Vinkmag ad

بلوچستان کے بجٹ میں صحت کےلیے 20 ارب روپے مختص

بلوچستان اسمبلی میں اگلے مالی سال کے لیے بجٹ پیش کر دیا گیا۔ بلوچستان کے بجٹ میں صحت کےلیے 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ دستاویز کے مطابق کینسر کے مریضوں کو ادویات کی مفت فراہمی پر 582 ملین روپے خرچ ہوں گے۔ صحت کے غیر ترقیاتی بجٹ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال اس کے لیے 52.7 ارب روپے مختص تھے۔ اب اسے 67.3 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ پبلک ہیلتھ لیبارٹری کے لیے 80 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ اس سے متعدی امراض کی تشخیص میں آسانی ہوگی۔

ادویات کی فراہمی کے لیے رقم 4.9 ارب روپے سے بڑھا کر 6.6 ارب روپے کر دی گئی ہے۔

صحت کے شعبے میں 242 نئی آسامیاں

کوئٹہ کے تین بڑے ہسپتالوں کو نیم خودمختار بنایا جائے گا۔ سندھ حکومت کے تعاون سے نصیر آباد میں امراض جگر کے لیے ہسپتال قائم کیا جائے گا۔ کوئٹہ میں امراض قلب کے لیے این آئی سی وی ڈی طرز کا ہسپتال اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

کئی سالوں سے غیر فعال بی ایچ یوز کو فعال کرنے پر 100 ملین روپے خرچ ہوں گے۔ صوبائی سنڈیمین اور بی ایم سی ہسپتالوں کے لیے 80 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ سنڈیمن ہسپتال کے لیے نئی ایم آر آئی مشین کی خریداری پر 442 ملین روپے خرچ ہوں گے۔ مختلف ہسپتالوں کے لیے نئی مشینوں کی خریداری پر بحیثیت مجموعی 2.8 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ لیبر رومز پر 102 ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔ ہیلتھ کارڈ پروگرام کے لیے 5.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

حکومت نے بی آئی این یو کیو کی گرانٹ 300 ملین سے بڑھا کر 500 ملین کر دی ہے۔ آر بی سی سینٹر کوئٹہ میں محفوظ خون کی منتقلی کے لیے 120 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بلوچستان کے بجٹ میں صحت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران صحت کے شعبے میں 242 نئی آسامیاں بھی پیدا کی گئی ہیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

ہیپاٹائٹس سے روزانہ 3500 اموات، ڈبلیو ایچ او

Read Next

MYTH: Shaving leads to hard skin and thicker hair

Leave a Reply

Most Popular