بیسل سیل کارسینوما (Basal cell carcinoma) جلد کے ان خلیوں میں شروع ہوتا ہے جنہیں بیسل سیلز کہا جاتا ہے۔ یہ خلیے جلد کی بیرونی تہہ کے نچلے حصے میں موجود ہوتے ہیں، اور پرانے خلیوں کی جگہ نئے جلدی خلیے بناتے ہیں۔
یہ کینسر عموماً جلد پر ہلکے، شفاف ابھار کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، تاہم اس کی شکل مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ یہ زیادہ تر جسم کے ان حصوں میں بنتا ہے جو دھوپ کے سامنے رہتے ہیں، جیسے چہرہ، گردن اور کان وغیرہ۔ تاہم، بعض اوقات یہ ان حصوں پر بھی پیدا ہو سکتا ہے جو عموماً دھوپ سے محفوظ رہتے ہیں، جیسے جنسی اعضاء۔
علامات
بیسل سیل کارسینوما زیادہ تر جسم کے ان حصوں پر بنتا ہے جہاں دھوپ زیادہ لگتی ہے، خصوصاً سر اور گردن۔
یہ بیماری جلد میں ایسی تبدیلی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے جو نئی ہو یا طویل عرصے تک ٹھیک نہ ہو۔ ایسی تبدیلیوں کو جلدی زخم یا لیژن کہا جاتا ہے۔
اس کی عام علامات میں شامل ہیں:
٭ چمکدار، جلدی رنگ کا اور ہلکا شفاف ابھار، جو سفید جلد میں موتی جیسا سفید یا گلابی دکھائی دیتا ہے
٭ بھوری یا سیاہ جلد میں بھورا یا چمکدار سیاہ ابھار
٭ ابھار پر باریک خون کی نالیاں نمایاں ہونا۔ گہری جلد میں انہیں دیکھنا مشکل ہو سکتا ہے
٭ ایسا ابھار جس سے خون آ جائے یا جس پر سخت پرت بن جائے
٭ بھورا، سیاہ یا نیلا دھبہ، یا ایسا نشان جس پر گہرے رنگ کے دھبے ہوں اور کنارے ہلکے سے ابھرے ہوں
٭ چپٹا، خشک یا کھردرا دھبہ، جو وقت کے ساتھ بڑا ہو سکتا ہے اور جس کے کنارے ابھرے ہوئے بھی ہو سکتے ہیں
٭ سفید، داغ جیسا نشان، جس کا کنارہ واضح نہ ہو
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر جلد پر نئی گلٹی بن جائے، پہلے سے موجود نشان کی شکل یا رنگ بدل جائے، یا کوئی زخم بار بار واپس آئے یا ٹھیک نہ ہو، تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
وجوہات
٭ یہ زیادہ تر کیسز میں سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ یہ شعاعیں بیسل خلیوں کے ڈی این اے میں تبدیلی پیدا کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں کینسر بن سکتا ہے۔
٭ بعض مریضوں میں اصل وجہ واضح نہیں ہوتی
٭ کمزور قوت مدافعت اور خاندان میں جلد کے کینسر کی ہسٹری خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔
خطرے کے عوامل
درج ذیل عوامل بیسل سیل کارسینوما کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں:
٭ طویل عرصے تک دھوپ میں رہنا
٭ ایسی جلد کا حامل ہونا جو آسانی سے سن برن کی شکار ہو جائے
٭ اس کا خطرہ ان لوگوں میں زیادہ ہوتا ہے جن میں میلانن (جلد، آنکھوں اور بالوں کو رنگ دینے والا مادہ) کم ہوتا ہے
٭ بڑھتی عمر، اگرچہ یہ بیماری نوجوانوں میں بھی ہو سکتی ہے
٭ اپنے اندر یا فیملی میں جلد کے کینسر کی ہسٹری
٭ مدافعتی نظام کو دبانے والی ادویات کا استعمال
٭ آرسینک کے ساتھ رابطہ ہونا
٭ موروثی بیماریاں، جو جلد کے کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہیں
پیچیدگیاں
بیسل سیل کارسینوما سے درج ذیل پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں:
٭ کامیاب علاج کے بعد بھی بیماری کا دوبارہ ظاہر ہونا
٭ جلد کے دیگر اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھ جانا
٭ شاذ و نادر صورتوں میں کینسر کا جلد سے باہر جسم کے دیگر حصوں تک پھیل جانا
بچاؤ کی تدابیر
