنے آنے میں اتنا وقت کیوں لگتا ہے؟

اعصابی ٹشو بہت آہستہ بڑھتا ہے۔ اسی وجہ سے سرجری کے حتمی نتائج سامنے آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

بریکیئل پلیکسس انجری میں ہاتھ یا بازو سن ہو تو خاص احتیاط کیوں ضروری ہے؟

حس کم یا ختم ہونے کی وجہ سے جلنے، کٹ لگنے یا دوسری چوٹ کا فوراً احساس نہیں ہوتا۔ اس لیے متاثرہ ہاتھ یا بازو کو چوٹ سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=neurologist

Vinkmag ad

Read Previous

راولپنڈی میں ڈینگی کا ایک اور کیس رپورٹ، تعداد 7 ہوگئی

Read Next

آئی لیش ایکسٹینشنز سے آنکھوں کے مسائل کا خطرہ زیادہ، تحقیق

Leave a Reply

Most Popular