ہارمونز کو جانیے

604

اگر کسی لڑکی کے چہرے پر بال نکلنے لگیں یا کسی مرد کی آواز پتلی ہوتو وہ پریشان ہو جاتا ہے اور لوگ بھی اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ایسے میں وہ سوچنے لگتا ہے کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں ہے اور کیا اس کا کوئی علاج بھی ہے؟ ان مسائل کا تعلق ہارمونز سے ہے ۔جسم میں ان کی اہمیت‘ کنٹرول اور علاج کے موضوع پر کریسنٹ میڈیکل کمپلیکس لاہور کے ڈاکٹر جاوید شاہ آفتاب کی ایک معلوماتی تحریر

ہمارے جسم میں ہارمونز کا کردار ایک قاصدکاساہے جو پیغام کو ماخذ (source) سے ٹارگٹ خلیے تک لے کر جاتے ہیں اور اعضاءکو بتاتے ہیں کہ انہیں کیا کام انجام دینا ہے۔ ان کا کام رحم مادر سے شروع ہو کر آخری سانس تک جاری رہتا ہے۔ قدکا چھوٹا رہ جانا‘ وزن کا بڑھنا‘ چہرے پر بال، تھائی رائیڈ یا انسولین کا کام نہ کرناوغیرہ جیسے بہت سے مسائل کا تعلق ہارمونز سے بھی ہوتا ہے۔ مزاج کے اتارچڑھاﺅ‘ مخصوص جنسی خواص اورذہنی تناﺅ جیسی علامات کے علاوہ ہمارے پٹھوں‘ اعصاب‘ ہڈیوںکے ڈھانچے‘ سانس لینے یا خون کی گردش کے نظاموں کی فعالیت یا عدم فعالیت کادارومدار بھی ہارمونز پر ہی ہوتا ہے۔

ہارمونزکیا ہیں؟
ہارمونز بنیادی طور پرکچھ رطوبتیں ہیں جن کا اخراج ہمارے جسم میں موجود مخصوص غدود سے ہوتا ہے۔ ےہ رطوبتیں ہر وقت ہمارے خون میں گردش کرتی رہتی ہیں۔ ہمارا جسم بیرونی ردِ عمل حواسِ خمسہ کی مدد سے ظاہر کرتا ہے جبکہ اندرونی اعضاءکو ہارمونز ہی بتاتے ہیںکہ انہوںنے کیا کام کرنا ہے۔ جسم کو متوازن رکھنے کے لئے وقتی طور پر ان (ہارمونز) میںکمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور مناسب ایڈجسٹمنٹ کے بعد ےہ خود ہی نارمل ہو جاتے ہیں۔
غدود انسانی جسم کے اندر مختلف جگہوں پر پائے جاتے ہیں اور ان سب کا ”بِگ باس‘ پچوٹری گلینڈ ہے۔ یہ گلینڈ اعصابی نظام کا حصہ ہے اور ہارمونز کے پورے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کا براہِ راست تعلق دماغ کے اس حصے سے ہے جو ہائپو تھیلمس (hypothalamus) کہلاتاہے۔ ہما را شعور‘ لاشعور‘ سوچیں‘ افکار اور طرزِ زندگی وغیرہ دماغ کے اسی حصے کے ذریعے پچوٹری گلینڈ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ےہی وجہ ہے کہ ہمارے ہارمونز کے مسائل کا بنیادی تعلق دماغ سے ہے۔

دوسرا اہم ترین غدود ہماری گردن کے سامنے والے حصے میں پایا جاتاہے جسے تھائی رائیڈ کہتے ہیں۔ اس کے بعد لبلبہ ہے جو ہمارے جسم میں انسولین نامی ہارمون خارج کرتا ہے۔ اس سے تمام خلیوںکو گلوکوز ملتاہے اور خون میں اس کی مقدار کنٹرول میںرہتی ہے۔ تھائی رائیڈ کے ساتھ موجود ایک اور غدود ( پیرا تھائیرائیڈ) سے خارج کردہ ہارمون نمکیات اورکیلشیم کو کنٹرول کرتا ہے۔گردوں کے اوپر دو چھوٹے غدود ہیں جو ایڈرینل گلینڈز (adrenal glands)کہلاتے ہیں۔ یہ ہمارے جنسی فرق کو قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ عورتوں کی بیضہ دانی(ovary) اور مردوں کے خصئے (testis) بھی اسی نظام کا حصہ ہیں۔

ہارمونز میں تبدیلی
عمر کے مختلف مراحل میں ہارمونز کا توازن بدلتا رہتا ہے۔کبھی ایک تو کبھی دوسراگلینڈ زیادہ متحرک ہو جاتا ہے۔ بچہ جب رحمِ مادر میں ہوتا ہے تواس کے وہ ہارمونز متحرک ہو جاتے ہیں جو اسے مخصوص جنسی ساخت بخشتے ہیں۔ یوں اس کی ایک بچے یا بچی کے طور پر نشوونما ہوتی ہے اور جب وہ دنیا میں سانس لیتا ہے تو اس کے ےہ ہارمونز کام کرنا چھوڑدیتے ہیں یا ان کی پیداوار کم ہو جاتی ہے اور پھر بلوغت کی عمر تک ےہ اتنے مو¿ثر طریقے سے کام نہیں کرتے۔

