بچوں کاوالدین سے جائز مطالبہ : فون سے نہیں ‘ہم سے کھیلیں

103

’’ ہمارے ساتھ کھیلیں، اپنے فون سے نہیں!‘‘
سات سالہ بچے (ایمل)نے مذکورہ بالا عنوان کے تحت بچوں کے ایک احتجاجی مظاہرے کے انعقاد کے لیے اپنے ماں باپ سے بات کی ۔
اتنے چھوٹے بچوں کا مظاہرہ اور وہ بھی اپنے ہی والدین سے مطالبے کے لیے؟ بات ذرا عجیب تھی۔ خیال تھا کہ ایسے کسی مظاہرے میں کم ہی لوگ شریک ہوں گے لیکن پھربھی والدین نے اپنے بچے کی خواہش پوری کرنے میں اس کی مدد کرنے کافیصلہ کیا۔ حیرت انگیز طور پر ان کاخیال غلط نکلا۔ اس مظاہرے کے اعلان پرنہ صرف سوشل میڈیا میں بھرپوردلچسپی لی گئی بلکہ ایک معقول تعداد میں (150سے زائد) بچوں اور بڑوں نے اس میں شرکت بھی کی۔ فطری طورپر ذرائع ابلاغ میں اس مظاہرے کی بڑے پیمانے پر تشہیربھی ہوئی۔

بچے کواحتجاج اور مظاہرے کاخیال کس طرح آیا؟
جواب میں ایمل کا کہنا تھا کہ’’ میں اس وقت چِڑ جاتا جب دیکھتا کہ میرے ماں باپ مجھ پر توجہ دینے کی بجائے اپنے اپنے فون کی جانب متوجہ ہیں‘‘۔اسے مظاہرے کے انعقاد کا خیال اس وقت آیا جب چند ماہ قبل (مئی ۲۰۱۸ء میں) اس نے فاشزم کے خلاف ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی ۔ا س نے سوچاکہ اسے بھی اپنے معاملہ میں اسٹینڈ لینا چاہیے۔
اس مظاہرے پر بعض لوگوں کا تبصرہ تھا کہ یہ سب کچھ شہرت حاصل کرنے کے لیے کیا گیا۔ایمل کے والد بچوں کے امراض کے ماہر ہیں ۔انہوں نے لوگوں کے اس تبصرے پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا : ’’مجھے احساس ہوا کہ میرا بیٹا دراصل مجھے ان لمحات کے حوالے سے ملامت کررہا ہے جب وہ میرے ساتھ ہوتا ہے‘ اور غالباً مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے لیکن میں اس لمحے ذہنی طورپر غیرحاضر یاکچھ اور کرنے میں مصروف ہوتاہوں۔‘‘

احتجاج میں شریک ایک چھ سالہ بچی نے اخباری نمائندوں کے سوال پر صاف صاف الفاظ میں اپنے جذبات کا اظہار کیا:
’’مجھے اپنے ابو کا ہر وقت اپنے فون سے کھیلتے رہنا بالکل پسند نہیں ۔‘‘ اس کے باپ نے اعتراف کیا کہ’’ مجھے واقعتاً اپنے روئیے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔‘‘
بچے دنیا کے کسی بھی خطے کے ہوں‘ ان کاتعلق امیرگھرانوں سے ہو‘ متوسط طبقات سے یاپھرغریب والدین سے ‘ انہیں توجہ کی بہرحال ضرور ت ہوتی ہے ۔ یہ توجہ ایک جانب ان کی جسمانی نشوونما اور حفاظت کے لیے ضروری ہوتی ہے تو دوسری جانب اور شاید اس سے بھی کہیں بڑھ کر ان کی ذہنی نشوونما اور مؤثر شخصیت کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔
والدین بچوں کے پاس اور ان کے قریب ہی موجود ہوں تو یہ صورت ان کے درمیان تعلق کے لیے ایک فطری ماحول فراہم کردیتی ہے۔ بچے اپنی معصومیت اور بعض صورتوں میں اپنی کسی ضرورت یا تکلیف کی بنا پر والدین کو خود ہی اپنی جانب متوجہ کرلیتے ہیں‘ لیکن آج کی ٹیکنالوجی سے متاثرہ دنیا کافی مختلف ہوگئی ہے۔
موبائل فون نے اپنے بہت سے فوائد کے باوجودلاتعدا د الجھنیں بھی
پیدا کی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ماں باپ اوربچوں کے درمیان فطری تعلق کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ اب والدین بچوں کے قریب موجود ہوں توبھی ضروری نہیں کہ وہ ان کی جانب متوجہ بھی ہوں۔ اس پس منظر میں یہ خبر حیرانی کا باعث نہیں ہونی چاہیے کہ جرمنی میں سوئمنگ پولزپرمتعین حفاظتی گارڈز نے والدین کوباقاعدہ تنبیہہ کی ہے کہ’’ آپ کے بچے تیراکی کے لیے پول میں ہوں تو اپنا سمارٹ فون دوررکھیں اور بچوں کی جانب متوجہ ہوں!‘‘ ان کی اس ہدایت کی بنیاد یہ اعداد وشمارہیں کہ رواں سال کے دوران 300 سے زائد لوگ پول میں نہاتے یا پیراکی کرتے ہوئے ڈوب چکے ہیں۔ گارڈز یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ماضی میں والدین یا دادا دادی اورنانانانی اپنا زیادہ تروقت بچوں پر نظر رکھتے ہوئے گزارتے تھے اور انہیں دائیں بائیں دیکھنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی تھی۔‘‘
انتہائی صورتوں میں والدین کی عدم توجہ بچوں کے لیے جان لیو ا بھی ثابت ہوسکتی ہے لیکن عام حالات میں بھی بچوں پر عدم توجہ ان کی شخصیت اور رویوں پر شدت سے اثرانداز ہوتی ہے۔ اس ضمن میں کی جانے والی تحقیقات کے مطابق چڑچڑے پن اور جھنجلاہٹ ، ہائی بلڈپریشر اور مزاج میں غیرمعمولی اتارچڑھائو کے بنیادی اسباب میں سے ایک والدین سے ملنے والی توجہ میں کمی ہے۔ درحقیقت اس عدم توجہ کا اثروالدین پر بھی پڑتا ہے اس لئے کہ وہ اپنے بچوں کی ذہنی کیفیت، ان کے چہرے کے تاثرات اور بدن بولی کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے چلے جاتے ہیں۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x