اُف! گھٹنے میں درد

529

گھٹنوں کے درد کا سنتے ہی ذہن میںبزرگوں کا خیال آتا ہے‘ اس لئے کہ یہ مرض ان میں زیادہ پایا جاتا ہے لیکن آج کل اس کی شکایت جوانوں میں بھی عام دیکھنے میں آرہی ہے۔ اس دردکی نوعیت اور شدت مختلف لوگوں میںمختلف ہوتی ہے جس کی وجہ اس کا باعث بننے والے اسباب کا مختلف ہونا ہے ۔ماہرین سے گفتگوو¿ں کی روشنی میںگھٹنے کے درد‘ اس کی اقسام ‘ بچاو¿ کی تدابیر اور علاج پر صباعمران کی معلوماتی تحریر

ہمارے جسم کے جوڑوں کی ساخت کچھ ایسی ہے کہ یہ باآسانی حرکت کرسکتے ہیں۔ گھٹنے کا جوڑ اہم ترین جوڑوں میں سے ایک ہے جو چلنے‘ بھاگنے اور کھیلنے کے دوران پورے جسم کو سنبھالتا ہے۔ یہ اُس مقام پر واقع ہوتا ہے جہاں ران کی ہڈی(Femur) اور پنڈلی کی بڑی ہڈی (Tibia) آکر ملتی ہیں۔ اس جوڑ کے اوپر ایک کیپ ہوتی ہے جسے گھٹنے کی چوڑی ہڈی (Patella)کہتے ہیں۔ران کی ہڈی اورگھٹنے کی چوڑی ہڈی کے درمیان ایک کشن نما جوڑ (Meniscus) پایاجا جاتا ہے جو دونوں ہڈیوں کو آپس میں رگڑ سے بچاتا ہے۔
جب یہ جوڑ گھس جاتا ہے تو گھٹنے کو حرکت کرنے میں دقت ہوتی ہے اور اس میں درد بھی ہوتا ہے۔ یہی جوڑ ہمارے جسم کاسب سے زیادہ وزن اٹھاتاہے۔ اگر اس میں درد شروع ہوجائے توفرد کے لئے چلنا پھرنا اور معمول کے کام انجام دینا مشکل ہوجاتا ہے۔ اور اگر یہ کیفیت زیادہ عرصہ تک جان نہ چھوڑے تو فرد بستر یا کرسی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔

گھٹنے کے درد کی عمومی وجوہات
آفتاب میڈیکل کمپلیکس فیصل آباد کے ماہرامراض ہڈی و جوڑ( آرتھوپیڈک سرجن)ڈاکٹر ظفر اعوان کے مطابق گھٹنے کے درد کا باعث بننے والے عوامل میں چوٹ لگنا‘وزن کی زیادتی‘ خواتین میں ماہانہ ایام کی بندش (menupause)‘ ورزش کی کمی‘ بڑھتی ہوئی عمر‘کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی‘غیرمتوازن غذا‘ ہڈیوں اور پٹھوں کی کمزوری اور کچھ طبی وجوہات شامل ہیں۔