پچوٹری گلینڈ کا کام بھی ماں کے پیٹ سے ہی شروع ہوتا ہے اور تاعمر جاری رہتا ہے۔ تھائی رائیڈ اور ایڈرینل گلینڈ بھی ساری زندگی کام کرتے رہتے ہیں۔ جیسے جیسے انسان بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے‘ ویسے ویسے گلینڈز کا عمل بھی متاثر ہوتاجاتا ہے۔ بڑھتی عمر میں ان کے کام کرنے کی رفتار اور مقدار بھی کم ہو جاتی ہے۔

ےہاں ایک اورقابل ذکر بات ےہ ہے کہ ہرانسان میں دونوں طرح کے ہارمونز ایک خاص توازن میں ہوتے ہیں۔یعنی ہر مردکے اندر زنانہ اور ہر عورت کے اندر مردانہ ہارمونز بھی موجودہوتے ہیں۔ اگرزندگی کے کسی حصے میںےہ توازن بگڑ جائے تو جس ہارمون کی مقدار زیادہ ہوگی‘ اس کی علامات ظاہر ہونے لگیں گی۔ مثال کے طور پر اگر بچیوں کے اندر مردانہ ہارمونز کی مقدار بڑھ جائے گی تو ان کے چہروں پر بال آنے لگیں گے، آواز موٹی ہوجائے گی، سر کے بال جھڑنے لگیں گے اورجلد موٹی اور کھردری ہوجائے گی اور اس قسم کی دیگر تبدیلیاں ظاہر ہونے لگیں گی جو مردانہ ہارمونز کا خاصہ ہیں۔اسی طرح اگر کسی مرد کے اندر زنانہ ہارمونز بڑھ جائیں تو اس کی چھاتیوں کی بڑھوتری شروع ہو جائے گی،آواز باریک ہوجائے گی اور اس کا اثر اس کے بالوں پر بھی پڑے گا۔

اگر ہارمونز کا ےہ توازن زمانہ بلوغت میں ڈسٹرب ہو جائے تو بچوں کے جسم کی بحیثیت لڑکا یا لڑکی ساخت بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اس لئے سات سے آٹھ سال تک کی عمر میں ہارمونز کا چیک کرانا چاہئے تاکہ ماں باپ کو پتہ چل جائے کی ان کے بچے کی نشوونما صحیح ہورہی ہے یا نہیں۔ ےہ عمر کا وہ حصہ ہے جس میں ہارمونز کم رہ جائیں تو جسمانی ساخت پر اثر پڑتا ہے۔ قد کا چھوٹا رہ جانا آج کل ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جو ہارمونز کی کمی کے باعث بہت سے بچوں کو درپیش ہے۔

سکریننگ اور علاج
جسم میں ہارمونز کا ےہ نظام بہت سادہ ہے۔ غدود رطوبتوں کوخارج کرتا ہے جنہیں خون میں موجود پروٹین ٹارگٹ خلیوں یعنی ان مخصوص اعضاءتک لے جاتے ہیں جہاں ان کا اثر ہونا ہے۔ مثلاً اووریز نے ایسٹروجن ہارمون خارج کیا تو وہ خون کے ذریعے چھاتیوں‘ جلد‘ بالوں اور جسم میں جہاں جہاں اس کی ضرورت ہو گی وہاں تک پہنچ جائے گا۔ جب پچوٹری گلینڈ تھائی رائیڈ ہارمون خارج کرتا ہے تو وہ خون ہی کے ذریعے گردن‘شریانوں‘ دل‘ پٹھوں اور دیگر اعضاءتک پہنچتا ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک طرف وہ خلیہ ہے جو رطوبت بنا رہا ہے تو دوسری طرف ٹارگٹ خلیہ ہے جس پر رطوبت اثر انداز ہو رہی ہے۔خون میںبہتی ان رطوبتوں کا کچھ حصہ متحرک جبکہ کچھ پروٹین کے ساتھ جڑا ہوا اورغیر متحرک ہوتا ہے۔ اگر ہارمونز کا نظام نارمل ہو تو متحرک حصہ اور پروٹین‘ دونوں کا سائز یکساں ہوتا ہے۔ اگر متحر ک حصے کا سائز چھوٹا جبکہ پروٹین کا سائز بڑا ہو‘ تو بھی ہارمونز کی بیماری سامنے آ سکتی ہے۔
اچھی صحت اور مختلف مسائل سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہارمونز کے نظام اور اس کی فعالت کے بارے میں جانا جائے جس کے لئے سکریننگ کرانا ضروری ہے۔ اس کا طریقہ بڑا آسان سا ہے جس میں خون کے ایک ہی نمونے سے تمام ہارمونز کے بارے میں اندازہ لگا لیا جاتا ہے کہ مسئلہ گلینڈ کا ہے، رطوبت کایا اس کے متحرک اور غیر متحرک حصے کے سائز کا ہے۔ اگربروقت تشخیص ہوجائے اور علاج کرا لیا جائے تو انسان بہت سی پیچیدگیوں سے بچ سکتا ہے۔