ایشیائی امریکن خواتین میں بریسٹ کینسر کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ یہ اضافہ خاص طور پر 50 سال سے کم عمر خواتین میں نمایاں ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو کے اعداد و شمار کے مطابق 2000 کے بعد اس عمر کی خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح تقریباً 50 فیصد بڑھی ہے۔ ٹرپل نیگیٹو بریسٹ کینسر سمیت تیزی سے بڑھنے والی اقسام میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ چینی اور ویتنامی خواتین میں یہ رجحان زیادہ نمایاں رہا۔
ماہرین کے مطابق صرف زیادہ سکریننگ اس اضافے کی مکمل وضاحت نہیں کرتی۔ مغربی طرز کی غذاؤں کا بڑھتا استعمال اور کم جسمانی سرگرمی ممکنہ عوامل ہوسکتے ہیں۔ خواتین کا زیادہ عمر میں ماں بننا، کم بچے پیدا کرنا اور کم مدت تک دودھ پلانا بھی ممکنہ عوامل میں شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایشیائی خواتین میں بریسٹ ٹشو زیادہ گھنا ہوسکتا ہے۔ اس وجہ سے میموگرام میں ٹیومر کی نشاندہی مشکل ہوسکتی ہے۔ زبان کی رکاوٹیں اور بریسٹ کینسر کے کم خطرے کا تاثر بھی سکریننگ میں تاخیر کا سبب بن سکتا ہے۔
انہوں نے مختلف ایشیائی گروہوں کا الگ ڈیٹا جمع کرنے اور ثقافتی ضروریات کے مطابق آگاہی و سکریننگ بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