توجہ بٹنا اور پھرتیلا پن

3

توجہ بٹنا اورپھرتیلا پن

بچوں میں بے جاتیزی اورتوجہ مرتکزنہ رہنا والدین اوراساتذ ہ کے لئے چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ اساتذہ سمجھتے ہیں کہ بچہ پڑھنا نہیں چاہتا یا جان بوجھ کرایسا کرتا ہے۔ جبکہ عدم ارتکازاورغیرمعمولی حد تک متحرک رہنا ایک نفسیاتی بیماری بھی ہوسکتی ہے۔ تکنیکی اصطلاح میں اسے اے ڈی ایچ ڈی کہا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دوسے سات فی صد بچے اس عارضے میں مبتلا ہیں ۔ لڑکیوں کی نسبت لڑکوں میں یہ زیادہ عام ہے۔ ایسے بچوں میں عموماً توجہ کا عدم ارتکازاورعمل میں تیزی، دونوں ہی کی علامات پائی جاتی ہیں۔ تاہم بعض میں صرف ایک خصوصیت بھی نمایاں ہوسکتی ہے۔

توجہ کے مسائل کی علامات

٭لا پروائی کے باعث کام میں غلطیاں کرنا۔

٭کام یا کھیل میں مناسب توجہ برقراررکھنے میں ناکام رہنا۔

٭سکول کے کام یا دوسرے کاموں میں ہدایات کی پیروی نہ کرنا یا توجہ کسی اورجانب کرلینا۔

٭بات پورے دھیان سے نہ سننا۔

٭چیزوں کو ترتیب دینے میں مشکل پیش آنا۔

٭ان کاموں سے بھاگنا جہاں ذہنی صلاحیت استعمال کرنی پڑے۔

٭کام کو مکمل کرنے کے لیے درکارچیزیں گم کردینا۔

٭روزمرہ کے کاموں میں حاضر دماغی کا مظا ہرہ نہ کرنا۔

تیزپن کی علامات

اس سلسلے میں عموماً یہ علامات سامنے آتی ہیں

٭کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہاتھ پاؤں ہلانا یا انگلیاں چٹخانا۔

٭اکثراوقات کرسی چھوڑدینا جبکہ دوسرے بچے ابھی بیٹھے ہوں۔

٭ان جگہوں پرچڑھنایا دوڑنا جہاں یہ کام کرنا مناسب نہیں۔

٭زیادہ ترحرکت کرتے رہنا۔

٭اکثرغیرضروری طورپربولنا۔

٭سوال پورا ہونے سے پہلے بول پڑنا۔

٭اپنی باری کا انتظارنہ کرنا اوردوسروں کے درمیان بولنا۔

اگر کسی بچے میں یہ علامات چھ ماہ یا زیادہ عرصے تک موجود ہوں اوراس کی روزمرہ کی زندگی کو متا ثرکررہی ہوں توماہر نفسیات سے رابطہ ضرورکریں۔

مرض کی وجوہات

اس کی ابھی تک کوئی واضح وجہ تو سامنے نہیں آسکی تا ہم کچھ امورکو اس سے وابستہ خیال کیا جاتا ہے جو یہ ہیں

٭یہ مرض اکثران بچوں میں پایا جاتا ہے جن کے والدین اس کا شکار ہوں۔ یعنی یہ جینیاتی طورپربچے میں منتقل ہوتا ہے۔

٭ان بچوں کے دماغ کا بالائی حصہ نارمل بچوں کی نسبت کم کام کرتا ہے۔ بعض صورتوں میں اس تک خون کی فراہمی بھی کم ہوتی ہے۔مزیدبرآں ان بچوں کے کچھ دماغی حصے نارمل بچوں کی نسبت چھوٹے ہوتے ہیں۔

٭کم وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں میں بھی اس کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

٭دوران حمل شراب یا تمباکو نوشی کرنے والی خواتین کے بچے اس مرض کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

مرض کا علاج

اس کا علاج ادویات اورمشاورت دونوں طریقوں سے کیا جاتا ہے۔

٭سائیکاٹرسٹ کچھ ادویات تجویزکرتے ہیں جو دماغ کے صحیح طرح سے کام نہ کرنے والے حصوں کو متحرک کرتی ہیں۔ یہ ادویات لمبے عرصے تک لینا ہوتی ہیں تاکہ ان علامات میں کمی آسکے۔ انہیں شروع کرنے سے پہلےمعالج سےمکمل معلومات لینا ضروی ہے۔

٭ادویات کے ساتھ نفسیاتی علاج بھی اہم ہے۔ اس میں بچے کی علامات یا مسائل کو کم کرنے کے لیے والدین کو تربیت دی جاتی ہے۔انہیں سکھایا جاتا ہے کہ جب بچہ بہتر طرزعمل کا مظاہرہ کرے تو اسے کیسے شاباش دی جائے یا تعریف سے مثبت رویے کو مستحکم کیا جائے۔ سی طرح بچہ ایسا نہ کرے توپھرکیا کرنا ہے۔

کرنے کے کام

٭اس مسئلے کےشکار بچوں کو سنبھالنا کافی مشکل کام ہے۔اس لیے والدین صبراورحوصلے سے کام لیں۔

٭اپنے بچے کا دوسرے بچوں سے موازنہ مت کریں کیونکہ وہ ایسا جان بوجھ کرنہیں کررہا۔

٭بچے کی حوصلہ افزائی کریں ۔اسے دن بھر کا شیڈول بنا کر دیں اوراس پرعمل کرنے میں مدد کریں۔

٭جب بچہ اچھا رویہ اپنانے کی کوشش کرے توتعریف کریں اورانعام دیں۔

٭سونے سے پہلے ٹی وی وغیرہ نہ دیکھنے دیں۔ سونے کے کمرے کو پرسکون رکھیں۔

٭اگر کوئی دقت ہو تو ماہرنفسیات سے مدد لیں۔

Attention Deficit Hyperactivity Disorder, symptoms of ADHD, ADHD treatment

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x