• Home
  • امراض
  • سردیوں میں دمہ کیسے بچیں،کیسے نپٹیں

سردیوں میں دمہ کیسے بچیں،کیسے نپٹیں

430

سردی کا موسم ہو‘ٹھنڈی ہوا چل رہی ہو اور ساتھ ڈرائی فروٹس ہوں تو لطف ہی آجاتا ہے ۔ تاہم کچھ لوگوں کے لئے یہ موسم تکلیف دہ ہوتا ہے‘ اس لئے کہ اس میں انہیں سانس کے مسائل گھیر لیتے ہیں۔ ان میں سے ایک دمہ ہے جس پر شفاانٹرنیشنل ہسپتال کے ماہرامراض سینہ ڈاکٹر سہیل نعیم سے گفتگو کی روشنی میں تحریرکردہ معلومات افزاءمضمون
’دم‘ فارسی میں سانس کو کہتے ہیں۔ چلتی سانسیں زندگی کی علامت ہیں۔ جس طرح جسم کے دیگر اعضاءکو بیماریاں لگ جاتی ہیں‘ اسی طرح سانس سے متعلق اعضاءخصوصاً پھیپھڑے بھی بیمار پڑ جاتے ہیں۔دمہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں مریض نارمل طریقے سے سانس لینے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔ یہ مرض بڑوں اور بچوں‘ دونوں کو لاحق ہوسکتا ہے۔

دمہ کیا ہے
دمہ یونانی لفظ ”ازما “(Azma) سے ماخوذ ہے جس کے لفظی معانی ”سانس کا پھولنا “ہے۔یہی لفظ آگے چل کر استھما (asthma) بنا۔ اس مرض میں مریض کی سانس پھولتی ہے اور وہ ہانپنے لگتا ہے جس کی وجہ سے اس بیماری کو یہ نام دیاگیاہے۔

اس بیماری کی صورت میں سانس لینے میں دقت کا سبب سانس کی نالیوں کا سکڑ کر تنگ ہوجانا ہے۔ اس وجہ سے سانس لیتے وقت خرخراہٹ پیدا ہوتی ہے اورچھاتی پر دباو¿ محسوس ہوتا ہے۔ دمے کا حملہ شروع ہوتے ہی مریض بے قراری کی حالت میں ہانپنے لگتا ہے،اس کے چہرے پر پریشانی کے آثارنمایاں ہوجاتے ہیں اور وہ تازہ ہوا (آکسیجن) کے لئے ہاتھ پاو¿ں مارتا محسوس ہوتا ہے۔چند لمحوں کے بعد وہ بیٹھنے یا لیٹنے کی ایک خاص پوزیشن اختیار کر لیتا ہے جس سے اسے قدرے راحت ملتی ہے۔اگر وہ دوا استعمال کرلے تو تھوڑی دیر بعد پر سکون ہوجاتاہے۔

دمے کا حملہ کسی بھی وقت اور کسی بھی وجہ سے ہو‘مناسب علاج ملنے پر مریض کو فوری راحت ملتی ہے۔تاہم کبھی کبھی مریض اس مرض کے پے در پے حملوں کا شکار ہوجاتا ہے۔اسے دمے کا شدید دورہ (status asthmaticus) کہتے ہیں۔یہ ہنگامی صورت حال ہوتی ہے جس کا علاج ہسپتال میں اورڈاکٹر کی زیر نگرانی کیا جانا ضروری ہے ورنہ یہ کیفیت جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔

دمے کی اقسام
سبب کے تناظر اس مرض کی دو اقسام ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:
٭ الرجی والادمہ(allergic asthma)
٭ الرجی کے بغیر دمہ(non-allergic asthma )