درد کی اقسام
گھٹنے کا درد تمام مریضوں میں یکساں نہیں۔ مثلاً کچھ لوگوں کے صرف ایک جبکہ بعض کے دونوں گھٹنوں میں درد ہوتا ہے۔ کچھ مریضوں کو شدید درد ہوتاہے جبکہ کچھ میں یہ قابل برداشت حد میں رہتاہے اور صرف چلنے پھرنے یا زیادہ دیر کھڑے رہنے سے یہ شکایت ہوتی ہے۔ اس درد کی کچھ اقسام مندرجہ ذیل ہیں:
٭ آسٹیو آرتھرائٹس(osteoarthritis)کی وجہ سے درد گھٹنے کے جوڑ کے رگڑ کھانے یاگھس جانے کے باعث ہوتا ہے۔
٭گنٹھیا (Gout)کے باعث ہونے والے درد کی وجہ گھٹنے کے جوڑوں میں یورک ایسڈ کے کرسٹلز کا بن جانا ہے۔
٭جوڑوں کا پتھرانے (Rheumatoid Arthritis) کے باعث ہونے والے گھٹنے کے درد میں جسم کا مدافعتی نظام خود ہی جسم کے جوڑوں کو نقصان پہنچانے لگتا ہے۔ ا س کی وجہ سے سوزش‘ جوڑ کی ہیئت میں تبدیلی اور ہڈی کی شکست وریخت جیسے مسائل سامنے آتے ہیں جو گھٹنے میں شدید درد کا باعث بنتے ہیں۔
٭پھوڑے کی سوزش(Bursitis)والا درد گھٹنے پر چوٹ لگنے ‘ غلط طریقے سے گھٹنا موڑنے یا ان پر اچانک زیادہ بوجھ ڈالنے سے جنم لیتا ہے۔
٭ جوڑوں کے درمیان ایک مادہ ہوتا ہے جسے لعاب مفاصل (synovial fluid)کہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ مادہ جوڑسے نکل کر گھٹنے کے پچھلے حصے میں رسولی بنا لیتا ہے جسے گھٹنے کی پچھلی جانب بننے والی فاسد مادے کی تھیلی(Baker’s Cyst)کہتے ہیں۔ یہ تھیلی بھی گھٹنے کے درد کا باعث بنتی ہے۔
٭ کرکری ہڈی گھٹنے کو لچک فراہم کرتی اور جھٹکا لگنے کی صورت میں اس پر پڑنے والے دباﺅ کو روکتی ہے ۔ اس کے پھٹنے (meniscal tear) یا اسے نقصان پہنچنے سے گھٹنے میں درد ہوتا ہے۔
٭ کھچاﺅ ‘جھٹکا لگنے اور انفیکشن کے باعث ہونے والے درد بھی عام ہے۔

مرض کا علاج
گھٹنے کے درد کی قسم اوراس کے سبب کی بنیاد پر ادویات‘ فزیوتھیراپی ‘ انجکشن اورآخری حل کے طور پر آپریشن تجویز کیاجاتاہے۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے :

ادویات
ادویات میں کھانے اور گھٹنے پر لگانے والی‘ دونوں طرح کی ادویات سے مدد لی جاسکتی ہے۔یہ دوائیں سوزش کم کرنے کے ساتھ ساتھ درد کے احساس کو بھی کم کرتی ہیں۔ بعض اوقات ا ن سے معدے کے مسائل‘ دل کا دورہ پڑنے‘ حتیٰ کہ فالج کا بھی امکان ہوتا ہے‘اس لئے انہیں ڈاکٹری مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہئے۔
گھٹنوں کے درد سے نجات کے لئے بعض اوقات سٹیرائیڈز کا استعمال بھی کیاجاتا ہے جو انجیکشن کی صورت میںجوڑ کے درمیانی خلاءمیں لگایاجاتا ہے۔ ڈاکٹرظفر کہتے ہیں کہ عام تاثر یہ ہے کہ سٹیرائیڈز شدید نقصان دہ ہیں‘ حالانکہ یہ پورا سچ نہیں ہے:
”اگر ان کا ضرورت سے زیادہ استعمال کیا جائے تو بُرے ضمنی اثرات ظاہر ہوتے ہیں‘ تاہم انہیں مناسب وقت پر اور مناسب مقدار میں استعمال کیاجائے تو یہ فائدہ مند چیز ہیں۔ اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ مستقل علاج نہیں ‘ تاہم ان سے عارضی طو ر پر سوجن اور درد سے نجات ضرور مل جاتی ہے۔“

فزیوتھیراپی
ورزش گھٹنوں کے درد سے نجات میں معاون ثابت ہوتی ہے لیکن ہر ورزش اس کے لئے موزوں نہیں۔ اس لئے یہ فزیوتھیراپسٹ یا ڈاکٹر کے مشورے سے کرنی چاہئے۔