درج ذیل احتیاطی تدابیر اس بیماری کا خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں:
٭ دوپہر کے وقت حتیٰ الامکان براہ راست دھوپ سے بچیں
٭ سال بھر کم از کم ایس پی ایف 30 والی براڈ سپیکٹرم سن سکرین استعمال کریں، چاہے موسم ابر آلود ہی کیوں نہ ہو
٭ مکمل بازوؤں والے کپڑے، ٹوپی اور دیگر حفاظتی لباس پہنیں
٭ ٹیننگ بیڈز اور ٹیننگ لیمپس استعمال نہ کریں
٭ اپنی جلد کا باقاعدگی سے معائنہ کریں اور کسی بھی نئی تبدیلی سے فوری طور پر ڈاکٹر کو آگاہ کریں
٭ سینہ، کمر، بازو، ہاتھ، ٹانگیں، پاؤں، انگلیوں کے درمیان، جنسی اعضاء اور کولہوں کے درمیان والے حصے کا بھی باقاعدگی سے معائنہ کریں
تشخیص
جسمانی معائنہ: ڈاکٹر مشتبہ حصے کا تفصیلی معائنہ کرتے ہیں اور جسم کے دیگر حصوں کو بھی دیکھتے ہیں تاکہ کسی اور مشکوک نشان یا تبدیلی کا پتا چل سکے۔
جلد کی بائیوپسی: اس ٹیسٹ میں جلد کا ایک چھوٹا نمونہ لے کر لیبارٹری میں جانچا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ جلد کا کینسر موجود ہے یا نہیں، اور اگر موجود ہو تو اس کی کون سی قسم ہے۔
علاج
سرجری
زیادہ تر مریضوں میں بیسل سیل کارسینوما کا علاج سرجری کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس دوران کینسر کے ساتھ اردگرد کا کچھ صحت مند ٹشو بھی نکال دیا جاتا ہے تاکہ بیماری مکمل طور پر ختم ہو جائے۔
سرجری کی عام اقسام میں شامل ہیں:
٭ سرجیکل ایکسیژن، جس میں رسولی کو کاٹ کر نکال دیا جاتا ہے
٭ موہز سرجری، جلد کے کینسر کو تہہ در تہہ نکالنے کا ایک خاص سرجیکل طریقہ
دیگر علاج
اگر سرجری ممکن نہ ہو یا مریض سرجری نہ کروانا چاہے تو ڈاکٹر دیگر علاج تجویز کر سکتے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
٭ کیوریٹیج اور الیکٹرو ڈیسیکیشن، کینسر والے ٹشو کو کھرچ کر نکالنے اور باقی خلیوں کو برقی رو سے تباہ کرنے کا طریقہ
٭ ریڈی ایشن تھراپی
٭ منجمد کرکے علاج (شدید ٹھنڈ سے کینسر کے خلیوں کو ختم کرنے کا طریقہ)
٭ جلد پر لگانے والی ادویات
٭ فوٹو ڈائنامک تھراپی، جس میں ایک خاص دوا اور روشنی کو ملا کر کینسر کے خلیوں کو ختم کیا جاتا ہے
اگر کینسر پھیل جائے
اگرچہ یہ بہت کم ہوتا ہے، لیکن جسم کے دوسرے حصوں میں پھیلنے والے بیسل سیل کارسینوما کے علاج میں درج ذیل طریقے شامل ہو سکتے ہیں:
٭ ہدفی علاج (ٹارگٹڈ تھراپی)، کینسر کے مخصوص خلیوں یا ان کی بڑھوتری کے ذمہ دار عوامل کو نشانہ بنا کر علاج کرنے کا طریقہ
٭ قوتِ مدافعت بڑھانے والا علاج
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا بیسل سیل کارسینوما جان لیوا ہوتا ہے؟
زیادہ تر مریض بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ یہ کینسر عموماً آہستہ بڑھتا ہے اور شاذ و نادر ہی جسم کے دوسرے حصوں میں پھیلتا ہے۔
کیا یہ بیماری دوبارہ ہو سکتی ہے؟
جی ہاں، کامیاب علاج کے بعد بھی بیسل سیل کارسینوما دوبارہ ظاہر ہو سکتا ہے، اس لیے باقاعدہ فالو اپ ضروری ہے۔
کیا سن سکرین استعمال کرنے سے خطرہ کم ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، مناسب سن سکرین، حفاظتی لباس اور دھوپ سے بچاؤ کی عادات اس بیماری کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہیں۔
کیا ہر زخم یا گلٹی بیسل سیل کارسینوما ہوتی ہے؟
نہیں، لیکن اگر کوئی زخم ٹھیک نہ ہو، نئی گلٹی بن جائے یا جلد کا کوئی نشان تبدیل ہونے لگے تو جلد از جلد ڈاکٹر سے معائنہ کروانا چاہیے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=dermatologist