الرجی والا دمہ
دمے کی یہ قسم بہت عام ہے جس کی ابتدا بچپن سے ہوتی ہے۔ اس میں مبتلا بچے یا ان کے قریبی رشتہ دار کسی خاص چیز سے الر جی کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہمارے ملک کے10 سے12فی صد بچے اور پانچ سے سات فی صد بڑے اس بیماری میں مبتلا ہیں۔بچوں میں یہ مرض بعد میں طویل المعیاد ہو جاتا ہے یا سن بلوغت میںخود بخود غائب ہوجاتاہے۔
الرجی کی وجہ سے دمہ جن چیزوں سے ہوتا ہے ‘ ان میں پھول، گھروں کے اندر گرد وغبار میں موجود کیڑے (dust mites) ، جانوروں کی گندگی ،تکیوں اورلحافوں میں بھرے پرندوں کے پر ،مختلف غذائیں اور کیمیائی مادے قابل ذکر ہیں۔یہ چیزیں سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں جاکر الرجی کا سبب بنتی ہےں جن سے دمے کا حملہ ہوجاتا ہے۔

الرجی کے بغیر دمہ
ایسے مریضوںکے دمے کی وجہ الرجی نہیں بلکہ وائرس سے ہونے والا انفیکشن ہوتا ہے جو سال بھر یا اس سے زیادہ عرصے تک رہتا ہے۔ دمے کی یہ قسم بڑی عمر کے افراد کو زیادہ متاثر کرتی ہے۔خاص طور پر خواتین اس کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔

دمہ‘ احتیاطی تدابیر
بچوں کی احتیاطیں:
موسم سرما کے آغاز میں درجہ حرارت میں آنے والی تبدیلی کی وجہ سے بچوں میں دمے کے حملوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے آپ انہیں محفوظ رکھ سکتے ہیں:
٭بچوں کو سردی کے موسم میں‘ خاص طور پر صبح اورشام کے اوقات میں باہر جانے کی اجازت بالکل نہ دیں۔
٭ بچوں کو فضائی آلودگی،دھوئیں،بو،غلاظت اور کیڑے مکوڑوں سے دور رکھیں۔
٭ایسے بچوں کو لکڑی اورکوئلے سے جلنے والی انگیٹھیوںسے دور رکھیں۔ان بچوں کے لئے حمام یا ہیٹر کی گرمی مناسب رہتی ہے۔
٭ایسے بچوں کوسردیوں میں سُوپ اور دیگر مائع جات کا زیادہ سے زیادہ استعمال کروائیں تاکہ ان میں خشکی پیدا نہ ہوپائے۔
بڑوں کی احتیاطیں:
دمہ کے شکاربڑی عمر کے مریض مندرجہ ذیل حفاظتی تدابیر اختیار کر کے اس مرض سے کافی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں:
٭ سردی کے موسم میں( خاص طور پر صبح اورشام کے اوقات میں) باہر جانے سے گریز کریں اور اگر ایسا کرنا ضروری ہو تو چہرہ مفلر وغیرہ سے ڈھانپ لیں۔
٭تمباکو اور سگریٹ نوشی سے مکمل طور پر پرہیز کریں ۔ جس کمرے میں دوسرے افراد تمباکو نوشی کر رہے ہوں ‘وہاں ہر گزنہ بیٹھیں ۔
٭ابلا ہوا پانی اور دوسرے مائع جات کا وافر مقدار میں استعمال کریں۔
٭ رات کو کھانے کے کم از کم دو گھنٹے بعد ہی سونے کے لئے لیٹیں۔
٭ٹھنڈے علاقوںکے رہنے والے افراد ٹھنڈی ہوا یا سردی سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں‘ ورنہ ان کی سانس کی نالیاں سکڑ کر تنگ ہوجائیں گی اور ان کے اندرونی حصوں میں بلغم کی تہہ بھی بیٹھ جائے گی۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ انہیں نہ صرف ہموار طور پر سانس لینے میں دشواری ہوگی بلکہ دمے کے حملوں میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔

گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ موسم سرما میں دمے کا مرض بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ آپ ٹھنڈی ہوا اور سردی سے جتنا ہوسکے خود کو محفوظ رکھیں۔ اس کے علاوہ گردو غبار اور دھوئیں سے بچیں اور متوازن غذا کھائیں۔ اگر گھر میں کسی شخص کو انفیکشن ،پرانی کھانسی یا شدید دمہ ہو تو جلد از جلد ڈاکٹر سے رجوع کریں، اس لئے کہ دمہ ہے تو عام سی بیماری لیکن اگر اس کی بروقت تشخیص اور علاج نہ کروایا جائے تو یہ شدید مسائل اوربسااوقات جان کے خطرے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