گھٹنے کی تبدیلی
انتہائی تکلیف کی صورت میں آخری حل گھٹنے کی تبدیلی ہے۔ اس آپریشن میں سرجن ران کی ہڈی اور پنڈلی کی بڑی ہڈی کے متاثرہ حصے کو کاٹ کر مضبوط دھاتی جوڑ لگادیتے ہیں۔ اس کے بعد مریض درد محسوس کئے بغیر چل پھر سکتا ہے۔
آپریشن کے بعد کچھ ہفتوں تک زخم کا درد باقی رہتا ہے جسے دوا اور ورزش سے کنٹرول کیاجاتا ہے۔ جب تک ٹانگیں خود اسے نہیں سنبھال سکتیں‘ تب تک مریض کو واکر کی مدد سے چلایاجاتا ہے۔
گھٹنے کی تبدیلی سے مریض اپنے روزمرہ کے کام کاج سرانجام دینے کے قابل ہوجاتا ہے۔تقریباً پانچ دن بعد مریض کو سیڑھیاں چڑھنے کو کہا جاتا ہے اور دیکھاجاتا ہے کہ کیا وہ اپنی ٹانگ کو اُوپر اٹھانے اوراسے 90 ڈگری تک موڑنے کے قابل ہوا ہے یا نہیں۔ “

بچاﺅ کی تدابیر
مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے بڑی حد تک گھٹنے کے درد سے بچا جا سکتا ہے :
٭اس مرض کے زیادہ شکار موٹے افراد ہوتے ہیں۔ وزن کم ہونے سے گھٹنے پر دباﺅ میں کمی آتی ہے۔ وزن کم کرنے کے لئے واک‘ جاگنگ اور ورزش کے ساتھ ساتھ متوازن غذا بھی کھائیں جو آپ کی ہڈیوں اور اعصاب کو مضبوط بنائے اور وزن بھی کم کرے ۔
٭جن لوگوں کے گھٹنوں میں درد ہو‘ان کی رانوں کے اگلے حصے میں موجودچاروں پٹھے کمزور پڑجاتے ہیں جس کی وجہ سے ان تک خون کی ترسیل سست ہوجاتی ہے۔ متحرک رہنے سے یہ پٹھے مضبوط ہوتے ہیں‘اس لئے اپنے چھوٹے موٹے کام خود کریں اور اپنے جوڑوں کو متحرک رکھیں۔تاہم سیڑھیاں چڑھتے وقت بھاگنے سے گریز کریں۔
٭اپنے سونے‘اُٹھنے‘کھڑے ہونے اور بیٹھنے کے انداز کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کہیں ان سے آپ کے گھٹنوں پر بےجا دباﺅ تو نہیں پڑتا۔ زیادہ دیر تک ایک ہی پوزیشن میں مت بیٹھیں۔
٭سوتے وقت گھٹنوں کے درمیان تکیہ رکھیں۔
٭ واش روم میں کموڈ اور نماز کے لئے کرسی استعمال کریں۔
٭ ایسا آرام دہ جوتا منتخب کریں جو چلتے وقت آپ کے گھٹنے پر کم سے کم دباﺅ ڈالے۔

گھٹنے کے درد کی ورزشیں
(ڈاکٹر سماویہ طارق‘ فزیوتھیراپسٹ ‘فیصل آباد)
1۔گھٹنے کو اکڑا کر پنجے کو پانچ سیکنڈ کے لئے نیچے دبائیں۔پھر گھٹنے کو اکڑا کر پنجے کو پانچ سیکنڈ کے لئے اُوپر کی طرف کھینچیں۔ اس کے بعد ٹانگ کو اُوپر اُٹھائیں اور پانچ سیکنڈ تک روکے رکھیں۔ پھر نیچے لائیں اور پانچ سکینڈ تک روکے رکھیں۔ اس ورزش کو 10 سے 15 بار کریں۔
2۔کرسی پر بیٹھ کر پاﺅں زمین پر رکھ لیں۔اپنے ہاتھوں کی مٹھی بنا کر گھٹنوں کے درمیان رکھ کر 30 سیکنڈ تک دبائیں۔ یہ عمل 10 سے 15بار کریں۔
3۔گھٹنے کو جہاں تک موڑ سکیں ‘موڑیں اور 30سیکنڈ تک اسی پوزیشن میں رہیں۔ پھر آہستگی سے ٹانگ کو سیدھا کریں۔ یہ عمل 10 بار دہرائیں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts