ٹی بی سے بچیں اور بچائیں

0

ٹی بی سے بچیں اور بچائیں

ٹی بی کیا ہے اور کیسے لگتی ہے

ٹی بی ایک جرثومے مائیکروبیکیڑیم ٹیوبرکلوسس کی وجہ سے ہوتی ہے۔اس مرض کا شکار فرد جب سانس لیتا یا کھانستا ہے تواس کے جراثیم ہوا میں شامل ہو کر دوسروں تک پہنچ جاتے ہیں۔ یوں پھیپھڑوں کی ٹی بی تو ایک فرد سے دوسرے کو لگتی ہے۔ تاہم اس کی دیگر اقسام مثلاً دماغ، ہڈیوں اورمعدے وغیرہ کی ٹی بی اس طرح دوسروں تک منتقل نہیں ہو سکتی۔ تقریباً80فی صدکیسز میں ٹی بی پھیپھڑوں کی ہوتی ہے، اس لئے کہ جراثیم سب سے پہلے انہی میں جاتے ہیں۔

 مرض کی اقسام

 اس کی دو اقسام زیادہ اہم ہیں۔ پہلی ٹی بی وہ ہے جسے ادویات سے ٹھیک ہو جانے والی ٹی بی کہتے ہیں۔ یہ دوائیں کھانے سے ختم ہو جاتی ہے۔ اگر مریض علاج نہ کروائے یااسے ادھورا چھوڑ دے تو وہ شدید نوعیت اختیار کر لیتی ہے اور اس پر ادویات غیرموثر ہوجاتی ہیں۔ اسے دوائوں سے مزاحم ٹی بی  کہتے ہیں۔پاکستان میں یہ  بہت عام ہے اور بدقسمتی سے اس کی شرح میں کوئی کمی نہیں آئی۔اس کا بڑا سبب لوگوں میں آگہی کی کمی اور علاج بیچ میں چھوڑ دینا ہے۔اگر علاج ادھورا چھوڑ دیا جائے تو ٹی بی سخت ہوجاتی ہے اورعلاج بھی طویل ہوجاتا ہے۔

ٹی بی کی علامات

ٹی بی کہیں کی بھی ہو، اس کی علامات میں بھوک کی کمی،رات کو بخار ہونا،ٹھنڈے پسینے آنااوروزن میں کمی شامل ہیں۔ پھیپھڑوں کی ٹی بی میں ان علامات کے ساتھ ساتھ کھانسی اور بلغم بھی ہوسکتا ہے۔ یہ مرض زیادہ پھیل جائے توبلغم میں خون بھی آسکتا ہے۔ایک ماہ تک کھانسی برقراررہے تو ڈاکٹر سے معائنہ کرانا چاہئے اور اگر وہ کوئی ٹیسٹ تجویز کرے تو اسے سنجیدہ لینا چاہیے۔

چھپی ہوئی ٹی بی

چھپی ہوئی ٹی بی، مرض کی وہ حالت ہے جس میں اس کے جراثیم جسم میں داخل ہو تو جاتے ہیں لیکن فوری طور پر ٹی بی کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ تاہم مستقبل میں اس کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسے افراد کو بھی ٹی بی کی دوائیں استعمال کرائی جاتی ہیں تاکہ جراثیم متحرک ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائیں اور مرض کا باعث نہ بنیں۔ اگر کوئی شخص ٹی بی کے مریض کے قریب رہاہو تو اسے بھی اس انفیکشن کا ٹیسٹ کرو الینا چاہیے۔

کیا اس مرض سے بچاؤ ممکن ہے

اس سے مکمل طور پر بچاؤ ممکن نہیں ، اس لئے کہ ہمارے اردگرد اس کے مریض اور جراثیم موجود رہتے ہیں اور ہمیں ان کا علم بھی نہیں ہوتا۔ تا ہم اس سے متعلق آگاہی اور کچھ احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے اس سے کسی حد تک بچاجا سکتاہے۔اس کی علامات سب کو معلوم ہونی چاہئیں تاکہ بروقت تشخیص اورعلاج ممکن ہو سکے۔ یہ مرض بچے،جوان، بوڑھے، سبھی کوہو سکتا ہے۔

بچوں میں اس کی شرح

بچوں کو ٹی بی، بڑوں کے پھیلائے ہوئے جراثیم کی وجہ سے ہی ہوتی ہے۔ ٹی بی کی کل شرح کا 10فی صد بچوں میں ہے۔ یہ زیادہ تر نوجوانوں میں ہوتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ نوجوان معاشرتی طور پر زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔ ان کا لوگوں سے ملنا جلنا زیادہ ہوتا ہے۔کم عمر بچے اور بڑی عمر کے افراد میں اس کی وجہ بیماریوں کے خلاف دفاعی نظام کا کمزور ہونا ہے۔ یہ کوئی موروثی بیماری نہیں جو دورانِ حمل ماں سے بچے میں منتقل ہو جاتی ہو۔ اس کی شکار خواتین بچے کو اپنادودھ پلا سکتی ہیں۔ اگر وہ علاج کروا رہی ہیں تو پھر اس سے بچے کو خطرہ نہیں ہے۔ مائوں کو چاہئے کہ بچوں کی دیکھ بھال کے دوران کھانسنے سے پرہیز کریں۔

ٹی بی کے مریضوں کے لئے احتیاطیں

اس کے مریض دوا شروع کرنے کے بعد مقررہ مدت سے پہلے دوا کا استعمال ہر گز بند نہ کریں۔ اگر اس دوران کوئی مضر اثرات ظاہر ہوں تو ڈاکٹرسے لازماً رجوع کریں۔

دوائیں شروع کرنے کے بعد کم از کم دو ہفتوں تک ہوا دار اور روشن کمرے میں رہیں۔

چھوٹے بچوں کو گود میں نہ اٹھائیں اور لوگوں میں بیٹھ کر کھانسنے سے پرہیز کریں۔

اس کے مریضوں کو چاہئے کہ ماسک استعمال کریں۔

ان کے برتن الگ کرنے کی ضرورت نہیں ، اس لئے کہ جراثیم سے آلودہ برتنوں سے ٹی بی نہیں لگتی۔اہل خانہ اور احباب کو چاہئے کہ مرض کے آغازمیں مریض کے بہت زیادہ قریب مت بیٹھیں تاہم دوائیں استعمال کرنے کے دو ہفتے بعد اس سے ملنے جلنے میں حرج نہیں۔

دواؤں کا کورس مکمل نہ کرنے کےنقصانات

ایسے میں ٹی بی مکمل طور پرختم نہیں ہوتی بلکہ پہلے سے زیادہ پکی ہوجاتی ہے، اس لئے کہ جراثیم میں دواؤں کے خلاف قوت مزاحمت پید اہو جاتی ہے اوروہ ان پر اثر کرناچھوڑ دیتی ہیں۔ایسی ٹی بی کی دوائیں سخت ہیں اور ان کے کورس کا دورانیہ بھی چھے ماہ کی بجائے18مہینوں تک ہوجاتاہے۔

TB, causes, symptoms, safety measures

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x